Saturday , April 29 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو صرف ادب کی ہی نہیں بلکہ سائنس اور سماجی علوم کی بھی زبان ہے۔ڈاکٹر محمد اسلم پرویز

اردو صرف ادب کی ہی نہیں بلکہ سائنس اور سماجی علوم کی بھی زبان ہے۔ڈاکٹر محمد اسلم پرویز

سائنس اور سماجی علوم پرحوالہ جاتی مجلوں کی اشاعت کا اعلان۔ اُردو یونیورسٹی میں اردو سائنس کانگریس کا افتتاح
حیدرآباد، 16؍فروری  (پریس نوٹ) عثمانیہ یونیورسٹی نے اپنے قیام یعنی 1918 سے ہی مختلف علوم میں اردوکے ذریعہ تعلیم دی۔ یہاں تک کہ میڈیکل اور انجینئرنگ جیسے کورس بھی اردو میں پڑھائے جاتے تھے اور ان کے لیے اردو میں بڑی تعداد میں کتابیں تیار کی گئیں۔ اردو یونیورسٹی نے وہاں سے اپنا سفر شروع کیا جہاں جامعہ عثمانیہ کا اردو ذریعہ تعلیم کا سفر رک گیا تھا۔ اب اردو یونیورسٹی میں ایک وقفے کے بعد سائنس اور دیگر علوم کی تعلیم اردو میں دی جارہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار آج پروفیسر ایس راما چندرم‘ وائس چانسلر‘ عثمانیہ یونیورسٹی نے اردو یونیورسٹی میں منعقدہ اردو سائنس کانگریس 2017 کے افتتاحی اجلاس میں کیا۔ اس دو روزہ قومی اردو سائنس کانگریس کا اہتمام اردو مرکز برائے فروغِ علوم کی جانب سے کیا جا رہا ہے ۔ جس میں ملک بھر سے70 سے زیادہ سائنس کے ماہرین ، مصنفین ، سائنس داں ، مترجمین، اساتذہ اور صحافی شرکت کر رہے ہیں ۔ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، وائس چانسلر نے اپنے صدارتی خطاب میں امید ظاہر کی کہ اردو کا سرمایہ اردو یونیورسٹی اور شہر حیدرآباد میں محفوظ رہے گا۔ اردو سائنس کانگریس کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ اُردو والوں میں بیداری لائی جائے۔ انھیں احساس دلایا جائے کہ اردو صرف ادب کی زبان نہیں ہے، یہ سائنس اور سماجی علوم کی بھی زبان ہے۔ اردو یونیورسٹی کا اہم کام اردو میں علوم کا فروغ ہے۔یونیورسٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اسی طرز پر سماجی علوم کی کانگریس بھی منعقد کی جائے گی نیز اردو میں سائنسی اور سماجی علوم کے دو حوالہ جاتی مجلے بھی شائع کیے جائیں گے۔ مہمانِ اعزازی پروفیسر شمس الاسلام فاروقی،سابق پرنسپل سائنٹسٹ‘ انڈین ایگریکلچر ل ریسرچ انسٹیٹیوٹ، دہلی نے کہا کہ شہر حیدرآباد اردو زبان کا گہوارہ رہا ہے۔ اردو میں سائنسی ادب کی تخلیق وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اردو میں سائنسی موضوعات پر مضامین اور کتب کے سرمائے میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا رہے گا ۔ڈاکٹر محمد اقتدار حسین فاروقی، سابق ڈپٹی ڈائرکٹراورصدر شعبۂ نباتی کیمیا، نیشنل بوٹانیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، لکھنؤ نے بحیثیت مہمانِ اعزازی خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہندوستان میں اردو والوں کو ترقی کرنی ہے اورملک میں اپنا مقام بنانا ہے تو انھیں سائنس میں ترقی کرنی ہوگی اور سائنسی مزاج اپنانا ہوگا۔ اگرہماری سوچ سائنسی بنیادوں پرمبنی ہوتی تو زبان،مذہب، ملک، عقیدہ اور علاقہ کے نام پر جھگڑے نہیں ہوتے۔ ہمارے سماج میں سائنسی مزاج کی ضرورت ہے، اس کے بغیر ملک میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔اس موقع پر سائنس کے میدان میں نمایاں خدمات کے لیے ڈاکٹر محمد اسلم پرویز، ڈاکٹر اقتدار حسین فاروقی، پروفیسر شمس الاسلام فاروقی، عبدالمعز شمسی، پروفیسر ظفر احسن، جناب ریحان انصاری، سکندر، ڈاکٹر جاوید احمد کامٹی، سید عبدالوہاب اور سید خواجہ معز الدین (عابد معز) کو نشان آزاد یادگاری تحفہ پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ سائنسی موضوعات پر لکھنے والی اہم شخصیات کو توصیف نامے بھی پیش کیے گئے۔ ڈاکٹر شکیل احمد، پر ووائس چانسلر نے ابتداء میں خیر مقدم کیا ۔ ڈاکٹر عابد معزکنوینر قومی اردو سائنس کانگریس 2017 نے تمام حاضرین کا شکریہ ادا کیا ۔ ڈاکٹر آمنہ تحسین، ڈائرکٹر انچارج مرکز برائے مطالعاتِ نسواں نے بخوبی کارروائی چلائی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT