Friday , July 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو زبان کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ، اردو اور تلنگانہ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم

اردو زبان کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ، اردو اور تلنگانہ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم

12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے چیف منسٹر کی وزیراعظم سے نمائندگی ، عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب ، قومی سمینار سے محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 22 ۔ مئی (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے زیر اہتمام سہ روزہ تقاریب کا آج قومی سمینار سے آغاز ہوا۔ جامعہ عثمانیہ تاریخ، تہذیب اور امکانات کے موضوع پر دو روزہ قومی سمینار آج ہوٹل دی پلازا بیگم پیٹ میں منعقد ہوا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ دیگر طبقات کی طرح مسلمان بھی ہر شعبہ میں ترقی کریں اور خوشحالی ان کا مقدر بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس قوم نے صدیوں تک حکمرانی کی ہے ، اس کے افراد باعزت طریقہ سے اپنے پیروں پر کھڑے ہوں ، یہ چیف منسٹر کی عین خواہش ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام میں آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ہندوستان میں اردو ذریعہ تعلیم کی پہلی یونیورسٹی قائم کی ، جس نے ہزاروں نے بلکہ لاکھوں تشنگان علم کو سرفراز کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے فارغین میں کئی ممتاز شخصیتیں شامل ہیں، جنہوں نے اردو زبان میں تعلیم حاصل کی تھی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ہمیشہ نظام حیدرآباد کی خدمات کے معترف رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے اقلیتوں کی ہمہ جہتی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سماجی و معاشی ترقی کیلئے انقلابی قدم اٹھا رہی ہے ، اس کے علاوہ اردو زبان کے تحفظ کو بھی حکومت اپنا فرض سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کا تحفظ وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ اردو اور تلنگانہ ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔ اگر اردو زبان بچے گی تو تلنگانہ بھی محفوظ رہے گا۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے عثمانیہ یونیورسٹی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں عثمانیہ یونیورسٹی کی ڈگری کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے اور اگر کوئی عثمانیہ کا فارغ ہے تو یقینی طور پر اعزاز سے کم نہیں۔ اسے کسی اور ڈگری کی ضرورت نہیں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اقلیتی امور کے مشیر کی حیثیت سے اے کے خاں کے تقرر کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں کسی بھی چیف منسٹر کے مشیر مسلمان نہیں ہیں جبکہ تلنگانہ میں اقلیتوں کی ترقی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک تجربہ کار عہدیدار کو مقرر کیا گیا ہے ۔ انہوں نے سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور کی ستائش کی اور کہا کہ وہ بیک وقت اردو اکیڈیمی اور عازمین حج کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عازمین حج کی خدمات میں تلنگانہ کو ملک بھر میں پہلا مقام حاصل ہے۔ محمود علی نے کہا کہ حیدرآباد میں گنگا جمنی تہذیب کی برقراری اور بحالی کیلئے چیف منسٹر کوشاں ہیں اور یہی تہذیب حیدرآباد کی شان ہے۔ مہاتما گاندھی جب حیدرآباد آئے تھے تو انہوں نے حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کی ستائش کی تھی۔ انہوں نے اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور کہا کہ تعلیم کے ذریعہ ہی کوئی بھی قوم پسماندگی اور محرومی سے نجات حاصل کرسکتی ہے۔ متحدہ آندھراپردیش میں تلنگانہ کے کلچر کو نقصان پہنچایا گیا۔ کے سی آر جب کبھی نظام حیدرآباد کی مزار پر گئے تو آندھرائی قائدین نے اعتراض کیا تھا جس پر کے سی آر کو کہنا پڑا کہ نظام کی خدمات کا اعتراف کرنا وہ اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ محمد محمود علی نے سیول سرویسز کیلئے 100 اقلیتی امیدواروں کو کوچنگ اور اوورسیز اسکالرشپ کے تحت فی طالب علم 20 لاکھ روپئے کی ادائیگی تاریخی فیصلے ہیں۔ چیف منسٹر نے اقلیتوں کیلئے 500 اقامتی اسکولس کے قیام کا نشانہ مقرر کیا ہے ۔ ابھی تک 200 اقامتی اسکولس قائم کئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ اقامتی اسکول سے بھرپور استفادہ کریں اور اپنے نوخیز نسل کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے تلنگانہ سے فسادات اور جرائم کا خاتمہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی بھلائی کیلئے کئی ایسے پروگرام شروع کئے گئے جن کا انتخابی منشور میں کوئی تذکرہ نہیں تھا ۔ مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کیلئے اسمبلی اور کونسل میں بل کو منظوری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے وعدہ پر قائم ہیں اور وزیراعظم سے بل کی منظوری کیلئے نمائندگی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تحفظات کیلئے مرکزی حکومت پر دباؤ بنایا جائے گا۔ سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹیڈیز پروفیسر انور معظم نے کلیدی خطبہ میں جامع عثمانیہ کی تاریخ اور تہذیب کے کئی گوشوں پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے حوالے سے جو گفتگو ہورہی ہے وہ صرف تلنگانہ میں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بنیادی تعلیم کو مضبوط کئے بغیر اقامتی اسکولوں کے قیام پر سوال اٹھائے اور کہا کہ جب بنیادیں مضبوط نہ ہوں کچھ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں حیدرآبادی تہذیب کی تشکیل میں اہم رول ادا کیا ہے۔ پروفیسر انور معظم نے کہا کہ اردو یونیورسٹی میں اب تک بھی ریڈنگ میٹریل دستیاب نہیں ہے۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں نے کہا کہ یہ سمینار صدی تقاریب کا آغاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ دائرۃ المعارف کے تحفظ کے اقدامات کئے جائیں گے ۔ اے کے خاں نے کہا کہ نواب میر عثمان علی خاں علم دوست تھے اور حیدرآباد کی تہذیب کو آگے بڑھانے میں عثمانیہ یونیورسٹی کا اہم رول رہا ہے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے کہا کہ تمام عثمانین کو چاہئے کہ وہ صدی تقاریب منائیں۔ پروفیسر سلیمان صدیقی سابق وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی نے پاور پوائنٹ پریزینٹیشن دیا اور عثمانیہ یونیورسٹی کی تاریخ کا احاطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا کیمپس 1700 ایکر سے گھٹ کر 1300 ایکر ہوچکا ہے ۔ سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے استقبال کیا اور بتایا کہ رمضان المبارک کے بعد دیگر پروگرام پیش کئے جائیں گے۔ سمینار کی روداد کو کتابی شکل دی جائے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT