Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / اردو زبان کو کسی مذہب کیساتھ جوڑنا سراسر نا انصافی

اردو زبان کو کسی مذہب کیساتھ جوڑنا سراسر نا انصافی

مرکزی وزیر اقلیتی امور نجمہ ہبۃ اللہ کا این سی پی یو ایل کی عالمی کانفرنس سے خطاب
نئی دہلی، 6فروری (سیاست ڈاٹ کام)اردوکو ہندوستان کی زبان قرار دیتے ہوئے اقلیتی امور کی مرکزی وزیر محترمہ نجمہ ہبۃ اللہ نے کہا کہ زبان کو کسی مذہب سے جوڑنا اس زبان کے ساتھ سراسر ناانصافی اور حلق تلفی ہے ۔ انہوں نے آج یہاں قومی اردو کونسل برائے فروغ اردو زبان کی عالمی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے مخاطب کیا۔یہ کانفرنس اردو صحافت کے دوسال مکمل ہونے کے موقع پرہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اردو زبان کی پرورش و پرداخت اسی ملک اورگنگا جمنی تہذیب میں ہوئی ہے ۔ جو اسے مسلمانوں کی زبان قرار دے رہے ہیں وہ اردو زبان کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زبان ملک و قوم کی امانت ہوتی ہے کسی فرقہ کا اس پر اجارہ داری ہرگز نہیں ہوتی ہے ۔ محترمہ نجمہ نے کہا کہ جمہوری ملک میں زبان اور قلم کو اس لئے آزادی حاصل ہوتی ہے تاکہ وہ صحیح راستہ دکھا سکے اور اس سلسلے میں ایک میکانزم تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا کہ یہ صحیح راستہ چل رہا ہے ۔

نہوں نے کہا کہ ایک غلط خبر سے عوام کا ایک بڑا طبقہ اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ اس لئے اخبار والوں کی ذمہ داری ہے کہ خبر دیتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھیں اس سے کسی طبقہ کی حق تلفی تو نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اردو زبان اس لئے زندہ ہے کیوں کہ یہ عوام کی زبان ہے اور اس میں جتنی وسعت و گہرائی ہے اتنی کسی زبان میں نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان میں بڑی طاقت ہے وہ مسائل و مشکلات کے دور بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔قومی کونسل کے ڈائرکٹر پروفیسر مرتضیٰ کریم نے اردو صحافت کے موجودہ صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے زردصحافت سے بچنا اور بچانا ضروری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT