Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو کتاب میلے کے منتظمین کو مایوسی ، شائقین اردو کی عدم دلچسپی

اردو کتاب میلے کے منتظمین کو مایوسی ، شائقین اردو کی عدم دلچسپی

تلنگانہ اردو اکیڈیمی کا عدم تعاون ، اردو تنظیمیں اور اردو ادارے خاموش تماشائی
حیدرآباد ۔ 16 ۔ دسمبر ( سیاست نیوز ) ۔ اُردو کے شہر حیدرآباد میں پچھلے چھ دنوں سے تیسرے قومی اُردو کتاب میلہ قلی قطب شاہ اسٹیڈیم روبروہائی کورٹ جاری ہے۔ اس کتاب میلے میں80پبلشرز کے ایک سو بیس اسٹالس قائم ہیںجہاں پر ہمہ اقسام کی کتابیں رعایتی داموں پر دستیاب ہیں۔ قومی کونسل براے فروغ اُردو زبان کی جانب سے اس کتاب میلے کا شہر حیدرآباد میںپچھلے پندرہ سالوں سے انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے ۔ ہر پانچ سال میں ایک مرتبہ شہر حیدرآباد میںیہ کتاب میلہ منعقد کیا جاتا ہے جس کا مقصد اُردو زبان کو فروغ دینا او ر اُردو زبان میں شائع ہونے والی کتابوں کو عام کرتے ہوئے پبلشرز کی بھی ہمت افزائی کرنا ۔ اس سال کتاب میلہ منتظمین کو شائقین اُردو کی جانب سے مایوسی پیش آرہی ہے کیونکہ ایک جانب سے قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان کی جانب سے مذکورہ کتاب میلے میں کلچر پروگرامس منعقد کرنے کے لئے ریاستی اُردو اکیڈیمی کو فنڈز کی اجرائی عمل میںلائی جارہی ہے تو دوسری جانب اس کتاب میلے کی تشہیر کے متعلق اُردو اکیڈیمی تلنگانہ کی جانب سے منتظمین کو کسی قسم کا تعاون حاصل نہیں ہے ۔ اُردو زبان کے فروغ کے لئے قومی کونسل کے اس کتاب میلے کے انعقاد کے تمام اخراجات قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان ہی برداشت کررہا ہے مگر کتاب میلے کی تشہیر کے لئے جو ذمہ داری علاقائی اُردو تنظیموں اور اداروں پر عائد ہوتی ہے اس سے کتاب میلے کے منتظمین محروم ہیں۔اس کتاب میلے میں قائم کردہ ایک سو بیس اسٹالس پرتاریخ اسلام پر برصغیر کی ممتاز علماء کی لکھی ہوئی کتابوں کے علاوہ تحقیقی مقالوں کے بشمول خلفائے راشدین ؓ کی تاریخ پر سیر حاصل کتابیں بھی موجود ہیں۔ دیگر مذاہب پر بھی لکھی گئی اُردو کتابیں اس کتاب میلہ میںموجودہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ہر پانچ سال میںاس اُردو کتاب میلے میں شرکاء میںکمی پیش آرہی ہے ۔ اس سلسلہ میںمنتظمین نے تشویش کا بھی اظہار کیااور کہاکہ اس طرح اُردو کتاب میلے میںشائقین کی تعداد کم ہوگی تو آنے والے دنوں میں پبلشرز اُردو

کتابوں کی اشاعت پر غور وفکر کرنے کے لئے مجبور ہوجائیں گے۔اور آنے والے دنوں میں اس قسم کے کتاب میلے ایک تاریخی حقیقت بن کر رہ جائیںگے۔

 

قومی اردو کتاب میلہ میں شائقین اردو سے شرکت کی اپیل
حیدرآباد کے سرکردہ ادیب و شعراء کا بیان
حیدرآباد ۔ 16 ڈسمبر (پریس نوٹ) ممتاز مزاح نگار پدم شری مجتبیٰ حسین، صدر انجمن ترقی پسند مصنفین پروفیسر بیگ احساس صدر حلف، نامور شاعر جناب مضطر مجاز، محترمہ قمر جمالی جنرل سکریٹری حلف و انجمن ترقی پسند مصنفین، جناب سید امتیاز الدین، جناب عابد صدیقی، ڈاکٹر صابر علی سیوانی، محبوب خان اخگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے زیراہتمام تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کے اشتراک سے 19 واں قومی اردو کتاب میلہ قلی قطب شاہ اسٹیڈیم نزد ہائیکورٹ میں آراستہ کیا گیا ہے جس میں ملک کے تمام اہم ناشرین معیاری کتابیں مناسب ڈسکاونٹ کے ساتھ فروخت کررہے ہیں۔ ہندوستان کے مختلف شہروں سے جہاں بھی اس میلہ کا اہتمام کیا گیا، ریکارڈ تعداد میں کتابوں کی فروختگی عمل میں آئی۔ مالے گاؤ، اورنگ آباد اور ممبئی جیسے شہروں میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیاہے۔ حیدرآباد اردو کا شہر ہے۔ شائقین کتب میں متوقع گرمجوشی ابھی تک دکھائی نہیں دے رہی ہے جس کی بڑی وجہ ترسیل و تشہیر کی کمی ہے۔ ہم اردو داں طبقہ سے گذارش کرتے ہیں کہ وہ اردو سے محبت کی شاندار حیدرآبادی روایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس میلے میں شرکت کریں جہاں ہر موضوع پر نایاب کتابیں موجود ہیں۔ اتنی کثیر تعداد میں کتابوںکی خریداری کریں کہ تمام شہروں میں حیدرآباد کو فوقیت حاصل ہوجائے۔ یہ کتاب میلہ 20 ڈسمبر تک جاری

TOPPOPULARRECENT