Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو مدارس کی زبوں حالی پراقلیتی بہبود کمیٹی کا اظہار تشویش

اردو مدارس کی زبوں حالی پراقلیتی بہبود کمیٹی کا اظہار تشویش

مخلوعہ جائیدادوں پر عاجلانہ تقررات اور اردو اکیڈیمی سے نصابی کتب کی اشاعت کی سفارش، 203 اسکولوں میں برقی نہیں
حیدرآباد۔/3نومبر، ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود سے متعلق ایوان کی کمیٹی نے تلنگانہ کے اردو میڈیم سرکاری مدارس کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے اسکولوں کے معیار کی کمی، اساتذہ کی قلت اور بنیادی سہولتوں کے فقدان جیسے اُمور کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت سے سفارش کی ہے کہ اس سلسلہ میں جنگی خطوط پر اقدامات کئے جائیں۔ مقننہ کمیٹی کا اجلاس آج اسمبلی کے کمیٹی ہال میں منعقد ہوا جس کی صدارت رکن اسمبلی عامر شکیل نے کی جو کمیٹی کے صدرنشین ہیں۔ اجلاس میں پرنسپال سکریٹری محکمہ تعلیم شریمتی راجیو آر اچاریہ کے علاوہ ڈائرکٹر اسکول ایجوکیشن جی کشن اور دیگر عہدیداروں نے سرکاری اردو مدارس کی موجودہ صورتحال پر رپورٹ پیش کی ہے۔ کمیٹی نے اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر عاجلانہ تقررات اور نصابی کتب کی تقسیم کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت دی ہے۔ مضمون واری اساتذہ کی کمی کے نتیجہ میں اسکولوں کا معیار اور اس کے نتائج متاثر ہورہے ہیں۔ کمیٹی نے پرنسپال سکریٹری محکمہ تعلیم کے اس دعویٰ سے اختلاف کیا کہ اردو میڈیم کی نصابی کتب شائع کرتے ہوئے ہر ضلع میں تقسیم کردی گئی ہیں۔ اس بارے میں کانگریس کے رکن سمپت کمار نے اعداد و شمار پیش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو  اُلجھن میں مبتلاء کردیا۔ عہدیداروں کے پاس اس سلسلہ میں کوئی اعداد و شمار نہیں تھے جس پر دیگر ارکان نے بھی افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ اس طرح کے دعوؤں سے اردو میڈیم مدارس کے معیار کو بہتر نہیں بنایا جاسکتا۔ کمیٹی نے اردو میڈیم کی تمام نصابی کتب کی اردو اکیڈیمی کے ذریعہ اشاعت کی تجویز پیش کی تاکہ اردو میڈیم طلبہ کو مقررہ وقت پر کتب دستیاب ہوسکیں۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان سمپت کمار، محمد سلیم، محمد فاروق حسین، اسٹیفن سن، اکبر اویسی، الطاف رضوی کے علاوہ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل، سکریٹری ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ اور چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے شرکت کی۔ پرنسپال سکریٹری محکمہ تعلیم نے کمیٹی کو بتایا کہ تلنگانہ میں سرکاری اردو میڈیم مدارس کی جملہ تعداد 1591 ہے جن میں ایک لاکھ 45 ہزار 326 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اردو میڈیم پرائمری اسکولس کی تعداد 1013 ہے جبکہ 208 اپر پرائمری اور 340 ہائی اسکولس ہیں۔ اردو میڈیم مدارس میں اساتذہ کی تعداد 5181 ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1364 اسکولس اپنی ذاتی عمارتوں میں کام کررہے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ 677 اردو میڈیم اساتذہ کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ تلنگانہ میں 65 امدادی، 159 خانگی اردو میڈیم اسکولس کام کررہے ہیں جن میں طلبہ کی تعداد 32750 ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اجلاس کو بتایا کہ سرکاری، امدادی اور خانگی اردو میڈیم اسکولوں میں اول تا دہم تعلیم حاصل کرنے والے اقلیتی طلبہ کی تعداد 7 لاکھ 87 ہزار ہے۔ حکومت نے اقلیتوں کیلئے 12 اقامتی اسکولس قائم کئے ہیں جس میں 6 اسکولوں کو محکمہ تعلیم اور باقی 6 اسکولوں کو محکمہ اقلیتی بہبود سے فنڈز جاری کئے جاتے ہیں۔ اقلیتوں کیلئے 7 کستوربا گاندھی بالیکا ودیالیہ قائم کئے گئے ہیں۔ 203 اردو میڈیم اسکولوں میں برقی سربراہی منقطع کردی گئی کیونکہ برقی بلز ادا نہیں کئے گئے۔ محمد فاروق حسین نے اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی کمی کی شکایت کی اور کہا کہ کئی اسکولوں میں فرنیچر اور پینے کے پانی جیسی سہولت میسر نہیں ہے۔ انہوں نے اردو میڈیم نصابی کتب کی عدم سربراہی کی شکایت کی۔ محمد سلیم نے بھی اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور بنیادی سہولتوں کا مسئلہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے تحفظ کیلئے مدارس کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔ اردو میڈیم کی جائیدادوں کو محفوظ کئے جانے کے سبب کئی جائیدادیں مخلوعہ ہیں جس کے لئے ارکان نے تجویز پیش کی کہ اردو میڈیم کیلئے علحدہ ڈی ایس سی منعقد کرتے ہوئے محفوظ جائیدادوں کو غیر محفوظ زمرہ میں تبدیل کیا جائے۔ ارکان نے کہا کہ پرائمری سے ہائی اسکول کے درمیان اقلیتوں میں تعلیم ترک کرنے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے اس کی وجوہات کا جائزہ لینے کیلئے محکمہ تعلیم کو سروے منعقد کرنا چاہیئے۔ اس سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود سے تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ارکان نے تعلیم ترک کرنے کے رجحان کو روکنے کیلئے غریب طلبہ کو مختلف رعایتوں جیسے تعلیمی امداد فراہم کرنے کی سفارش کی اور ایس ٹی ، ایس سی طلبہ کے مماثل سہولتوں کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی نے سرکاری محکمہ جات میں تقررات کے تمام امتحانات اردو زبان میں منعقد کرنے کی حکومت سے سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ اردو میڈیم کے اوپن اسکولس قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ مقننہ کمیٹی اجلاس میں تلنگانہ کے قاضی ایکٹ کا جائزہ لیا گیا اور اس پر نظرِ ثانی کیلئے علماء و مشائخین سے رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ارکان نے کہا کہ موجودہ قاضی ایکٹ 1880 بہتر قانون ہے تاہم اس میں بعض ترمیمات کا ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں مذہبی شخصیتوں کی کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے۔ ارکان نے قاضیوں کیلئے حدود مقرر کرنے اور اس میں شادی خانوں کی تعداد کو پیش نظر رکھنے کی تجویز پیش کی۔ نئے ایکٹ میں قاضی کے تقرر اور برخواستگی کا اختیار حکومت کو حاصل رہے گا اور قاضیوں کو من مانی فیس کی وصولی سے روکا جائے گا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے بتایاکہ اس مسئلہ پر محکمہ کی جانب سے ایک کانفرنس منعقد کی جاچکی ہے اور تمام متعلقہ افراد سے رائے حاصل کی گئی۔

TOPPOPULARRECENT