Sunday , August 20 2017
Home / ادبی ڈائری / اردو نثر اور ابتدائی قلمکاروں کی کاوشیں

اردو نثر اور ابتدائی قلمکاروں کی کاوشیں

شیخ نفیسہ بیگم غلام جیلانی
آج سے تقریباً آٹھ یا نو سو سال پہلے جو تاریخی حالات تھے ۔ ان میں نئے تصورات اور ان کے زیر اثر جو تاثرات بن رہے تھے اور ہمارے ماحول کا بدلتا ہوا رنگ ڈھنگ اور نئے حالات سے متاثر ذہن جس طرح کام کررہے تھے ، ان کا اثر آپسی تعلقات کے علاوہ رہن سہن ، آداب زندگی اور بات چیت کے طریقے سلیقے پر بھی مرتب ہورہا تھا ۔ ہندوستان کے شمال مغربی علاقے کے لوگ سپاہیوں ، تاجروں ، کاریگروں اور کارگزاروں کے روپ میں دہلی اور اس کے قرب و جوار میں آ آ کر بس رہے تھے اور اس علاقے میں رہن سہن اختیار کرنے پر یہاں کے رسوم و آداب اور لب ولہجے اور نفسیات کو بھی اپنارہے تھے ۔

دہلی میں ہم حضرت امیر خسرو کی شخصیت کو اگر سامنے رکھیں تو یہ سمجھ میں آجائے گا کہ آنے والے اور یہاں آکر بس جانے والوںمیں تاریخی اور تہذیبی طور پر تبدیلیاں آئیں ۔ آنے والے اگر واپس گئے تو یہاں کی زندگی ذہن اور تہذیب کی کیا کیا باتیں ان کے ساتھ چل کر دہلی سے کابل ، تاشقند  ،بخارا ، آذر بائیجان اور مختلف ملکوں اور شہرں میں پہنچیں ۔
اردو کی ابتدائی نشو و نما ابتداء پنجاب ، ملتان اور لاہور جیسے تاریخی اور تہذیبی شہروں کے اس ماحول میں ہوئی جس نے اپنی تہذیب کی حدود کو ادھر سے ادھر تک پھیلادیا تھا ۔ مسعود سعد سلمان کی فارسی شاعری اس کے بہترین نمونے پیش کرسکتی ہے ۔ ہندوی تخلیق سندیش راسک ، جسکا تخلیق کار عبد مان یا عبدالرحمن ہے ۔ اس کے بہت عمدہ نمونوں میں ہے ۔ اس تصنیف سے پتہ چلتا ہے کہ عربی ،فارسی الفاظ بدلی ہوئی شکل میں ہماری علاقائی زبانوں میں داخل ہوتے جارہے ہیں اور اس طرح زبانوں کا قدیم انداز اور مزاج بدلتا جارہا ہے ۔ اور وہ نئے سانچوں میں ڈھل رہے ہیں ۔ اگرملتانی ، لاہوری اور پھر دہلوی زبان کو سامنے رکھیں تو ان میں اردو کا ابتدائی رنگ اور لفظی آہنگ مل جائے گا ۔
اردو کی نشو و نما میں دو اداروں کا اثر خاص طور پر کام کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ ان میں ایک ادارہ خانقاہ ہے ۔ جہاں صوفی معاشرہ ہر طرح کے لوگوں کی اخلاقی تربیت کرتا تھا  ۔اور اس میں مذہب ، ذات پات اور طبقات کا فرق حائل نہیں ہوتا تھا ۔
اقبال نے ایک موقع پر یہ شعر کہا ہے :
بندہ و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
یہ مسجدوں کا ہی نہیں خانقاہوں کا ماحول بھی تھا اور بڑی حد تک مدرسوں کا ماحول بھی صوفیوں کے یہاں انسانوں میں تفریق اور تقسیم کی روایت نہیں ملتی ۔ وہ تو سب کو ایک سمجھتے تھے اب کوئی راجا ہو یا رنک ہو ۔ سب ایک ہیں ۔ اونچی ذات اور نیچی ذات ان کی نظر میں کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ سب کے ایک ساتھ اٹھنے بیٹھنے بولنے بات کرنے خوشیوں اور غموں میں شریک ہونے کا نتیجہ اور بڑا نتیجہ یہ ہوا کہ زبان میں ہر طبقے ہر خیال اور ہر سطح پر گزاری جانے والی زندگی کے عناصر گھل مل کر ایک ہوگئے۔
دہلی جس کو اس زمانے میں دہلو کہتے تھے ۔ اس کا شہری ماحول گلیاں اور بازار  تیج تہوار ، اس سے ملے جلے کلچر کے چلتے پھرتے نقش پیش کرنے لگے ۔ کبیر اس دور کے کچھ بعد کے عوامی شاعر ہیں ۔ ان کا یہ دوہا اس دور کی تہذیبی زندگی کا پیش کرتا ہے ۔
کبیرا کھڑا بازار میں مانگے سب کی خیر
نہ کاہو سے دوستی نہ کاہو سے بَیر
اس کو ہم یہ کہہ سکتے ہی ںکہ جب بیر نہیں ہوتا تو دوستی اپنائیت میں بدل جاتی ہے ۔ اور یہی اپنائیت ہے جس کی طرف کبیر نے اشارہ کیا ۔ اگر دیکھا جائے تو کبیر کا یہ دوہا اس کی طرف بھی اشارہ کررہاہے کہ اس وقت کی بول چال کی زبان کیا ہوگا ۔ یا کیا ہونا چاہئے ۔
خسرو درباری شاعر ہیں ۔ مگر ان کا تعلق صرف سلاطین کے دربار ہی سے نہیں ہے ۔ صوفیوں کی خانقاہوں سے بھی ہے اور ان گلیوں اور بازاروں سے بھی جہاں عام لوگوں کی زبان اور بولی ٹھولی سننے کو ملتی ہے ۔ اس وقت غزلیں بھی رائج ہیں ۔ گیت بھی ، چمولے بھی جس کو چوبولے بھی کہنا چاہئے اور خاص طور پر دوہے بھی ۔دوہا اور چمولہ دیہات اور قصبات کی زبان میں اب بھی رائج ہیں اور بہت مقبول ہیں ۔ حضرت امیر خسرو کی شاعری میں دوہا ، چوپائی اور عوامی گیتوں کے بہت سے رسیلے اور سجیلے نمونے ملتے ہیں ۔ جن کے بول آج بھی کانوں میں رس گھولتے ہیں ۔

حضرت محبوب الہی اور دوسرے میں صوفیوں درویشوں اور فقیروں کی درگاہوں اور خانقاہوں میں دوہے چوپائیاں اور پیار بھرے گیت اکثر گائے جاتے ہوں گے اس کا کچھ اندازہ اس امر سے بھی ہوتا ہیکہ آج بھی خانقاہوں میں قوالی اور گیتوں کی شاعری کی پیش کش کے وقت ایسے ہندوی اشعار پیش کئے جاتے ہیں جن کی زبان ہندوی اور اردو دونوں سے مختلف نظر آتی ہے ۔ یہ دراصل اس دور زندگی کی یادگار ہیں یا بدلتے ہوئے رویوں اور روشوں کا عکس پیش کرتے یہیں جو زبان کے نشو و نما پانے کے دور میں ہمارے لب و لہجے نفسیات اور شعر و شعور کا حصہ رہے ہیں ۔
عورتوں کے گیتوں میں اب بھی اس زمانے کے شعری نمونوں کی جھنکار مل جاتی ہے اور اس عقیدت کا پتہ چل جاتا ہے ۔ جس کے جذبات کو اس زمانے کے دوہوں ، چمولوں میں پیش کیا جاتا تھا :
میں تو جھاجھن بجا آئی یار کی گلی میں
میں خوشیاں جگا آئی یار کی گلی میں
امیر خسرو کی بعض ہندوی غزلیں ، اردو کے ابتدائی نشو و نما کے انداز اور اسلوب کو پیش کرتی ہیں اس سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ دہلی ، لاہور ، ملتان ، گجرات اور دکن میں اردو کے پروان چڑھتے وقت ، مقامی فضا اور تہذیبی ماحول کیا رہا ہے ۔ اور ایسے کسی ماحول کے نہ ہوتے کی صورت میں اردو جیسی ملی جلی زبان اور بولی ٹھولی ترقی پاکر خانقاہ اور دربار میں داخل ہو ہی نہیں سکتی ۔
اردو کے ارتقاء کی تاریخ میں فورٹ ولیم کالج اپنی تصانیف کے لحاظ سے ایک نشان منزل کا درجہ رکھتا ہے ۔ اس لئے کہ اس سے پہلے ہمارے یہاں نثر پر برائے نام ہی کچھ کام ہوا تھا ۔ جیسے جدید اردو نثر کے پس منظر کی حیثیت  سے پیش نظر رکھا جاسکتا ہے ۔
جدید اردو نثر کا سلسلہ آغاز فورٹ ولیم کالج کی نثری تصانیف سے ہوتا ہے ۔ اس سے پیشتر نثر کے جو نمونے ملتے ہیں ، ان میں نثر اپنے اپنے زمانے کے صناعانہ رجحان سے زیادہ متاثر ہے ۔ اس وقت میں اردو نثر زیادہ تر قصے کہانی کے لئے کام میں آتی ہے ۔ کوئی علمی کام اس سے نہیں لیا جاتا  ۔ فورٹ ولیم میں تاریخ ، تہذیب اور روایت اور بڑی حد تک جغرافیہ جیسے موضوعات نثر نگاری کے لئے کام میں آئے تو اردو نثر کا تعلق علم و ادب سے نئے ذہنی رشتوں کے ساتھ قائم ہوا اور رفتہ رفتہ یہ سلسلہ آگے بڑھا اور اس میں نئی وسعتیں آئیں ۔ اخبارات و رسائل کی اشاعت نے صورتحال کو بدلنے میں نمایاں طور پر حصہ لیا ۔ اخبار و رسائل نئے موضوعات پر اپنے یہاں مضمون ، مقالے اور خبرنامے شائع کرتے تھے ۔ اور پڑھنے والوں کا دائرہ بھی اسی نسبت سے وسیع تھا اور ہوتا جاتا تھا ۔ اس اعتبار سے جدید اردو نثر کی اشاعت و مقبولیت اور اثر و تاثر کے دائرے میں اضافے کے ساتھ ساتھ اردو نثر کے اسلوب فکر اور طرز ادا میں تبدیلی اور ترقی ہوئی ۔ محض قصے کہانیاں کافی نہیں تھیں ۔ ذہن کو بدلنے اور نئی فکری سطح پر لانے کے لئے نئی علمی معلومات اور فکرو نظر کے نئے زاویوں سے واقفیت بھی ضروری تھی ۔ وہی رفتہ رفتہ بڑھ رہی تھی ۔ اور نثر کے اسلوب میں نئی جہتیں اور طرز ادا میں نئے زاویئے پیدا ہورہے تھے ۔

سرسید اس زمانے کے پہلے ایسے شخص ہیں جو اپنے عہد کی نثر کے نئے نئے نمونوں کو اپنی تحریروں میں بھی پیش کرتے ہیں اور اپنی تنقید و تبصرے میں بھی 1857ء کے غدر کے بعد عام لوگوں میں مایوسی پھیلی ہوئی تھی ۔ سرسید اس مایوسی کو ختم کرنا اور طرز فکر کو بدلنا چاہتے تھے ۔ اس کے لئے انہوں نے اور ان کے رفقا نے جن میں حالی ، شبلی ، نذیر احمد اور مولانا حسین آزاد بطور خاص شریک ہیں ۔ اردو نثر میں قابل ذکر اور لائق تعریف کارنامے انجام دیئے ۔ ان لوگوں نے اس وقت کے انداز فکر کو موضوع بنا کر جیسے ہم احساس محرومی اور مایوسانہ سوچ سے تعبیر کرسکتے ہیں بہت کچھ لکھا اور مختلف زاویوں سے اپنے عہد کی سوچ و فکر کو پرکھنے اور تعبیر و تنقید کی منزل سے گزارنے کی کوشش کی ۔ ہم اس سلسلے میں سرسید کے ایسے مضامین کا حوالہ دے سکتے ہیں جس میں انہوں نے قوم کو احساس محرومی اور شکست کے ماحول سے باہر نکالنے کی کوشش کی ۔
جدید اردو نثر کے سلسلے میں ہم غالب اور خاص طور پر ان کے خطوط کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ جنھوں نے اردو نثر کو مقفع ، مسجع عبارات سے آزاد کیا ۔ آداب و القاب کے پرانے طریقوں کو بدلا ، باغ و بہار میں سامنے آئی ۔ اس کے بعد اردو نثر نے جو ترقیاں کیں ان کے نمونے غالب کے خطوط میں نئے انداز کے ساتھ سامنے آئے ۔ غالب نے اپنے خطوط میں بے تکلف اور سادہ طرز اختیار کیا ۔ غالب جس طرح اپنے دوستوں اور شاگردوں سے مسلسل اور بے تکلف گفتگو کرتے تھے اور اس میں جو سادگی ، سلاست ، ظرافت اور طرز ادا کی ندرت ہوتی تھی اس کو اپنی نظیر آپ کہی جاسکتی ہے ۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ غالب نے اپنے خطوط میں اردو نثر کے ذریعے اردو ادب کو نئے اسلوب نگارش سے روشناس کرایا ۔
جدید اردو نثر کی ترقی پر غالب کی سلاست و سادگی نے گہرے اثرات مرتب کئے اور وہ طرز تحریر جو دور سرسید کی خصوصیات میں داخل ہے ، دراصل وہ غالب کی تحریر کا ہی عکس ہے ۔ سرسید نے مایوسیوں میں گھری اپنی قوم میں زندگی کی نئی روح پھونکنے کی کوشش کی اور یہ کوشش کی کہ مسلمانوں میں نئے افکار اور نئے اقدار زندگی کا اثر و تاثر پھیلے ۔ سرسید ایک عظیم تحریک کے بانی تھے ۔ جس میں ان کے رفقاء بھی برابر کے شریک کار رہے  ۔
مولانا محمد حسین آزاد پر ہمارے زمانے کے ایک نقاد نے یہ لکھا ہے کہ ان کی تاریخی تصنیفات میں بے شمار تاریخی غلطیاں ہیں  ۔یہ فقرہ مولانا کے لئے بہت رواداری میں قلم بند کیا گیا ۔ مولانا کی تصانیف میں دربار اکبری کے علاوہ باقی کسی بھی تصانیف کو ہم تاریخی تصانیف کے ذیل میں نہیں رکھ سکتے ۔ اور پھر ان کی غلطیاں تاریخ سے متعلق اتنی نہیں ہیں جنتی ظاہر کی گئی ہیں ۔
مولانا کی تحریروں میں دلکش انداز بیان اور شگفتہ عبارت آرائی آج بھی بے نظیر ہے۔ اردو میں تمثیل کا موجد مولانا کو ہی خیال کیاجاتا ہے ۔ اور اس کے لئے ہم نیرنگ خیال کو بطور خاص پیش کرسکتے ہیں ۔ آب حیات ان کی ایک تاریخی اور تنقیدی کتاب ہے جو اپنی خوبیوں کے اعتبار سے اپنی نظیر آپ ہے ۔
مولانا حالی جدید نثر کے سب سے پہلے نثر نگار ہیں جنھوں نے اردو میں سنجیدہ اور متوازن تنقید کی بنیاد ڈالی ۔ اور شعرو شعور پر ایک جامع نقطۂ نظر پیش کیا ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ باقاعدہ سوانح نگاری کی ابتداء بھی حالی سے ہی ہوتی ہے ۔ حیات جاوید اور حیات سعدی اس فن پر اردو کی پہلی دو منفرد کتابیں ہیں ۔ حالی اردو ادب کے وہ پہلے نثر نگار ہیں جنھوں نے اردو ادب کو تنقیدات عالیہ کا ایک معیاری نمونہ دیا اور اس کی ایک سے زیادہ مثالیں پیش کیں ۔
حالی کے اسلوب میں دھیماپن اور سادگی پائی جاتی ہے ۔ ان کی سادگی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں بے رنگی نہیں ۔ ان کی سادہ نگاری یوں تو عام فہم اور بول چال کے الفاظ سے عبارت ہے ۔لیکن الفاظ کی خوبصورتی بھی ان کے پیش نظر رہتی ہے ۔ ان کا قلم بیانات کی کارگاہ میں نشیب و فراز سے دوچار نہیں ہوتا ۔ بلکہ انکا آہستہ پن ہر جگہ برقرار رہتا ہے ۔

شبلی نہ صرف یہ کہ ایک بڑے عالم اور ایک بڑے فلسفی تھے بلکہ ایک نیازاویہ نگاہ رکھنے والے ادیب بھی تھے ۔ علاوہ بریں وہ ایک بلند پایہ مورخ اور نقاد بھی تھے ۔ انھوں نے بھی اردو نثر کو اپنی طرز ادا سے کچھ ایسے نمونے دیئے جو آج بھی قابل قدر اور لائق تحسین خیال کئے جاتے ہیں۔ شبلی کا اسلوب شگفتہ رواں متوازن اور علمیت سے پُر ہے ۔ وہ اپنے اسلوب میں تاثر پیدا کرنے کے لئے شاعرانہ خوبیوں سے کام لیتے ہیں ۔ شبلی کے یہاں انقلابی اور جوشیلے مواقع اکثرو بیشتر نظر آتے ہیں ۔ ان موقعوں پر ان کا قلم خوب خوب جادو جگاتا ہے ۔ شبلی اپنی تحریروں کے لحاظ سے اپنا ایک انفرادی رنگ رکھتے ہیں۔
نذیر احمد ایک عالم ، تعلیم نسواں کے پُرزور حامی تھے ۔ ان کی تصانیف میں یہ موضوع بطور خاص ہمارے سامنے آتا ہے ۔ نذیر احمد اردو کے پہلے ناول نگار ہیں ۔ بحیثیت مجموعی ان کی زبان دلی کی ٹکسالی زبان ہے ۔ اگرچہ اس پر عربی کے اثرات زیادہ ہیں۔ اور محاوروں سے ان کی دلچسپی کا انداز موقع بہ موقع اپنا اثر ڈالتا نظر آتا ہے ۔
اسی دور نے لکھنؤ میں سرشار اور شرر جیسے اہل قلم پیدا کئے ۔ شررکا شمار بھی اردو کے اولین ناول نگار میں ہوتا ہے ۔ ان کے اکثر ناول لکھنؤ کی بدلتی ہوئی تہذیبی فضا اور معاشرتی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں ۔ انکی تحریروں میں لکھنؤ کی مٹتی ہوئی تہذیب کی منہ بولتی تصویریں ہمیں ملتی ہیں ۔ لکھنؤ کی زبان اور روزمرہ کی چاشنی سرشار کی تحریروں میں بطور خاص ملتی ہے ۔فسانہ آزاد کو ہم ان کی ، ان کے دور کی اور لکھنوی تہذیب کی ایک نمائندہ تصنیف کہہ سکتے ہیں ۔ اردو میں تاریخی ناول لکھنے کی روایت شرر سے شروع ہوتی ہے ۔ وہ ایک اچھے ناول نگار ہی نہیں انشا پرداز بھی ہیں اور اردو ناول نگاری کی تاریخ میں ان کا  ایک خاص مقام ہے ۔
’مصور غم‘ راشد الخیری کا ادبی خطاب ہے ۔ انھوں نے بھی اردو نثر کے سلسلے میں گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ پریم چند بھی اس ذیل میں آتے ہیں ۔ اور خواجہ حسن نظامی بھی جن کا دور کچھ بعد کا دورہے ۔ مولانا ابوالکلام آزادی ،مولوی عبدالحق ، سجاد حیدر یلدرم ، نیاز فتح پوری ، آل احمد سرور ، مجنوں گورکھپوری ، قاضی عبدالستار ، رشید احمد صدیقی اور فرحت اللہ بیگ جیسے انشار پردازوں نے اردو نثر کو نئے اسالیب سے آراستہ کیا ہے اور نئے سانچوں میں ڈھالا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT