Saturday , August 19 2017
Home / Mera Column / اردو ہے جس کا نام’’ سبھی‘‘ جانتے ہیں داغ

اردو ہے جس کا نام’’ سبھی‘‘ جانتے ہیں داغ

میرا کالم              سید امتیاز الدین
آج کل ہمارا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی اچھی بات سنتے ہیں تو گھنٹوں خوش رہتے ہیں ۔ چونکہ اچھی خبریں روز روزہ سننے میں نہیں آتیں ۔ اس لئے ہم اپنی اس عارضی خوشی کو طوالت دیتے رہتے ہیں تاوقتیکہ کوئی دوسری اچھی خبر سننے میں نہ آئے ۔ آپ نے کچھ دن پہلے پڑھا ہوگا کہ ٹی ایس ٹھاکر صاحب کا تقرر حال میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی حیثیت سے ہوا اور شاید وہ لمبے عرصے تک اس اعلی عہدے پر فائز رہیں گے ۔ 7 دسمبر کو اپنی قیام گاہ پر انھوں نے مختلف موضوعات پر نہایت عمدہ بات چیت کی ۔ رواداری اور عدم رواداری کے مسئلے پر ان کے خیالات بالکل ویسے ہی ہیں جیسے قانون کے سچے محافظ کے ہونے چاہئیں ۔ انھوں نے کہا کہ جب تک قانون کی عملداری ہے اور عدلیہ کام کررہا ہے کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ دوران گفتگو انھوں نے ایسی بات سنائی جسے سن کر ہم پھڑک اٹھے ۔ چیف جسٹس صاحب نے کہا کہ بھگوت گیتا سنسکرت میں لکھی گئی تھی لیکن وہ سنسکرت سے ناواقف ہیں ۔ وہ بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ پڑھتے ہیں جسے ایک مسلمان صاحب نے کیا تھا ۔ آپ ہی بتایئے کہ رواداری کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ ایک مسلمان نے کیا اور ہمارے قابل احترام چیف جسٹس کی حق گوئی اور انصاف پسندی کی کتنی تعریف کی جائے کہ انھوں نے کھلے عام اس کا اعتراف کیا ۔ ظاہر ہے کہ وہ بھگوت گیتا ہر روز پڑھتے ہوں گے جبکہ خود اردو والے ہرروز اردو نہیں پڑھتے ۔ جن دنوں ہم ہائی اسکول کے طالب علم تھے تو ہماری اردو کی کتاب میں ایک نظم تھی جس کا عنوان تھا ’رامائن کا ایک باب‘ ۔ اس نظم کا ایک شعر تھا جس میں رام چندر جی کے بن باس پر جانے کا تذکرہ تھا ۔ شعر کچھ یوں تھا۔
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام
راہ وفا کی منزل اول ہوئی تمام
ہمارے ایک دوست کویہ شعر ازبر تھا ۔ ہمارے اردو کے استاد کبھی کبھی بچوں کی دلچسپی کے لئے اور شعر صحیح پڑھنے کی مشق کرانے کے لئے بیت بازی رکھتے تھے ۔ اس مقابلے میں ہمارے دوست مندرجہ بالا شعر ضرور پڑھتے تھے ۔ ہم نے اب تک بھگوت گیتا کا اردو ترجمہ دیکھا نہیں ہے لیکن ہمیں بھی اب اسے دیکھنے کا اشتیاق پیدا ہوا ہے ۔
اسی طرح ایک اور خبر ہماری نظر سے گزری جس سے ہم بہت خوش ہوئے ۔ دہلی کے ایک وکیل امیت ساہنی صاحب نے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کی تھی کہ پولیس کام کاج میں استعمال ہونے والے اردو اور فارسی الفاظ ختم کردیئے جائیں اور ان کی جگہ ہندی متبادل الفاظ رائج کئے جائیں ۔ جب عدالت نے پولیس کا موقف معلوم کیا تو دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا کہ اسے اردو اور فارسی کے الفاظ استعمال کرنے میں کوئی پریشانی نہیں بلکہ ان اردو الفاظ کی بجائے جو ہندی الفاظ تجویز کئے گئے ہیں وہ زیادہ مشکل اور پریشان کن ہیں ۔

اپنے حلف نامے میں پولیس نے کہا ہے کہ وہ ایف آئی آر اردو روزنامچے میں اردو کے جن الفاظ کو استعمال کرتی ہے وہ وسیع پیمانے پر سمجھے جاتے ہیں اور ایک عام آدمی بھی انھیں سمجھ لیتا ہے ۔ دہلی پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ جن الفاظ کو استعمال کرتی ہے وہ نہ تو دقیانوسی ہیں نہ ہی مشکل ، بلکہ ان کے مترادفات کے طورپر ہندی اور انگریزی کے جو الفاظ عرضی گزار نے تجویز کئے ہیں وہ بالکل ناقابل فہم ہیں اور ان سے نئی نئی مشکلات پیدا ہوں گی ۔ معلوم ہوا ہے کہ اردو اور فارسی کے 132 الفاظ ٹریننگ کے دوران پڑھائے جاتے ہیں جیسے ضابطہ ، محرر ، انسداد جرائم ، امروز ، انکشاف ، مسمّی ، مشتبہ، عدم پتہ وغیرہ ۔ مفاد عامہ کے عرضی گزار امیت ساہنی صاحب ان الفاظ کے خلاف ہیں اور ہندی  اور انگریزی کے دوسرے الفاظ ان کی جگہ لانا چاہتے ہیں ۔ دہلی پولیس نے اپنے حلف نامے میں اقرار کیا ہے کہ موجودہ زیر استعمال الفاظ سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہے اور امیت ساہنی کو تشویش غیر ضروری ہے ۔ ایسے میں ہم اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ
فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
اس موقع پر ہم کو اردو کے مایہ ناز طنز و مزاح نگار کنہیا لال کپور یاد آگئے جنہوں نے اپنی ایک کتاب اردو کے نام اس طرح معنون کی تھی ’’اردو کے نام جو مظلوم ہونے کے باوجود نہایت ظالم بھی ہے کہ ہزار کوششوں کے باوجود مرنے ہی نہیں پاتی‘‘ ۔ ہمیں آج اردو کے ایک نامور شاعر ، ماہر قانون داں ، ممبر آف پارلیمنٹ اور اندرا گاندھی کے قانونی صلاح کار آنند نارائن ملاّ کی یاد آرہی ہے جنھوں نے کہا تھا کہ میں اپنا سب کچھ چھوڑ سکتا ہوں لیکن اپنی مادری زبان اردو نہیں چھوڑ سکتا ۔

چند دن پہلے ہماری وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان گئی تھیں ۔ وہاں ان کی تقریر اور بات چیت سن کر نواز شریف نے اعتراف کیا کہ سشما جی کا لب و لہجہ خود نواز شریف کے لب و لہجے سے بہتر ہے ۔ اور تو اور ہمارے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ جب 13 ڈسمبر کو دلیپ کمار کے گھر پدم وبھوشن ایوارڈ دینے کے لئے گئے تو ان کی مختصر سی تقریر کافی متاثرکن تھی ۔
اب ذرا اردو والوں کے حال پر بھی غور کیجئے ۔ ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ کسی گھر کی ملازمہ علی الصبح کام کے لئے آئی تو اس کی مالکن نے اس سے کہا ’رات صاحب کا انتقال ہوگیا‘ ۔ ملازمہ نے صدمے کی وجہ سے رونا چاہا تو گھر کی مالکن نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور کہا ’میں نے خبر تم کو رونے کے لئے نہیں سنائی ۔ میں صرف یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آج ناشتے میں دو چپاتیاں کم سینکو اور ایک انڈا کم تلو‘ ۔ آج اردو والوں کا کم و بیش یہی حال ہے ۔ جہاں صدرِ خاندان رخصت ہوا اسی مہینے اردو اخبار بند ۔ پہلے بچے باہر جاتے تو ماں باپ کو خط لکھتے ۔ اب یا تو ٹیلی فون ہے یا ای میل ۔ خط و کتابت ہوتی تھی تو کچھ لکھنے کی مشق ہوتی تھی ۔ الفاظ کے ہجّے یاد رہتے تھے ۔ صیغۂ واحد کو صیغۂ جمع بنانا آتا تھا ۔ ہم نے ایک صاحب کا قصہ سنا تھا جو اپنے نوکر سے دو بطخیں منگوانا چاہتے تھے ۔ نوکر نے بطخ کبھی دیکھی نہیں تھی بلکہ بطخ کے نام سے بھی واقف نہیں تھا ۔ان صاحب نے سوچا کہ دکاندار کو چٹھی لکھ دیں ۔ اب ان کے سامنے مشکل یہ تھی کہ دکاندار کو چٹھی میں کیا لکھیں ۔ پہلے تو انھوں نے دکاندار کو لکھا ’میرے نوکر کے ذریعہ دو بطایخ روانہ کیجئے‘ ۔ ان کو یہ کچھ عجیب لگا ۔ پھر انھوں نے لکھا ’براہ کرم دو بطوخ روانہ کیجئے‘ ۔ یہ بھی کچھ عجیب سا لگا ۔ تنگ آکر انھوں نے ذرا بڑا کاغذ لیا اور اس پر لکھا ’براہ کرم ایک بطخ روانہ کیجئے اور اسی بطخ کے ہمراہ ایک اور بطخ روانہ کیجئے‘ ۔

خیر یہ تو پرانی باتیں تھیں لیکن اپنی زبان کے تعلق سے ہماری بے نیازی اور عدم دلچسپی کا اندازہ ہم کو اسی ہفتے ہوا ۔ پتہ نہیں آپ کو اس بات کی خبر بھی ہے کہ ہمارے شہر میں بہت بڑے پیمانے پر 19 واں سالانہ کتاب میلہ چل رہا ہے جس میں ہندوستان بھر کے اردو اشاعتی ادارے اپنی اپنی مطبوعات کے ساتھ آئے ہیں ۔ سنا ہے کہ ایسا ہی کتاب میلہ مالیگاؤں میں بھی لگا تھا جو ایک چھوٹا سا شہر ہے ۔ وہاں کروڑوں روپے کی کتابیں بکی تھیں ۔ یہ بک سیلرس بڑی توقعات کے ساتھ حیدرآباد آئے ہیں لیکن ان کی توقعات کے برعکس کتابیں بک نہیں رہی ہیں اور ان بے چارے کتب فروشوں کے آنے جانے کا خرچ بھی نکلنا دشوار ہوگیا ہے ۔ اس میلے میں ہر قسم کی کتابیں ہیں ۔ دینی کتابیں ، سوانحی کتابیں ، افسانے ، ڈرامے ، لغات ، انسائیکلوپیڈیا ، بچوں کی کتابیں وغیرہ ۔ لیکن کتابیں خریدنے والا کوئی نہیں ۔ کتب فروش اتنے افسردہ ہیں کہ وہ اگلی بار آنے یا نہ آنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔ ہم نے بھی تھوڑی بہت خریداری کی ۔ یہ کتاب میلہ 20 دسمبر اتوار کو ختم ہوجائے گا ۔ یہ کتاب میلہ قلی قطب شاہ اسٹیڈیم سٹی کالج کے قریب لگا ہے ۔ ہم اپنے قارئین سے امید کرتے ہیں کہ وہ ایک بار اس کتاب میلہ کو دیکھ لیں اور ہوسکے تو ایک آدھ کتاب یا رسالہ خرید لیں ۔ اس طرح ہم اپنی زبان کی کچھ نہ کچھ خدمت کرسکیں گے ۔ اگر ہم ایک کتاب بھی نہ خریدیں تو ہم نے اپنی مادری زبان کا کیا حق ادا کیا ۔ اردو کے مشہور مزاح نگار احمد شاہ بخاری پطرس کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنی کلاس میں کبھی کہتے کہ آج کل کتب فروشوں کے پاس فلاں کتاب آئی ہوئی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ابھی تم لوگوں کے لئے اس کا پڑھنا مناسب نہیں ہے ۔ یہ سنتے ہی ان کے طالب علموں میں تجسس پیدا ہوتا اور وہ خاص طور پر کتابوں کی دکان کو جاتے اور وہ کتاب خریدتے ۔ پطرس کا منشا بھی یہی ہوتا ۔ یہ بات ہمیں اس لئے بھی یاد آئی کہ ہم نے کتاب میلے میں ایک کتاب دیکھی جس کا نام تھا کلیاتِ سعادت حسن منٹو ۔ ایک زمانہ تھا کہ ہم ابھی کم عمر تھے اور چوری چھپے منٹو کے افسانے پڑھتے تھے ۔

خیر آج کا ہمارا کالم معلومات کا پٹارہ سا ہوگیا ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ اردو کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ہم نے کچھ دن ہوئے ایک نہایت اچھا شعری مجموعہ پڑھا ۔ شاعر کا نام تھا راجیش ریڈی ۔ اس شاعر کی مادری زبان تلگو ہے لیکن اس کی اردو نہایت عمدہ ہے ۔ وہ غزل اور نظم دونوں میں طبع آزمائی کرتا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے اس کی مادری زبان ہی اردو ہے ۔ راجیش ریڈی آکاش وانی ممبئی میں ڈائرکٹر (Director) ہیں اور اس سے پہلے دہلی میں بھی برسرکار رہ چکے ہیں ۔ اسی طرح چندر بھان خیال بھی اردو کے اچھے شاعر ہیں ۔ ہم کو زبان کے تعلق سے کھلا ذہن رکھنا چاہئے ۔ اردو کے مشہور نقاد شمیم حنفی نے ابتداء میں ہندی میں لکھنا شروع کیا تھا ۔ ہم کو بھی دوسری زبانیں سیکھنا چاہئے ۔ لیکن اردو سے ہمیں نہ صرف محبت ہونی چاہئے بلکہ کتابیں خرید کر ، اردو اخبار منگواکر اردو زبان سے اپنی عملی محبت کا ثبوت دینا چاہئے ۔ کتابیں مانگ کر پڑھنے اور پھر انھیں واپس نہ کرنے کی عادت اردو والوں میں بہت قدیم ہے ۔ اکبر الہ آبادی کے زمانے میں جبکہ اردو ملک کی واحد سب سے بڑی زبان تھی اور اردو والے کچھ ایسے خستہ حال بھی نہیں تھے ، ان دنوں بھی اردو کتابیں خریدنے کا رواج کم تھا چنانچہ اکبر نے کہا تھا۔
کھلا دیواں مرا تو شورِ تحسیں ہر طرف اٹھا
مگر سب ہوگئے خاموش جب مطبع کا بِل آیا

TOPPOPULARRECENT