Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز ملازمین کی تنخواہوں کے لیے حکومت سے نمائندگی کا تیقن

اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز ملازمین کی تنخواہوں کے لیے حکومت سے نمائندگی کا تیقن

محکمہ اقلیتی بہبود کے منصوبہ کی شکایت ، ملازمین کی جناب زاہد علی خاں و جناب عامر علی خاں سے ملاقات
حیدرآباد۔ 23 ۔ ڈسمبر ( سیاست نیوز) اقلیتی بہبود کے تحت چلنے والے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ا سٹاف نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خان اور نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان سے ملاقات کی اور اپنے مسائل پیش کئے۔ ملازمین کی یونین کے نمائندہ وفد نے شکایت کی کہ اقلیتی بہبود کے عہدیدار ان مراکز کو بند کرنے اور انہیں ملازمتوں سے علحدہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اسوسی ایشن نے شکایت کی کہ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو نومبر کی تنخواہ ابھی تک ادا نہیں کی گئی جبکہ سکریٹری اقلیتی بہبود نے اس سلسلہ میں احکامات جاری کرنے کا تیقن دیا تھا ۔ اب جبکہ سرکاری دفاتر کو آئندہ چار دن تک مسلسل تعطیلات ہیں ، لہذا جاریہ ماہ کے اختتام تک تنخواہوں کی اجرائی ممکن نظر نہیں آتی۔ اسوسی ایشن کے وفد نے بتایا کہ تلنگانہ کے 10 اضلاع میں 43 اردو کمپیوٹر سنٹرس اور 30 لائبریریز ہیں جن کے ملازمین کی جملہ تعداد 178 ہے۔ اگرچہ یہ دونوں ادارے کارکرد ہیں لیکن اقلیتی بہبود کے بعض عہدیدار انہیں غیر کارکرد ثابت کرتے ہوئے ملازمتوں کو خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ ملازمین نے شکایت کی کہ حال ہی میں حیدرآباد کے مراکز کے معائنہ کے نام پر حکومت کو ملازمین کے خلاف رپورٹ پیش کی گئی اور ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر حیدرآباد ماہ نومبر کی تنخواہ جاری کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر نے اردو اکیڈیمی کو تنخواہوں کی اجرائی کیلئے رپورٹ پیش کرنے سے انکار کردیا ہے جس کے باعث وہ معاشی پریشانیوں کے شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہائی معمولی تنخواہ پر سارے خاندان کا گزارا ممکن نہیں لیکن ضلعی اقلیتی بہبود عہدیدار کے رویہ نے انہیں مزید معاشی بحران میں مبتلا کردیا ہے۔ ملازمین نے بتایا کہ وہ قرض حاصل کرتے ہوئے گھر چلانے پر مجبور ہے۔ اس سلسلہ میں جب ڈائرکٹر اردو ا کیڈیمی سے نمائندگی کی گئی تو انہوں نے اس مسئلہ کو سکریٹری اقلیتی بہبود سے رجوع کیا ۔ اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین نے جناب زاہد علی خان اور جناب عامر علی خان سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلہ میں حکومت کی توجہ مبذول کرائے۔ ملازمین کو تیقن دیا گیا کہ تنخواہوں کی اجرائی اور دیگر مسائل کے سلسلہ میں چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر سے نمائندگی کی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT