Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو یونیورسٹی میں ’ کتب کی اشاعت ‘ کا ایک اور بڑا اسکام

اردو یونیورسٹی میں ’ کتب کی اشاعت ‘ کا ایک اور بڑا اسکام

17 تا 18 کروڑ کا غبن ، تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ ، وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم رویز کارروائی سے قاصر
حیدرآباد۔ 9۔ مئی  (سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں وائی فائی اور وائی میکس کے سلسلہ میں کروڑوں روپئے کے اسکامس کے بعد فاصلاتی تعلیم سے متعلق کتابوں کی اشاعت کا ایک اور اسکام منظر عام پر آیا ہے۔ منی پال میں کتابوںکی اشاعت میں اس اسکام میں تقریباً 7 کر وڑ روپئے کے غبن کا ثبوت تحقیقات میں دستیاب ہوا اور مجموعی طور پر یہ اسکام 17 تا 18 کروڑ روپئے پر مشتمل بتایا جاتا ہے ۔ یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز نے منی پال پریس میں کتابوں کی اشاعت کے اسکام کی جانچ کیلئے پروفیسر محمد سلیمان صدیقی کی صدارت میں تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کے قیام کے وقت وائس چانسلر کو اس اسکام کے بارے میں خاطر خواہ معلومات حاصل ہوچکی تھیں لیکن افسوس کہ کمیٹی کی جانب سے اسکام اور اس میں ملوث افراد کی نشاندہی کے باوجود ڈائرکٹر فاصلاتی تعلیم کی حیثیت سے دوبارہ اسی شخص کو مقرر کیا گیا جو اسکام کا اہم ذمہ دار بتایا گیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے ایک ماہ قبل وائس چانسلر کو اپنی رپورٹ پیش کردی اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی لیکن وائس چانسلر نے آج تک سفارشات پر عمل نہیں کیا ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ تحقیقاتی رپورٹ کو یونیورسٹی کی اگزیکیٹیو کونسل میں پیش کرتے ہوئے خاطیوں کے خلاف کارروائی کی منظوری حاصل کی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ فاصلاتی تعلیم کے اس وقت کے ڈائرکٹر جو آج بھی ڈائرکٹر ہیں، انہوں نے نصابی کتب کا کام منی پال کے ایک پریس کے حوالے کیا۔ یہ کتابیں 7 کروڑ روپئے میں شائع کی جاسکتی تھیں اور حیدرآباد میں بہترین اشاعت کے مراکز ہیں لیکن منی پال پریس کو 14 کروڑ روپئے ادا کئے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس رقم کے علاوہ بھی مزید رقم ادا کی گئی اور اس معاملت میں اس وقت کے وائس چانسلر ، ڈائرکٹر فاصلاتی تعلیم، رجسٹرار اور فینانس آفیسر ملوث پائے گئے جنہوں نے مبینہ طور پر اس کنٹراکٹ کیلئے بھاری رقومات حاصل کی ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ ڈائرکٹر فاصلاتی تعلیم دراصل اس وقت کے وائس چانسلر کے رشتہ دار ہیں جس کے نتیجہ میں ان کے خلاف کارروائی کرنے سے گریز کیا جارہا ہے۔ 2007 ء سے 2012 ء تک یہ کتابیں منی پال میں شائع کی گئیں اور ہر سال کتنی کتابیں شائع ہوئی ہیں اور کتنی فروخت کی گئی اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں 1.2 کروڑ روپئے کنٹراکٹ سے زائد ادا کئے گئے۔ یونیورسٹی نے کتابیں حاصل کرنے کے بجائے منی پال پریس کو طلبہ کے مکانات کا ایڈریس روانہ کرتے ہوئے خواہش کی کہ ان کے پتہ پر کتابیں روانہ کردی جائیں۔ تحقیقات میں پتہ چلا کہ ضرورت سے کہیں زیادہ کتابیں شائع کی گئیں اور یونیورسٹی نے کتابوں کو حاصل نہیں کیا جس کے نتیجہ میں منی پال پریس نے 6 ٹرک کتابیں یونیورسٹی کو روانہ کردی۔ آج بھی 4 لاکھ سے زائد کتابیں یونیورسٹی میں بیکار پڑی ہوئی ہیں، جن کا کوئی استعمال نہیں ہے۔ اس طرح کتابوں کی اشاعت کے معاملہ میں کروڑہا روپئے کی دھاندلی کی گئی۔ تحقیقاتی کمیٹی نے اسکام میں ملوث ایسے افراد جو ابھی بھی یونیورسٹی میں برسر خدمت ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے لیکن نئی دہلی سے زبردست دباؤ کے سبب وائس چانسلر ڈاکٹر اسلم پرویز کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ یونیورسٹی میں گزشتہ دو وائس چانسلرس کے دور میں بے انتہا دھاندلیاں کی گئیں اور بڑے پیمانہ پر تقررات کئے گئے جو غیر قانونی تھے۔ یونیورسٹی کے قواعد کے برخلاف تقررات عمل میں لائے گئے ۔ اس کے علاوہ اپنے قریبی افراد اور شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے افراد کو آؤٹ آف ٹرن ترقیاں دیتے ہوئے پروفیسر بنادیا گیا۔ موجودہ وائس چانسلر نے یونیورسٹی کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو تمام بے قاعدگیوں کی جانچ کا تیقن دیا تھا لیکن پروفیسر سلیمان صدیقی کی تحقیقاتی رپورٹ پر عمل آوری کے ذریعہ انہیں اپنی سنجیدگی کو ثابت کرنا ہوگا۔ اگر یہی صورتحال رہی تو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی بے قاعدگیوں اور اسکامس کا مرکز بن جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT