Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو والوں کے ووٹ چاہئے لیکن اردو میں ہورڈنگس نہیں

اردو والوں کے ووٹ چاہئے لیکن اردو میں ہورڈنگس نہیں

مقامی جماعت کی اردو سے زبانی ہمدردی آشکار، ٹی آر ایس کے ہورڈنگس  اردو میں

حیدرآباد۔/7 جنوری، ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد جو دنیا بھر میں اردو زبان کے مرکز کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتا ہے لیکن جب سیاسی مفادات کی تکمیل کا مرحلہ آتا ہے تو اردو کے ساتھ ناانصافی صاف طور پر دکھائی دیتی ہے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات کیلئے شہر میں مختلف جماعتوں کی جانب سے ہورڈنگس اور پوسٹرس کی مہم کا آغاز ہوچکا ہے لیکن افسوس کہ اردو داں طبقہ کے ووٹ کی اصل دعویدار جماعت نے خود اردو زبان کو فراموش کردیا ہے۔ شہر میں اہم مرکزی مقامات پر ٹی آر ایس اور مقامی سیاسی جماعت کے کئی ہورڈنگس اور پوسٹرس آویزاں کئے گئے جن میں اپنے کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے ووٹ کی اپیل کی گئی ہے۔ ٹی آر ایس نے نہ صرف پرانے شہر بلکہ نئے شہر کے علاقوں میں بھی اردو زبان میں ہورڈنگس اور پوسٹرس آویزاں کئے تاکہ اردو داں طبقہ کی توجہ مبذول کی جاسکے۔ ٹی آر ایس کا یہ اقدام یقیناً قابل ستائش اور حکومت کے اس وعدہ کی تکمیل ہے جس میں اردو کی ترقی کا یقین دلایا گیا ہے۔ برسر اقتدار پارٹی نے حکومت کی مختلف اسکیمات پر مشتمل پوسٹرس اور ہورڈنگس میں اردو زبان کو مناسب نمائندگی دی جس کا اردو داں طبقہ کی جانب سے خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ اس کے برخلاف مسلم اقلیت اور بالخصوص اردو داں طبقہ کو اسوقت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب اس پارٹی نے اردو کو نظر انداز کردیا جس سے اس کی توقع نہیں تھی۔ مقامی سیاسی جماعت کے شہر کے مختلف مقامات پر لگائے گئے ہورڈنگس اور پوسٹرس انگریزی کے علاوہ تلگو اور ہندی زبان میں بھی موجود ہیں لیکن اردو میں ایک بھی ہورڈنگ دکھائی نہیں دی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس جماعت کو اردو داں طبقہ کے ووٹ کی ضرورت نہیں یا پھر پارٹی میں اردو سے واقفیت رکھنے والے افراد کم ہوچکے ہیں۔ جن دولتمند افراد نے قیادت کو خوش کرنے کیلئے ہورڈنگس اور پوسٹرس آویزاں کئے وہ اردو سے نابلد دکھائی دے رہے ہیں یا پھر خود پارٹی نے انہیں زبانوں کی نشاندہی کردی جس میں اردو شامل نہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اردو آبادی کے مرکز پرانے شہر کے باب الداخلہ پر مقامی سیاسی جماعت کی ہورڈنگ صرف انگریزی زبان میں ہے۔ پرانے شہر کے بعض علاقوں میں بھی اردو داں طبقہ کو مقامی جماعت کے انگریزی ہورڈنگس دیکھ کر حیرت ہوئی۔ پرانا شہر وہی علاقہ ہے جہاں ڈاکٹر ایم چنا ریڈی کی قیادت میں اردو بچاؤ تحریک کا آغاز کیا گیا تھا اور تاریخی چارمینار سے زبردست ریالی منظم کی گئی تھی۔ اس مہم میں مقامی جماعت کی اسوقت کی قیادت نے اہم رول ادا کیا تھا لیکن آج وہی پارٹی اردو کو اس کا مستحقہ مقام دینے میں ناکام ہوچکی ہے۔ کانگریس پارٹی نے انگریزی اور اردو میں پوسٹرس کی مہم کا آغاز کیا ہے اور پرانے شہر میں کانگریس پارٹی کے یہ تشہیری پوسٹرس کافی مقبول ہورہے ہیں۔ ایسے وقت جبکہ ہر سطح پر اردو کے استعمال میں کمی واقع ہورہی ہے اردو کے تحفظ کے دعویدار خود اردو کو فراموش کردیں تو پھر اس زبان کا تحفظ کون کرے گا۔ پرانے شہر کے کئی رائے دہندوں نے اس بارے میں ’سیاست‘ سے ربط قائم کرتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT