Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو مدارس کے ساتھ محکمہ تعلیمات کا متعصبانہ رویہ

اردو مدارس کے ساتھ محکمہ تعلیمات کا متعصبانہ رویہ

رمضان میں نصف یوم کی اجازت سے انکار، ارد و حلقوں میں تشویش
حیدرآباد۔/12جون، ( پریس نوٹ ) رمضان المبارک کے موقع پر اردو میڈیم مدارس کو نصف یوم کام کرنے کی ہر سال سہولت فراہم کی جاتی رہی ہے لیکن رواں سال متعصبانہ ذہنیت کے حامل عہدیداران نے اس سہولت کو فراہم کرنے سے انکارکردیا ہے۔ ڈائرکٹر آف اسکول ایجوکیشن جی کشن نے اس طرح کی کسی بھی سہولت دینے سے انکا ر کردیا۔ صدر تلنگانہ میناریٹی ایمپلائز سرویس اسوسی ایشن کے ریاستی صدر محمد فاروق احمد نے کہا کہ جہاں حکومت مسلمانوں کو ان کے جائز حق دینے کی بات کرتی ہے ایسے متعصبانہ ذہنیت کے حامل عہدیداروں کی وجہ سے اقلیتوں کی حق تلفی سے حکومت بدنام ہورہی ہے۔ صدر نے کہا کہ ہم اوقات کار میں تخفیف کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں بلکہ دوپہر کے کھانے کا وقت نکال کر صبح دو گھنٹے وقت کو  8 تا 1:30 بجے مدارس کے اوقات کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اب جبکہ مدارس کی کشادگی کے لئے صرف ایک دن باقی رہ گیا ہے ابھی تک نصف یوم کے احکامات کی عدم اجرائی سے اردو حلقوں میں تشویش دیکھی جارہی ہے۔ فاروق احمد نے ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے گذارش کی ہے کہ اس معاملہ میں مداخلت کریں اور اقلیتوں کے ساتھ انصاف کریں۔ رواں سال رمضان میں تقریباً 15گھنٹے کا روزہ ہے اور موسم کے لحاظ سے بچوں اور بڑوں کو سختی کاسامنا ہے۔ انہوں نے ارباب مجاز سے فی الفور گذارش کی کہ جلد از جلد احکامات جاری کریں۔ اس موقع پرTSMESAکے ریاستی نائب صدور ڈاکٹر اے اے خان، محمد توفیق الرحمن، ریاستی سکریٹری محمد خواجہ مجتہد الدین کے علاوہ اراکین عاملہ موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT