Sunday , April 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو کی مختلف اصناف میں نمایاں خدمات پر ایوارڈس

اردو کی مختلف اصناف میں نمایاں خدمات پر ایوارڈس

رمضان کے بعد مخدوم ایوارڈ کی پیشکشی، انعامی رقم بڑھانے کی مساعی

حیدرآباد۔/8 اپریل، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی جانب سے اردو کی مختلف اصناف میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیتوں کا اعتراف خدمات اور ایوارڈ کی پیشکشی کی روایت پر پابندی سے عمل کیا جارہا ہے۔ گزشتہ 3 برسوں سے اکیڈیمی نے مولانا ابوالکلام آزاد قومی ایوارڈ، مخدوم محی الدین ایوارڈ اور کارنامہ حیات ایوارڈز پابندی کے ساتھ عطاء کئے ہیں۔ اس طرح تلنگانہ اردو اکیڈیمی نے اپنی تمام اسکیمات پر موثر عمل آوری کی مثال قائم کی ہے۔ اکیڈیمی رمضان المبارک کے بعد مخدوم ایوارڈ کی پیشکشی کی تیاری کررہی ہے۔ اس ایوارڈ کی رقم کو ایک لاکھ سے بڑھا کر ایک لاکھ 25 ہزار کرنے حکومت کو تجویز روانہ کی گئی توقع ہے کہ اسے منظوری حاصل ہوجائے گی۔ 2015 اور 2016 کے دو مخدوم ایوارڈز کی پیشکشی باقی ہے جو مختلف اصناف جیسے شاعری، فکشن، تحقیق و تنقید، طنز و مزاح اور صحافت میں نمایاں خدمات پر دیا جاتا ہے۔ سکریٹری ؍ ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور نے بتایا کہ مخدوم ایوارڈ کیلئے درخواستیں طلب کرنے کی روایت نہیں ہے بلکہ مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل سرچ کمیٹی ایوارڈ یافتگان کا انتخاب کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1980 سے مخدوم ایوارڈ کی پیشکشی کا آغاز ہوا تھا اور ممتاز شاعر علی سردار جعفری کو پہلا ایوارڈ دیا گیا۔ اسوقت ایوارڈ کی رقم 10ہزار روپئے تھی۔ 1984 میں یہ رقم 25 ہزار اور 2000 میں اسے ایک لاکھ کیا گیا۔ آئندہ ایوارڈز کی رقم ایک لاکھ 25 ہزار کرنے کیلئے حکومت سے منظوری حاصل کی جارہی ہے۔ اکیڈیمی سے مولاناابوالکلام آزاد قومی ایوارڈ ہر سال 11 نومبر کو مولانا آزاد کے یوم پیدائش کے موقع پر دیا جاتا ہے جس کے تحت ایک لاکھ 25 ہزار روپئے دیئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ 7 مختلف زمرہ جات میں 25 ہزار روپئے پر مشتمل کارنامہ حیات ایوارڈز بھی دیئے جاتے ہیں۔ ایوارڈز کے سلسلہ میں اردو اکیڈیمی پر مختلف گوشوں سے دباؤ اور سفارشات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ مختلف اصناف کے ماہرین کے علاوہ غیر معروف افراد بھی خود کو ایوارڈ کے دعویدار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ بعض ایسے ایوارڈیافتگان بھی ہیں جنہیں 25 ہزار روپئے پر مشتمل مخدوم ایوارڈ دیا گیا تھا لہذا وہ اب باقی 75 ہزار روپئے کی ادائیگی کی مانگ کررہے ہیں کیونکہ ایوارڈ کی رقم اب بڑھ کر ایک لاکھ ہوچکی ہے۔ اس طرح ایوارڈز یافتگان کا انتخاب اور پیشکشی اردو اکیڈیمی حکام کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT