Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو یونیورسٹی کے معیار میں اضافہ کی ضرورت: ظفرسریش والا

اردو یونیورسٹی کے معیار میں اضافہ کی ضرورت: ظفرسریش والا

چانسلر کی حیدرآباد آمد،یونیورسٹی کی کارکردگی کا جائزہ، حقیقی صورتحال سے آگہی، شکایات کی سماعت

حیدرآباد۔/7اگسٹ، ( سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر ظفر سریش والا نے آج اردو یونیورسٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور یونیورسٹی حکام کو ہدایت دی کہ وہ معیار تعلیم میں اضافہ کی مساعی کریں تاکہ یونیورسٹی دیگر قومی یونیورسٹیز سے مسابقت کرسکے۔ سریش والا ایک روزہ دورہ پر آج حیدرآباد میں تھے۔ انہوں نے انچارج وائس چانسلر پروفیسر خواجہ محمد شاہد کے علاوہ مختلف اداروں کے ڈائرکٹرس، مختلف شعبہ جات کے ڈین، پروفیسرس اور دیگر ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ عہدیداروں سے ملاقات کی۔ سریش والا نے تمام شعبہ جات اور ڈپارٹمنٹس کی کارکردگی کا فرداً فرداً جائزہ لیا اور خاص طور پر جاریہ سال یونیورسٹی میں مختلف کورسیس کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ انہوں نے حکام سے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اردو یونیورسٹی کا معیار حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے معیار کے مطابق ہو اور یہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ مختلف معیاری خانگی کمپنیوں میں روزگار کے حصول کے قابل رہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کو 5سال پر مبنی ایکشن پلان حوالے کریں گے جس کے مطابق یونیورسٹی کے معیار کو بلند کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ ظفر سریش والا نے یونیورسٹی کے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ عملے کے علاوہ ملازمین اور ٹیچرس کی تنظیموں کے نمائندوں سے بھی بات چیت کی اور ان کی شکایات کی سماعت کی۔ انہوں نے طلبہ کے نمائندوں سے بھی ملاقات کرتے ہوئے یونیورسٹی کے حالات پر معلومات حاصل کی۔ ظفر سریش والا کا یہ دورہ اس اعتبار سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ مرکزی حکومت بہت جلد یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا تقرر کرنے جارہی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے بعض عہدیداروں نے سریش والا کو روز نامہ ’سیاست‘ میں شائع ہونے والے انکشافات کا حوالہ دیا۔ سابق وائس چانسلر محمد میاں کے حامیوں نے ’سیاست‘ میں شائع ہونے والی خبروں کی شکایت کی جس پر ظفر سریش والا نے کہا کہ یونیورسٹی کو اس بات کی کوشش کرنی چاہیئے کہ ان کی کارکردگی شفافیت پر مبنی ہو۔ اگر کارکردگی میں خرابی ہو تو پھر تنقیدوں کا سامنا فطری ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ یونیورسٹی کے ذمہ داروں کو چاہیئے کہ وہ اپنی کارکردگی کے ذریعہ بہتر نتائج کو یقینی بنائیں۔ بعد میں ’سیاست‘ سے بات چیت کرتے ہوئے ظفر سریش والا نے کہا کہ بہت جلد نئے وائس چانسلر کا تقرر کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے مختلف کورسیس میں داخلوں کا رجحان حوصلہ افزاء ہے تاہم بعض شعبہ جات ابھی بھی داخلوں میں کافی پیچھے ہیں۔ انہوں نے حکام سے کہا کہ وہ مینجمنٹ کوٹہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو اسٹاک ایکسچینج اور اس سے مربوط اداروں کے اُمور میں مہارت پیدا کریں تاکہ ان کیلئے بہتر روزگار کی راہ ہموار ہوسکے۔ یونیورسٹی حکام نے انہیں مرکز کی جانب سے یونیورسٹی کو 330کروڑ روپئے کی منظوری میں تعاون کی خواہش کی۔ ظفر سریش والا نے اس سلسلہ میں وزیر اعظم سے نمائندگی کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ یونیورسٹی کے تمام اُمور پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کی ترجیح یونیورسٹی کے معیار کو بلند کرنا ہے اس کے علاوہ ملک کے مختلف علاقوں میں موجود یونیورسٹی کے مراکز کو مستحکم کیا جائے گا۔ ظفر سریش والا حیدرآباد میں اقلیتوں کے تعلیمی مسائل پر قومی سمینار کے انعقاد کا منصوبہ رکھتے ہیں جس میں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ چیف منسٹر کی مصروفیت کے باعث ان کی ملاقات نہ ہوسکی لہذا سمینار کے پروگرام کو جاریہ ماہ کے اواخر تک ملتوی کردیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ظفر سریش والا کی یونیورسٹی میں موجودگی کے دوران سابق وائس چانسلر کے حواریوں نے انہیں گھیرے رکھا تاکہ یونیورسٹی کی بے قاعدگیوں کی شکایات نہ کی جاسکیں۔ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی تنظیموں  سے ملاقات کے موقع پر انچارج وائس چانسلر کے حامی موجود رہے تاکہ کوئی بھی حقیقی صورتحال سے چانسلر کو واقف نہ کراسکیں۔ طلباء اور ملازمین کی تنظیموں کا احساس تھا کہ ظفر سریش والا کو انفرادی طور پر ملاقات کرتے ہوئے معلومات حاصل کرنی چاہیئے صرف سرسری انداز میں جائزہ اجلاس سے حقیقی صورتحال منظر عام پر نہیں آئے گی۔ یونیورسٹی کے حکام نے جائزہ اجلاس کے دوران کئی خامیوں کی پردہ پوشی کی اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یونیورسٹی میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے حالانکہ ابھی بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے تقررات اور مختلف محکمہ جات میں حالیہ عرصہ میں کئے گئے تقررات پر تنازعہ برقرار ہے۔

TOPPOPULARRECENT