Saturday , May 27 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو میڈیم سرکاری اسکولس میں ڈیجیٹل کلاس رومس کی تجویز

اردو میڈیم سرکاری اسکولس میں ڈیجیٹل کلاس رومس کی تجویز

تلگو میڈیم میں ڈیجیٹل تعلیم کا آغاز، اسمبلی میں ستیش کمار و دیگر کے استفسار پر کڈیم سری ہری کا بیان
حیدرآباد۔26 ڈسمبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے تلنگانہ اسمبلی کو تیقن دیا کہ اردو میڈیم سرکاری مدارس میں آئندہ تعلیمی سال سے ڈیجیٹل کلاس رومس کا آغاز کردیا جائے گا۔ وقفہ سوالات کے دوران ستیش کمار اور دوسروں کے سوال پر ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں فی الوقت تلگو میڈیم مدارس میں ڈیجیٹل تعلیم کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اردو میڈیم اور انگلش میڈیم کا مواد دستیاب نہیں ہے جس کے سبب ڈیجیٹل تعلیم شروع نہیں کی جاسکی۔ حکومت اس بات کی کوشش کرے گی کہ آئندہ تعلیمی سال اردو اور انگلش میڈیم کے تمام اسکولوں میں بھی ڈیجیٹل کلاس رومس کا آغاز کرتے ہوئے تعلیم کو عصری بنائے گی۔ سری ہری نے اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اضلاع کی تنظیم جدید سے قبل ڈی ایس سی اعلامیہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اضلاع کی تنظیم جدید کے سبب یہ کام موخر ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد نئے اضلاع کے اعتبار سے ڈی ایس سی اعلامیہ جاری ہوگا اور پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ تقررات کئے جائیں گے۔ سری ہری نے کہا کہ ریاست میں جملہ 5400 سرکاری ہائی اسکولس ہیں اور حکومت تمام اسکولوں کو عصری تعلیم سے ہم آہنگ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 3472 ہائی اسکولوں میں ڈیجیٹل تعلیم کا آغاز ہوچکا ہے جس سے 8 لاکھ 68 ہزار طلبہ استفادہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کلاس روم کا مطلب موجودہ اساتذہ کا متبادل نہیں ہے بلکہ یہ اساتذہ کے لئے بہتر تدریس کا موقع فراہم کرتا ہے۔ سری ہری نے ڈیجیٹل تعلیم کے آغاز کے بعد اساتذہ کی تعداد میں کمی کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ حکومت بہتر تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لئے یہ سہولتیں متعارف کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایسے اسکولس جن میں برقی کنکشن موجود ہے وہاں یہ سہولت فراہم کی گئی جس پر 285 کروڑ 62 لاکھ روپئے کا خرچ آیا ہے۔ میاتھس، سائنس اور انگلش جیسے مضامین کے لئے ڈیجیٹل ایجوکیشن موثر ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے پرائمری اور ہائی اسکولس کے لئے علیحدہ علیحدہ گرانٹ منظور کی گئی ہیں۔ پرائمری اور اپر پرائمری اسکولس کے لئے فی کس 50 ہزار اور ہائی اسکولس کے لئے ایک لاکھ روپئے منظور کئے گئے۔ سری ہری نے عوامی نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ اسکولوں کا دورہ کرتے ہوئے بنیادی سہولتوں کا جائزہ لیں اور گرانٹ کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ انہوں نے تیقن دیا کہ اگر کوئی بھی اسکول اس سہولت سے محروم ہے تو حکومت گرانٹس کی اجرائی کے لئے تیار ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT