Monday , May 29 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو کے تحفظ کے لیے اردو کے قافلے کو آگے بڑھانے کا مشورہ

اردو کے تحفظ کے لیے اردو کے قافلے کو آگے بڑھانے کا مشورہ

محترمہ ثریا جبین کی تصنیف ’شان چمن ‘کی رسم اجراء ، جناب زاہد علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری : ( پریس نوٹ ) : سرزمین حیدرآباد کی خاک سے جہاں علم و ادب کی نامور شخصیتوں کا جنم ہوا وہیں آج بھی اس سرزمین میں اردو کی آبیاری کرنے والوں کی کمی نہیں ۔ روایات کی پاسداری کو ملحوظ رکھتے ہوئے بچوں کے ادب کی جانب بھی توجہ دی جارہی ہے ۔ اردو کے تحفظ کے لیے ہمیں اردو کے قافلے کو آگے بڑھانا ہے اور آنے والی نسلوں پر اردو کے ایسے گہرے نقوش چھوڑنا ہے جن کا سلسلہ نسل در نسل چلتا رہے ۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست نے کیا جو محترمہ ثریا جبین کی کتاب ’ شان چمن ‘ کی رسم اجراء انجام دے رہے تھے ۔ یہ تقریب 4 فروری کو اردو ہال حمایت نگر میں منعقد ہوئی ۔ جناب زاہد علی خاں نے علم کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علم انسان کی امتیازی خوبی اور ہمہ جہتی ترقی کا ضامن ہوتا ہے جو کہ بچوں کے اذہان کی جڑوں کو سرسبز و شاداب بناتا ہے ۔ اگر جڑیں کھوکھلی رہ گئیں تو درخت کسی وقت بھی مر جھا سکتا ہے ۔ ثریا جبین قابل مبارکباد ہیں کہ انہوں نے بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین قدم اٹھایا ہے ۔ آپ نے مشورہ دیا کہ علامہ اقبال کے ہر شعر پر ایک کہانی تحریر کریں ۔ اعزازی مہمان پروفیسر ایس اے شکور نے اردو اکیڈیمی کے اقدامات سے واقف کروایا اور کہا کہ آج بچوں کے ادب کی بہت کمی محسوس کی جارہی ہے ۔ محترمہ ثریا جبین کی ستائش کرتے ہوئے انہوں نے بچوں کا ادب ، تعلیم و تربیت پر اصلاحی قدم اٹھایا ہے اور دلچسپ کہانیوں کے پیرائے میں بچوں کو ’ شر اور خیر ‘ کے مفہوم سے آگاہ کیا ہے ۔ یہ کتاب بچوں کے لیے قیمتی تحفہ ہوسکتی ہے ۔ جناب عابد رسول خاں صدر جلسہ نے کہا کہ اصلاح معاشرے کا فرض نبھانے اردو زبان اپنا حق ادا کررہی ہے ۔ انہوں نے مصنفہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ بچوں کا ادب تحریر کر کے موجودہ ضرورت کی تکمیل کی ہے ۔ مہمان خصوصی جناب خواجہ کمال الدین نے کہا آج بچوں کے ادب کی سخت ضرورت محسوس کی جارہی ہے ۔ اردو زبان کی بقاء کے لیے نئی نسل کو اس جانب راغب کرنے کی ضرورت ہے ۔ بچوں کا ادب لکھنا کوئی آسان کام نہیں ۔ لیکن ثریا جبین نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ۔ بنیادی طور سے وہ افسانہ نگار ہیں ۔ لیکن بچوں کی اصلاح کا جذبہ ان میں بدرجہ اتم موجود ہے ۔ انہوں نے سبق آموز کہانیوں کے ذریعے نئی نسل کی ذہن سازی کی ہے ۔ آپ کا اسلوب نہایت سادہ اور سلیس ہے ۔ طرز تحریر نہایت پرکشش ہے ۔ شان چمن کی اشاعت پر انہوں نے مبارکباد پیش کی ۔ جسٹس اسمعیل نے اردو زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ملت کے تئیں اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے نئی نسل کو اردو سے قریب کرنا ضروری ہے ۔ انہوں نے مصنفہ کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے بچوں کا ادب تخلیق کر کے وقت کی اہم ضرورت کو پورا کیا ہے ۔ کہانیوں کے ذریعے ان میں اصلاحی ، سماجی ، دینی تعلیم کے علاوہ ایک اچھا شہری بننے کی راہ متعین کی ہے ۔ ڈاکٹر حمیرا علی چلڈرنس اسپیشلسٹ نے بچوں میں ڈر ، خوف کی وجوہات پر روشنی ڈالی اور ذہنی کمزور بچوں پر خصوصی توجہ پر زور دیا ۔ بچوں کی نفسیات سے متعلق انہوں نے جامع اظہار خیال کیا ۔ بچوں کا ادب تحریر کرنے پر مصنفہ کو مبارکباد دی ۔ جلسے کا آغاز عثمان صدیقی کی قرات کلام پاک سے ہوا ۔ خدیجہ صدیقی نے دعا پیش کی ۔ اس کے بعد ڈاکٹر حمیرا سعید اسسٹنٹ پروفیسر نے مصنفہ کا تعارف پیش کیا ۔ سمیہ تمکین نے کتاب شان چمن پر مختصر جامع تبصرہ پیش کیا ۔ ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی کی بہترین نظامت نے جلسہ کو کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ بعد ازاں محترمہ ثریا جبین نے تمام مہمانوں اور مدعوئین کا شکریہ ادا کیا ۔ اس طرح یہ خوبصورت محفل اختتام کو پہنچی ۔ اس جلسے میں ادب دوست ، خواتین ، حضرات اور بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT