Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو تعلیم کی موجودہ صورتحال افسوسناک

اردو تعلیم کی موجودہ صورتحال افسوسناک

جناب احمدرشید شروانی کی جناب نواب شاہ عالم خان کی رہائش گاہ پر خیرمقدمی تقریب
حیدرآباد ۔ 23 جولائی (راست) ماہرتعلیم جناب احمد رشید شروانی کی حیدرآباد میں آمد اور یہاں ان کے قیام کی مناسبت سے جناب نواب شاہ عالم خاں نے اپنی قیامگاہ واقع برکت پورہ پر ایک خیرمقدمی تقریب منعقد کی، جس میں حیدرآباد کی کئی ادبی اور علمی شخصیتوں نے شرکت کی۔ ابتداء میں مہمان خصوصی جناب احمد رشید شروانی اور ان کی اہلیہ محترمہ کا استقبال کرتے ہوئے نواب شاہ عالم خاں نے کہا کہ جناب احمد رشید شروانی یوپی کے ایک معزز علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اور آپ کے بزرگوں کی قومی خدمات قابل قدر ہیں۔ اس غیر رسمی تقریب کی غرض و غایت یہ ہیکہ حیدرآباد کی علمی اور ادبی شخصیات ان کے خیالات سے مستفید ہوں اور شروانی حیدرآباد کی بعض علمی ہستیوں سے متعارف ہوں۔ شروانی نے اپنی تقریر میں مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اردو تعلیم کی موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ اسکول میں زیرتعلیم تھے تو اردو ذریعہ تعلیم کی جماعتوں میں طلبہ کثیر تعداد میں ہوتے تھے۔ آج معاملہ برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج اردو بولنے والے اپنی زبان کے تحفظ کا تہیہ کرلیں تو دنیا کی کوئی طاقت اردو کے راستے میں حائل نہیں ہوسکتی لیکن اگر اردو والے خود اپنی زبان سے بے حسی برتیں تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اردو کو اس کا جائز مقام نہیں دلا سکتی۔ ممتاز مزاح نگار مجتبیٰ حسین نے احمد رشید شروانی کا تعارف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ احمد رشید شروانی اردو کیلئے ہمہ تن مصروف رہے ہیں اور نہایت دلیرانہ انداز سے اردو کی تعلیم اور اردو کی نصابی کتب کی بروقت طباعت کیلئے کامیاب کوشش کی ہے۔ مدیر شگوفہ ڈاکٹر مصطفی کمال نے حیدرآباد کی گنگاجمنی تہذیب کا تذکرہ کیا اور نواب شاہ عالم خاں کی سرپرستی کی پرزور الفاظ میں ستائش کی۔ جامعہ عثمانیہ اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں اردو کے سابق صدر شعبہ پروفیسر بیگ احساس نے احمدرشید شروانی سے اپنے روابط کا ذکر کیا اور نواب شاہ عالم کو اس خوشگوار محفل کے انعقاد پر مبارکباد دی۔ اس محفل میں کئی اہم شخصیتیں موجود تھیں۔ جن میں ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹرسیاست، محترمہ لکشمی دیوی راج سابق وائس چانسلر، ڈاکٹر اکبر علی خان، تراب الحسن آئی اے ایس، نسیمہ تراب الحسن انوارالعلوم کالج کے پروفیسرس، افتخار حسین فدا علی وغیرہ شامل ہیں۔ بعدمیں ایک پرتکلف عشائیہ ترتیب دیا گیا۔ جلسہ کی نظامت سید امتیاز الدین نے انجام دی۔ آنند راج ورما نے آخر میں شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT