Thursday , October 19 2017
Home / ادبی ڈائری / اردو کی روزی روٹی سے منسلک افراد ہی اس کی بدحالی کے ذمہ دار

اردو کی روزی روٹی سے منسلک افراد ہی اس کی بدحالی کے ذمہ دار

قاری ایم ایس خان
درج بالا جملہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے ’’اردو کے فروغ میں غیر مسلم قلمکاروں کا کردار‘‘ کے عنوان سے منعقد سمینار کی صدارت کرتے ہوئے کہا ۔آپ نے یہ بھی کہا کہ ہم میں سے زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ اردو کی ہم خدمت کررہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اردو ہماری خدمت کررہی ہے ۔ اردو کی بدحالی کیلئے اردو کے ٹیچر عموماً اور اردو کے پروفیسر خصوصاً ذمہ دار ہیں ۔ اردو روزی روٹی سے وابستہ حضرات نہ تو اردو اخبارات پڑھتے ہیں نہ ہی اردو کی کتابیں خریدتے ہیں بقول شاعر
ہزاروں لوگ رہبر روٹیاں اردو کی کھاتے ہیں
مگر ہے کون جو دیکھے کہ کیوں ہے نیم جاں اردو
ہم نے اردو کو اپنے گھروں اور محفلوں سے نکال دیا ہے ۔ گھروں اور محفلوں میں اکثر الفاظ و جملے ہم انگریزی کے بولتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے بچے اردو کے الفاظ سے ناواقف ہورہے ہیں ہمارے بچوں کو شنبہ ، یکشنبہ ، شب و روز ، لیل و نہار ، ہمشیرہ ، برادر نسبتی ، ہمزلف ، سکونت ، ڈاک خانہ ، تعلیم گاہ ، دانش گاہ ، محفل نکاح ، اشیائے خورد و نوش اور ادویات و سفوف و عرق کے معنی تک نہیں معلوم اور نہ ہی ان الفاظ کے املا سے واقف ہیں ۔ اردو اخبارات میں بھی انگریزی الفاظ کی بھرمار ہے ۔ نوجوان صحافی و نامہ نگار خالص اردوکے بجائے اینگلو اردو کو ترجیح دے رہے ہیں  ۔انھیں کمپلین اینڈ سجیشن بک اور ڈرینج سسٹم اور واٹر پیوری فائر سسٹم کو اردو میں کیا کہا اور لکھا جاتا ہے نہیں معلوم ۔ اسی طرح شعراء ، ادباء ، مصنفین اور صحافیوں کے بچوں اور نواسے نواسیوں اور پوترے پوتریوں کو بھی اردو نہیں آتی ۔ جو لوگ ٹائی اور کوٹ پہنتے ہیں ان کے بچے اردو پڑھ اور لکھ نہیں سکتے ۔ ساقط البحر و نیم اردوداں شعراء و شاعرات کی بھی بھرمار ہوچکی ہے ۔ اردو اکیڈیمی اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دھڑلے سے ان کے مجموعہ کلام کو شائع کرتی اور خریدتی ہے حقیقی شاعر اور حقیقی شاعری بقول شاعر
لفظ میٹھے ہوں ، زباں چست ہو ، نادر ہو خیال
تب کہیں جا کے کوئی بات سخن ہوتی ہے
نوجوان قاضی بھی اردو تحریر سے ناواقف ہیں ان کے نکاح ناموں میں بھی اغلاط کی بھرمار ہے ۔ مساجد سے بھی دھیرے دھیرے اردو غائب ہورہی ہے ۔ نمازوں کے اوقات ، ضروری اعلانات ، چندوں و عطیات ، زکوۃ صدقات اور عطیات کی اپیلیں ، اخبارات میں (اردو کے) ضرورت رشتہ ، پلاٹ یا مکان برائے فروخت کے اشتہارات بھی انگریزی میں شائع ہورہے ہیں ۔ اشتہارات کے مواد میں بھی انگریزی الفاظ کی بھرمار ہوچکی ہے ۔
یاد رہے کہ اردو ہماری متحدہ قومیت کی پاسدار اور اسلامی تہذیب کی علمبردار ہے ۔ اردو ہندو مسلم سکھ سبھی کی گود میں کھیلی کودی اور ہمیشہ ذات پات اور مذہبی و نسلی تفریق سے بالاتر رہی ہے  ۔اس کو کسی ایک قوم کے ساتھ مخصوص کرنا اس کے اجتماعی تہذیبی کردار کو مسخ کرنے کے برابر ہے ۔ اردو ایک شیریں ، سلیس ، شگفتہ اور میٹھی زبان ہے ۔ اسکی رگوں میں ہر ہندوستان کی جد وجہد کا خون گردش کرتا ہے بقول شاعر
وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے
اردو صرف ایک زبان نہیں یہ صرف چند الفاظ کے مجموعہ کا نام نہیں ، بلکہ یہ ایک تہذیب ، ایک ثقافت ، ایک تاریخ ، ایک عہد اور ایک تحریک کا نام ہے ۔ اردو زبان کا جنم ہندوستان میں ہی ہوا ہے ، یہ یہیں کی مٹی ہی سے جنم لی ، یہیں پلی بڑھی اور پھلی پھولی ہے ۔ اردو کے بدن سے ہندوستانیت کی خوشبو پھوٹتی ہے ۔ جنگ آزادی اردو میں لڑی گئی ۔ اردو نعروں اور اردو صحافت نے جنگ آزادی میں نمایاں رول ادا کیا ہے ۔ المختصر اردو کی بقا و تحفظ اور اس کے چلن کو عام کرنے کے لئے اور اسے ہر جگہ ہر دفتر اور ہر تعلیم یا دانش گاہ میں مروج کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اردوزبان کو روزی روٹی اور روزگار سے بھی جوڑیں ۔ اس کے لئے تمام اردوداں تمام سیاسی پارٹیوں اور تمام قائدین وغیرہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اردو کو روزگار اور ملازمتوں یا نوکریوں سے جوڑیں ۔ اردو والوں سے بھی میری پرزور اپیل ہے کہ وہ اردو کے فروغ کیلئے تن من دھن کی بازی لگائیں ۔ اردو میں نئے موضوعات اور جدید ٹکنالوجی پر لکھیں ۔ میں اپنی بات دو اشعار پر ختم کرتا ہوں کہ
اگر چاہتے ہو تم اردو بچانا
میاں اپنے بچوں کو اردو پڑھانا
میری اردو کے تحفظ کے لئے
ہر گلی میں اک مدرسہ چاہئے

TOPPOPULARRECENT