Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو لائبریریز اور کمپیوٹر سنٹر ملازمین کے تنخواہوں کی ادائیگی کا عمل شروع

اردو لائبریریز اور کمپیوٹر سنٹر ملازمین کے تنخواہوں کی ادائیگی کا عمل شروع

درکار بجٹ کے انتظامات ، آندھرا پردیش میں اقلیتوں کو کمپیوٹر کی تربیت کا آغاز
حیدرآباد۔21 اگست (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی ہدایت کے مطابق اردو لائبریریز اور کمپیوٹر سنٹرس کے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا عمل شروع کردیا ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی سے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کی تنخواہوں کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کو تقریباً 4 ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی گئی اور دو سال سے یہ سنٹرس اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت کام کررہے ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کے مطابق ملازمین کی تنخواہیں مختلف ہیں لہٰذا تمام کے قابل ادائیگی بقایاجات کے اعتبار سے درکار بجٹ کا انتظام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عید الاضحی سے قبل تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ ملازمین عید بآسانی مناسکیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین سے مکمل ہمدردی ہے اور وہ چاہتے ہیں جہاں کہیں بھی اقلیتوں کی زائد آبادی ہے وہاں کے کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بناتے ہوئے اقلیتی طلبہ کی کوچنگ کا آغاز کیا جائے۔ ایک اندازے کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے تین تا چار کروڑ روپئے کی ضرورت ہوگی۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے کمپیوٹر سنٹرس کے بجٹ کی اقلیتی فینانس کارپوریشن کو راست اجرائی کا انتظام کردیا ہے۔ تلنگانہ میں 43 کمپیوٹر ٹریننگ سنٹرس اور 31 لائبریریز ہیں جن کے ملازمین کی جملہ تعداد 171 بتائی گئی ہے۔ حکومت کو مذکورہ ملازمین کی خدمات باقاعدہ بنانے کے سلسلہ میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 179 کے منجملہ 120 کے پاس عارضی تقررات کے سلسلہ میں احکامات موجود ہیں جبکہ باقی ملازمین کے پاس تقرر کے بارے میں کوئی احکام موجود نہیں۔ ان ملازمین کا زبانی طور پر تقرر عمل میں آیا تھا جس کے بعد سے وہ تقریباً 10 تا 15 برسوں سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ مذکورہ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانا ممکن نہیں ہے کیوں کہ حکومت نے اس سلسلہ میں واضح احکامات جاری کردیئے ہیں۔ حکومت کے احکامات کے مطابق یہ ملازمین اپنی ملازمت کو باقاعدہ بنانے کی اہلیت نہیں رکھتے تاہم عہدیدار اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ ان ملازمین کو اقلیتی اداروں میں ضم کرتے ہوئے روزگار کو برقرار رکھا جائے۔ اقلیتی بہبود میں پہلے ہی ملازمین کی کمی ہے لہٰذا ان ملازمین سے کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر دفاتر کے علاوہ اقامتی اسکولوں میں بھی عارضی ملازمین کو ضم کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈپٹی چیف منسٹر نے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز پیش کی جس پر سنجیدگی سے غور جاری ہے۔ ریاست کی تقسیم کے بعد آندھراپردیش حکومت نے اقلیتی بہبود کے کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بناتے ہوئے ٹریننگ کلاسس کا آغاز کردیا ہے۔ جبکہ تلنگانہ میں ابھی تک یہ عمل شروع نہیں کیا گیا۔ کمپیوٹر سنٹرس میں موجود بیشتر کمپیوٹرس ناکارہ ہوچکے ہیں اور کئی مہینوں سے سنٹرس کا کرایہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔ حکومت نے کمپیوٹر سنٹرس کی ترقی کے لیے جامع منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نئے کمپیوٹرس کی خریدی کیلئے چھ کروڑ روپئے مختص کیئے جائیں گے۔ اس طرح سکریٹری اقلیتی بہبود کمپیوٹر سنٹرس و لائبریریز کی ترقی اور انہیں بچانے کے لیے منصوبہ سازی میں مصروف ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT