Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو مضمون پڑھانے والے اسکولس میں بچوں کو داخلہ دلوانے کا مشورہ

اردو مضمون پڑھانے والے اسکولس میں بچوں کو داخلہ دلوانے کا مشورہ

اردو کو ختم کرنے کی سازشیں ناکام ہوں گی ، حکومت سے کئی اقدامات ، ڈاکٹر سید مصطفی کمال کو تہنیت ، جناب زاہد علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 25 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ملک میں شرپسندوں کی یہ کوشش کہ اردو زبان کے ساتھ کھلواڑ کریں مگر ان میں اتنا دم و خم نہیں کہ وہ اس زبان کو مٹا سکے ۔ اس ملک ہی نہیں اقطاع عالم میں اس زبان سے محبت اور وابستگی رکھنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے اس کے باوجود بعض طاقتیں اردو زبان کے ساتھ سوتیلا پن روا رکھی ہوئی ہے ۔ حکومت اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دے کر اردو اکیڈیمی اور اس جیسے اداروں کو قائم کرتے ہوئے اس کے پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کررہی ہے ۔ ملک جب انگریزی سامراجیت میں مبتلا تھا اور آزادی کی جدوجہد کے لیے تمام اقوام نے یکجٹ ہو کر غلامی کی زنجیروں سے چھڑانے کے فکر مند تھے اس وقت اردو زبان نے اپنا جو موقف اختیار کیا اسے سنہری حرفوں سے لکھا جارہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی رہنما ہو یا سماجی جہدکاروں کے لیے کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس زبان پر عبور حاصل کرے اور آج حال یہ ہے کہ جلسوں ، جلوسوں اور پارلیمنٹ و اسمبلیوں میں اپنا مدعا پیش کرنے کے لیے اردو زبان کا سہارا لیا جارہا ہے اور اس مدعا میں مزید چاشنی اور طنز کے تیروں کی برسات کرنے کے لیے موقع و محل کے اعتبار سے جس بے باکی سے بحث کے دوران اردو کے دلنشیں اشعار پیش کیے جاتے ہیں جس کو سن کر مسئلہ کا حل اور لوگ دم بخود ہوجاتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست کل شام محکمہ لسانی و تہذیبی امور حکومت تلنگانہ اور زندہ دلان حیدرآباد کی جانب سے صحافی ڈاکٹر سید مصطفی کمال مدیر ماہنامہ شگوفہ کی 60 سالہ ادبی ، صحافتی اور تدریسی خدمات کے ضمن میں رویندرا بھارتی میں منعقدہ تہنیتی جلسہ سے کیا ۔ جس میں مرد و خواتین ، نوجوان ، ادیب صحافی ، نقاد ، شعراء اور دوسروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ جناب زاہد علی خاں نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے اردو زبان کے فروغ اور اس کی چاشنی کے متعلق کہا کہ والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے اسکولس میں داخلہ دلوائیں جہاں اردو مضمون پڑھایا جاتا ہے ۔ ورنہ چند برسوں میں یہ نئی نسل اردو زبان سے بالکلیہ طور پر نابلد ہوگی ۔ انہوں نے موجودہ دور میں اس زبان کے ساتھ شرپسند عناصر جو معاملات کررہے ہیں اس کو بتایا اور کہا کہ ان حالات میں بھی اخبارات ، رسائل ، ماہنامہ ، ہفتہ وار کی اشاعت کے ذریعہ اردو داں اپنی بھر پور وابستگی و خدمت کا ثبوت فراہم کررہے ہیں ۔ انہوں نے بانی سیاست جناب عابد علی خاں کی اردو زبان کو ترقی اور صحافتی خدمات کا ذکر کیا اور کہا کہ انہوں نے اس زبان کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنایا اور اخبار سیاست کے لیے کڑی محنت و جستجو کی اور اللہ کا فضل یہ ہوا کہ آج اخبار سیاست کو استحکام حاصل ہوا ہے اور ملک کے چند نامور اخبارات میں سیاست سرفہرست ہے ۔ انہوں نے ڈاکٹر سید مصطفی کمال کی صحافتی خدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ وہ مسلسل پابندی کے ساتھ ماہنامہ شگوفہ نکال رہے ہیں جو کہ نئی نسل کے لیے مستحسن اقدام ہے ۔ جو ان کے اسم مسمیٰ کی طرح کمال کا درجہ رکھتا ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے ریاستی وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ کی اردو زبان دانی اور ان کے افراد خاندان کی بھی اردو سے دلچسپی کا ذکر کیا اور کہا کہ ابتداء میں وزیراعلی اردو زبان میں بات چیت نہیں کیا کرتے تھے اور ان دنوں مجھ سے وعدہ کیا کہ میں اردو زبان سیکھوں گا اور اپنے اس وعدہ سے وفا کرتے ہوئے مختصر مدت میں اس زبان سے اپنے آپ کو جوڑا اور اب ان کی دختر محترمہ کویتا اور فرزند کے ٹی آر روانی سے اردو میں بات چیت اور مسائل کے حل کے لیے اس زبان کا استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جناب زاہد علی خاں روزنامہ سیاست کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آج سیاست کی سائیٹ پر 30 لاکھ سے زائد قاری روزانہ دیکھے جاسکتے ہیں اس کے علاوہ 170 ممالک اور 305 بڑے شہروں میں اس اخبار کو پابندی سے پڑھا جاتا ہے ۔ انہوں نے اس بات کا اظہار بھی کیا کہ سیاست کی سائیٹ پر ماہنامہ شگوفہ کو ڈالا جائے گا تاکہ اس کے قاری میں اضافہ ہو ۔ جناب نریندر لوتھر ( آئی اے ایس موظف ) سابق سکریٹری حکومت آندھرا پردیش نے کہا کہ صحافی جو بھی حالات دیکھتا اور پڑھتا ہے اس پر اس کی گہری نظر بھی ہوتی ہے تاکہ اس کے ذریعہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ابھار سکے ۔انہوں نے جناب سید مصطفی کمال کی صحافتی سرگرمیوں کا ذکر کیا کہ جنہوں نے ہر نہج پر اس میدان میں اپنی صلاحیت کو پیش کیا ۔ ایم ای کرشنا ڈائرکٹر محکمہ لسانی تہذیبی امور نے کہا کہ اردو زبان میں جو چاشنی اور لذت و مٹھاس پائی جاتی ہے ۔ اس کو کسی بھی صورت میں مٹایا نہیں جاسکتا ۔ شاعر و ادیب حالات حاضرہ کو مد نظر رکھتے ہوئے خوبصورتی کے ساتھ لکھا کرتے ہیں ۔ اس لیے اردو زبان کو نظر انداز کرنا بڑا مشکل ہے ۔ قلمکار کے ذریعہ جب خیالات اردو زبان میں ادا ہوتے ہیں اس کی چاشنی میں اضافہ ہوتا ہے اور ریاستی حکومت ہر سال اردو زبان کا جشن منا رہی ہے جس کے ذریعہ وہ اس زبان سے تلنگانہ میں گنگا جمنی تہذیب ، روا داری ، اخوت و محبت کو فروغ دینا چاہتی ہے ۔ ڈاکٹر سید مصطفی کمال مدیر شگوفہ کی 60 سالہ ادبی ، صحافتی ، تدریسی ، سماجی ، لسانی ، خدمات پر ڈاکٹر عباس متقی ، ڈاکٹر علیم خاں فلکی ( جدہ ) اور جناب فیاض احمد فیضی نے مضامین پیش کئے ۔ جناب دولت رام ، ٹھاکر ہردے ناتھ سنگھ ، حبیب ضیا ، لطیف الدین لطیف ، محمد منیر اعظم ، فرید ضیائی ، ظفر محی الدین ، سعید حسن ، ماسٹر شفیع ، ڈاکٹر معین امر بمبو ، جاوید کمال اور دوسروں نے بھی ڈاکٹر سید مصطفی کمال کی تہنیت و گلپوشی کی ۔ بعد ازاں مزاحیہ مشاعرہ منعقد ہوا ۔ سنیل کمار تنگ ، نشترامروہی ، سندر مالیگانوی ، ٹیپکل جگتیالی ، ڈاکٹر علیم خاں فلکی ، فرید سحر ، سردار اثر ، وحید پاشاہ قادری ، شاہد عدیلی ، مصطفی علی بیگ ، ڈاکٹر محمد علی رفعت ، چچا پالموری ، مختار یوسفی ، اقبال شانہ نے کلام سنایا ۔ ابتداء میں پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر سکریٹری اردو اکیڈیمی تلنگانہ نے استقبالیہ کلمات کہے اور ڈاکٹر سید مصطفی کمال کی ادبی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ انہوں نے بے باکانہ طور پر صحافت کے پیشہ میں کام کررہے ہیں ۔ جناب غلام احمد نورانی نے ادارہ زندہ دلان حیدرآباد کا تعارف کروایا ۔ ڈاکٹر محمد علی رفعت نے شکریہ ادا کیا ۔ جناب جاوید کمال نے نظامت کی جب کہ اسلم فرشوری نے مزاحیہ مشاعرہ کی نظامت انجام دی ۔ اس موقع پر طنز و مزاح کے مشہور شاعر جناب غوث خواہ مخواہ کے حق میں دعائے مغفرت کی گئی ۔۔

TOPPOPULARRECENT