Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کو عصری بنانے کا فیصلہ

اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کو عصری بنانے کا فیصلہ

اقلیتی امیدواروں کو ہر سال پابندی سے ٹریننگ دینے اور امتحانات کے انعقاد کا اعلان

حیدرآباد۔/12ستمبر، ( سیاست نیوز) اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کی گزشتہ تین برسوں سے زبوں حالی پر خواب غفلت کا شکار محکمہ اقلیتی بہبود آخر کار بیدار ہوا ہے۔ محکمہ نے کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ ہر سال پابندی سے اقلیتی امیدواروں کو عصری کمپیوٹر کورسیس میں ٹریننگ اور امتحانات منعقد کئے جاسکیں۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے محکمہ اقلیتی بہبود نے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے احیاء پر کوئی توجہ نہیں دی تھی برخلاف اس کے آندھرا پردیش حکومت نے اس کے تحت آنے والے تمام کمپیوٹر سنٹرس کا احیاء عمل میں لایا اور پابندی سے امتحانات منعقد کئے جارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے مرحلہ میں 7 کمپیوٹر سنٹرس کو اَپ گریڈ کرتے ہوئے عصری بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ کمپیوٹر سنٹرس بودھن، نظام آباد، کریم نگر، ورنگل، محبوب نگر، حیدرآباد اور سدی پیٹ میں واقع ہیں۔ ابتداء میں 6 کمپیوٹر سنٹرس کے احیاء کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کے صدرنشین عامر شکیل رکن اسمبلی نے بودھن کو اس فہرست میں شامل کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر کمپیوٹر سنٹر کو تقریباً 80 لاکھ روپئے کی لاگت سے نئے کمپیوٹرس فراہم کئے جائیں گے اور ہر سنٹر میں پرنٹر، اسکانر اور انٹرنیٹ کی سہولت حاصل رہے گی تاکہ اقلیتی امیدواروں کو کمپیوٹر کورسیس میں بہتر ٹریننگ دی جاسکے۔ ہر کمپیوٹر سنٹر میں ماہر اور کوالیفائیڈ اسٹاف کا تقرر کیا جائے گا۔ موجودہ ملازمین میں سے ان کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ امید کی جارہی ہے کہ اندرون ایک ماہ کمپیوٹر سنٹرس کو ترقی دینے اور ان کے احیاء کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ اسی دوران حکومت نے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے 177 ملازمین کی خدمات اقلیتی بہبود کے مختلف اداروں میں حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ 15 برسوں سے یہ ملازمین خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن ابھی تک انہیں باقاعدہ نہیں کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں کے بقایا جات بہت جلد ادا کردیئے جائیں گے اور انہیں قابلیت کے اعتبار سے مختلف اقلیتی اداروں میں ضم کیا جائے گا۔ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر دفاتر میں اسٹاف کی قلت کے سبب اسکیمات پر عمل آوری میں دشواری ہورہی ہے۔ 8 اضلاع میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسرس موجود نہیں ہیں اور دیگر اضلاع کے عہدیداروں کو زائد ذمہ داری دی گئی ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے کمپیوٹر سنٹرس کے ملازمین ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر دفاتر میں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن تنخواہوں سے محرومی کے بعد انہوں نے احتجاجی راستہ اختیار کرلیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی مداخلت پر تنخواہوں کی بقایا جات کے ساتھ اجرائی ممکن ہوسکی ہے۔ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز جو 2 سال قبل تک اردو اکیڈیمی کے تحت تھے انہیں اقلیتی فینانس کارپوریشن منتقل کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کمپیوٹر سنٹرس کے امتحانات کے انعقاد کے سلسلہ میں اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی باہم اشتراک کے ساتھ کام کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT