Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو زبان پڑھنے اور لکھنے والوں میں قوت فیصلہ زیادہ

اردو زبان پڑھنے اور لکھنے والوں میں قوت فیصلہ زیادہ

ذہنی نشو و نما میں بھی تیزی پیدا ہوتی ہے ۔ سنٹر فار بائیو میڈیکل ریسرچ لکھنؤ کا تحقیقی مطالعہ
حیدرآباد 16 جولائی (سیاست نیوز) اُردو زبان کی شیرینی اور اُس میں موجود اخلاقیات کا اعتراف اب تک ہر کوئی کیا کرتا تھا اور زبان کی چاشنی سے محظوظ ہونے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ بھی ہونے لگا ہے۔ اسی طرح اُردو زبان بین الاقوامی شہرت اختیار کرکے امریکہ، چین، جاپان و دیگر ممالک تک اپنے وجود کو منواچکی ہے۔ گزشتہ دنوں منظر عام پر آئے ایک تحقیقی مطالعہ کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ اُردو زبان کی تحریر پڑھنے سے دماغ تیز ہوتا ہے۔ انسانی دماغ پر اُردو زبان کے اثرات کے متعلق سنٹر فار بائیو میڈیکل ریسرچ لکھنؤ کی جانب سے کی گئی تحقیق میں اِس بات کا انکشاف ہوا ہے اور اِس تحقیقی مقالے کو بین الاقوامی جرنل میں بھی جگہ حاصل ہوئی ہے۔ انسانی دماغ پر زبانوں کے اثرات کے متعلق کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اُردو زبان پڑھنے لکھنے کے علاوہ بولنے والوں میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت زیادہ پائی جاتی ہے اور جو اُردو الفاظ کا استعمال کرتے ہیں اُن کے ذہنوں میں خود اعتمادی کے علاوہ ذمہ داری کا احساس پایا جاتا ہے۔ تحقیق میں یہ ثابت ہوا ہے کہ اُردو زبان انتہائی گہری اور متاثرکن ہے کیوں کہ اِس کے الفاظ اور طرز تحریر دونوں ہی انسان کے ذہن پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مسٹر اتم کمار سینئر فیکلٹی ممبر سنٹر فار بائیو میڈیکل ریسرچ نے بتایا کہ اُن کی تحقیق کے دوران اِس بات کا جائزہ لیا گیا کہ معینہ وقت میں کونسی زبانیں انسان کے ذہن پر کتنا اثر کرتی ہیں اور اُردو زبان کی تحریر کا اثر انسان کے ذہن پر کس حد تک ہوا کرتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ امیجنگ تکنیک کے ذریعہ کئے گئے اِس مطالعہ کے دوران اِس بات کا اندازہ ہوا کہ اُردو تحریر پڑھنے والوں کی ذہنی نشوونما کافی تیز ہوتی ہے اور اُن میں ذمہ داریوں کا احساس زیادہ پایا جاتا ہے۔ اُنھوں نے مزید بتایا کہ زبان کے استعمال سے انسانی ذہن کے خدوخال تیار ہوتے ہیں، اِس بات کا سائنس اعتراف کرچکی ہے لیکن اب اُردو زبان میں موجود اِس کشش کے انکشاف کے بعد اُردو زبان پر مزید اہمیت حاصل ہے۔ مسٹر اتم کمار نے بتایا کہ تحقیق کے دوران اِس بات کو بھی مدنظر رکھا گیا کہ اردو الفاظ کے طرز استعمال سے انسانی ذہن کس حد تک تیز رفتاری کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اِس پر جو انکشاف ہوا وہ بھی حیرت انگیز ہے کیوں کہ اِس زبان کو آسان سمجھا جاتا ہے لیکن انسانی ذہن اِس زبان کے استعمال کے ساتھ ساتھ مشکل الفاظ کو بھی بہ آسانی سمجھنے لگتا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ اُردو پڑھنے لکھنے اور سیکھنے کے لئے کوششوں کے دوران بھی ذہن کو کافی صحت حاصل ہوتی ہے اور ذہنی نشوونما میں نمایاں فرق محسوس کیا جاتا ہے۔ مسٹر اتم کمار نے بتایا کہ اُردو زبان کے سیکھنے کو بھی اب ذہنی صحت کے لئے فائدہ مند قرار دیا جاسکتا ہے کیوں کہ اِس زبان کے رسم الخط اور الفاظ انسانی ذہن کو تیز رفتار نشوونما فراہم کرتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT