Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو یونیورسٹی میں محمد میاں کے خفیہ دورہ کے خلاف اساتذہ اور طلبہ کی برہمی

اردو یونیورسٹی میں محمد میاں کے خفیہ دورہ کے خلاف اساتذہ اور طلبہ کی برہمی

تعطیل کے باوجود متنازعہ فائیلوں کی یکسوئی کا منصوبہ، برائے نام افتتاحی تقریب، چانسلر لاعلم، یونیورسٹی میں ماحول کشیدہ
حیدرآباد۔/9اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ایسے وقت جبکہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے مستقل وائس چانسلر کا تقرر آخری مرحلہ میں ہے، سابق وائس چانسلر نے یونیورسٹی کے خفیہ دورہ کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ ان کے دور میں کی گئی مبینہ بے قاعدگیوں کے متعلق فائیلوں کو درست کیا جاسکے۔ چانسلر یونیورسٹی ظفر سریش والا نے انکشاف کیا کہ یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کا کسی بھی وقت اعلان کیا جاسکتا ہے اور اس سلسلہ میں دو نام حکومت کے زیر غور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل نے کافی غور و خوض اور ان سے مشاورت کے بعد دو ناموں کو قطعیت دی ہے جن میں سے ایک کا بحیثیت وائس چانسلر تقرر کیا جائیگا۔ ان میں پروفیسر سراج الحسن اور پروفیسر فیضان مصطفی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں اپنے اپنے تجربہ کے اعتبار سے میرٹ کی بنیاد پر امکانی وائس چانسلر کی فہرست میں شامل کئے گئے ہیں۔ پروفیسر سراج الحسن نامور سائنٹسٹ اور ایک قومی ادارہ سے وابستہ ہیں جبکہ پروفیسر فیضان مصطفی نلسار یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔ دونوں کا تعلق علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہے۔ اسی دوران یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر محمد میاں ہفتہ کے دن ایک روزہ دورہ پر حیدرآباد پہنچنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ یونیورسٹی میں موجود ان کے حامیوں بشمول انچارج وائس چانسلر نے ایک تقریب کے بہانے انہیں مدعو کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وی آئی پی گیسٹ ہاؤز کی عمارت کا محمد میاں کے ہاتھوں افتتاح کرنے کا منصوبہ ہے اور اس بہانے وہ اپنے دور میں کئے گئے بعض متنازعہ فیصلوں سے متعلق فائیلوں کا جائزہ لیں گے اور ان کی درستگی عمل میں لائی جائے گی تاکہ نئے وائس چانسلر کو ان فائیلوں پر کسی کارروائی کا موقع نہ رہے۔ اس پروگرام کو انتہائی راز میں رکھا گیا اور آج شام اس سلسلے میں مخصوص افراد کو سرکیولر جاری کرتے ہوئے مدعو کیا گیا ۔ ہفتہ کی شام 5 بجے یہ تقریب منعقد ہوگی ۔ اساتذہ اور طلبہ کے امکانی احتجاج کو دیکھتے ہوئے سیکوریٹی کے انتظامات کئے جارہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ محمد میاں نے انچارج وائس چانسلر اور اپنے دیگر حواریوں اور حامیوں کو متعلقہ فائیلوں کی فہرست روانہ کی ہے اور تعطیل کے باوجود وہ اس تقریب میں حصہ لینے کے بہانے یونیورسٹی پہنچ کر فائیلوں کی غلطیوں کو درست کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ محمد میاں کے دورہ کے پروگرام کو قطعیت دی جاچکی ہے لیکن یونیورسٹی کے حکام اس کی تصدیق کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ اس بارے میں جب چانسلر ظفر سریش والا سے پوچھا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق وائس چانسلر کے ہاتھوں افتتاحی تقریب کی انہیں کوئی اطلاع نہیں ہے اور نہ ہی ان کی منظوری حاصل کی گئی۔ ظفر سریش والا نے یونیورسٹی میں جاری سرگرمیوں پر حیرت کا اظہار کیا تاہم کہا کہ نئے وائس چانسلر کی نامزدگی کے بعد تمام حالات درست ہوجائیں گے۔ محمد میاں کے دورہ سے متعلق سرگرمیوں کی اطلاع ملتے ہی یونیورسٹی میں اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے مخالفت کا آغاز ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف نے محمد میاں کے دورہ کی مخالفت کی اور دورہ کی صورت میں احتجاج منظم کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس سلسلہ میں اسوسی ایشن کی جانب سے انچارج وائس چانسلر کو باقاعدہ مکتوب حوالہ کیا گیا۔ یونیورسٹی کے طلبہ بھی محمد میاں کے مجوزہ دورہ کے خلاف ہیں اور آج رات تک بھی یونیورسٹی میں ماحول کشیدہ دیکھا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ انچارج وائس چانسلر پولیس کی مدد سے محمد میاں کے دورہ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اگر وہ افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے تب بھی اساتذہ اور طلبہ کی نظر اس بات پر رہے گی کہ وہ فائیلوں کی یکسوئی کیلئے کس مقام کا تعین کریں گے۔ انچارج وائس چانسلر نے اپنے تمام ماتحت عہدیداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ محمد میاں کے دورہ کو انتہائی راز میں رکھیں تاکہ مقاصد کی تکمیل ہوسکے۔ محمد میاں اور ان کے حامیوں کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ نئے وائس چانسلر کی نامزدگی کے بعد ان کی مبینہ بے قاعدگیاں منظر عام پر آئیں گی اور تحقیقات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اسی دوران چانسلر ظفر سریش والا نے کہا کہ یونیورسٹی کی موجودہ صورتحال انتہائی ابتر اور درستگی کی متقاضی ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ حیدرآباد کے بعد دربھنگہ بہار میں یونیورسٹی کا دوسرا بڑا کیمپس ہے جہاں آئی ٹی آئی، پالی ٹیکنک اور ٹیچرٹریننگ کالج ہے لیکن گزشتہ 17برسوں سے آئی ٹی آئی اور پالی ٹیکنک کو آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کی مسلمہ حیثیت حاصل نہیں ہوئی ہے جس کے باعث وہاں سے فارغ طلبہ کی ڈگریاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے کہا کہ فاصلاتی تعلیم  بغیر نصابی کتاب کے چل رہی ہے اور یہ یونیورسٹی حکام کی لاپرواہی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حیدرآباد میں حج ہاوز کی ایک منزل حاصل کرتے ہوئے وہاں اڈمنسٹریٹیو آفس اور ٹریننگ کلاسیس کے اہتمام کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کریم نگر میں حکومت کی جانب سے فراہم کی جارہی 5ایکر اراضی پر اسکول اور آئی ٹی آئی قائم کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT