Monday , July 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو اخبارات کو صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ ملی خدمات کو اہمیت دینے کا مشورہ

اردو اخبارات کو صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ ملی خدمات کو اہمیت دینے کا مشورہ

مسلمانوں میں سماجی اور تعلیمی شعور بیداری ضروری ، آئینہ چشم کے خصوصی شمارہ کا رسم اجراء ، جناب زاہد علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 20 ۔ مارچ : ( دکن نیوز ) : جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کہا کہ اردو اخبارات کو چاہئے کہ وہ اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ملی خدمات کو نمایاں اہمیت دیں اور مسلمانوں میں تعلیمی اور سماجی شعور بیدار کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اردواخبارات نے تحریک آزادی ہو کہ دیگر قومی مسائل اردو داں عوام کی رہنمائی کی ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے کل یہاں اردو ہال حمایت نگر میں منعقدہ جناب احمد صدیقی مکیش کی زیر ادارت ہفتہ وار ’ آئینہ چشم ‘ کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی شمارہ کی رسم اجراء انجام دینے کے بعد مخاطب تھے ۔ پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر سکریٹری تلنگانہ اردو اکیڈیمی ، جناب عابد صدیقی ، جناب ایم اے نعیم ( امریکہ ) ، عبدالرحیم خاں ، جناب ایم اے قدیر نے مہمانان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔ جناب زاہد علی خاں نے مزید کہا کہ چھوٹے اخبارات کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں خاص طور پر وسائل کی کمی کے باعث پابندی سے اخبار نکالنا اتنا آسان کام نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے میقاتی جرائد اور اخبارات کو بہت کم اشتہارات ملتے ہیں حالانکہ ان اخبارات میں خبروں سے زیادہ مضامین اور تبصرے شائع ہوتے ہیں ۔ انہوں نے جناب احمد صدیقی مکیش کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نامساعد حالات کے باوجود گذشتہ 30 برسوں سے اخبار شائع کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اردو اخبارات کی حوصلہ شکنی ایک گہری سازش کا نتیجہ ہے جو فرقہ پرست قوتوں کے زیر اثر ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ آج کمپیوٹر اور ٹکنالوجی کی ترقی کے باعث ساری دنیا میں میڈیا کے ذریعہ ترسیل و تشہیر کے روشن امکانات پیدا ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے طلباء اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کمپیوٹر سیکھیں اور کامیاب زندگی کے لیے کمپیوٹر سے استفادہ کریں ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہندوستان میں کشمیر سے کنیا کماری اور پنجاب سے بنگال تک اردو بولنے والوں کی ایک بڑی تعداد بستی ہے ۔ خود حیدرآباد میں بھی اردو زبان کے فروغ کے لیے ماضی میں کئی تنظیموں اور اداروں نے نمایاں کام انجام دیا لیکن ادھر چند برسوں سے انجمن ترقی اردو ، ادارہ ادبیات اردو و دیگر ادارہ جات غیر کارکرد ہوکر رہ گئے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کی بقاء کے لیے ان اداروں کو از سر نو کارکرد بنایا جایا اور نئی نسل کے رشتے کو اردو زبان سے جوڑا جائے ۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کہا کہ جناب احمد صدیقی مکیش اپنی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ایک اچھے صحافی بھی ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر جناب احمد صدیقی کی کوششوں اور کاوشوں پر انہیں مبارکباد پیش کی ۔ جناب عابد صدیقی نے کہا کہ جناب احمد صدیقی کی زندگی کا سفر تہذیبی پروگرامس سے شروع ہوا اور آج انہوں نے سماجی خدمات کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا ۔ جناب عابد صدیقی نے چھوٹے اخبارات کے مالکین اور ایڈیٹرس کو مشورہ دیا کہ وہ حکومت کی جانبدارانہ پالیسی اور چھوٹے اخبارات کے ساتھ کی جانے والی نا انصافی کے خلاف متحد ہوجائیں اور سیاسی سطح پر اپنے مطالبات کی یکسوئی کریں ۔ ابتداء میں صحافی جناب ہادی رحیل نے خطبہ استقبالیہ میں احمد صدیقی مکیش کی خدمات کا ذکر کیا ۔ انہوں نے اس موقع پر اخبار سیاست کی تعلیمی ، سماجی خدمات کو خراج پیش کیا ۔ سالگرہ تقریب میں مختلف اصحاب اور تنظیموں کی جانب سے مہمانوں کے علاوہ جناب احمد صدیقی مکیش کی گلپوشی کی گئی ۔ ڈاکٹر مختار احمد فردین نے تہنیت پیش کی ۔ بعد ازاں ’ رات پھولوں کی بات پھولوں کی ‘ کے عنوان سے ایک رنگا رنگ تہذیبی پروگرام منعقد ہوا ۔ مسرس احسان صدیقی ، منیا دھر ، خان اطہر ، طلعت رحمن ، اور سلطان مرزا نے ساز پر فلمی گیت اور غزل پیش کئے ۔ جبکہ جناب احمد صدیقی مکیش نے آرکسٹرا پر مکیش کے گائے ہوئے گیت سناکر داد تحسین حاصل کی ۔ وجہہ صدیقی اور ساتھیوں نے آرکسٹرا پر سنگت کی ۔ جناب خیرات علی کوآرڈینٹر نے شکریہ ادا کیا ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT