Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / ارشاد فاروقی کی تصنیف، مجتبیٰ حسین بحیثیت مزاحیہ خاکہ نگار

ارشاد فاروقی کی تصنیف، مجتبیٰ حسین بحیثیت مزاحیہ خاکہ نگار

تقریب رسم اجرائی سے صدر شعبہ کشمیر یونیورسٹی پروفیسر منصور احمد منصور کا خطاب
کشمیر۔ 9 ۔ ستمبر (ای میل ) ملک کے مشہورومعروف طنزومزاح نگار اورپدم شری انعام یافتہ جناب مجتبیٰ حسین کے79 ویں جنم دن کے موقع پرجناب ارشاد آفاقی کی تصنیف کردہ کتاب’’ مجتبیٰ حسین بحیثیت مزاحیہ خاکہ نگار ‘‘کا رسم اجراریاست جموںوکشمیرکلچرل اکیڈمی کے زیراہتمام کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں منعقد ہوا۔اس پروقار تقریب کی صدارت ڈاکٹرمحمدزمان آززدہ  سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس نے کی۔جبکہ مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر عبدلعزیزحاجنی سکریٹری ریاست جموںوکشمیرکلچرل اکیڈمی موجود تھے۔تقریب میں مہمان ذی وقار کے طورپرجناب فاروق نازکی،پروفیسر عارفہ بشری ٰ، ڈاکٹر مشتاق احمد گنائی،ڈاکٹر الطاف، ڈاکٹرمشتاق حیدر، ڈاکٹرکوثررسول، جناب سلیم سالک، جناب شاکرشفیع ڈاکٹر شاہ فیصل کے علاوہ بھاری تعداد میں اسکالروں اورطلباء نے شر کت کی۔اس پروقار تقریب کا آغازکلام ِپاک اور نعتِ رسولﷺ سے کیا۔خطبہ استقبالہ میںپروفیسرمنصور احمد منصور (صدرِشعبہ اردو)نے صدرِجلسہ اور مہمانانِ ذی عزت کا استقبال کرنے کے ساتھ ساتھ یہ کہا کہ ارشادآفاقی ہمارے ان ہو نہاراسکالروں میں ہیں۔جس نے نہ صرف کتاب لکھ کر شہرت حاصل کی بلکہ یہ شعبہ اردو کے پہلے طالب علم ہے

جس نے دسمبر ۲۰۰۷ میں جے۔آر۔ایف (یو۔جی۔سی) کا امتحان پاس کرکے شعبہ سے ’’سندِافتحار  ‘‘حاصل کی۔اس تقریب کی نظامت ڈاکٹر فلک فیروز نے کی۔اس کتاب پر وادی کے مشہور قلمکار جناب شاکرشفیع نے تبصرہ پڑھا۔تقریب کے اختتام پر صدرِجلسہ نے بصیرت آموز خطبہ دیااورکہا کہ ارشاد آفاقی کی یہ کتاب مجتبٰی شناسی میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی تقریب کا احتتام ہوا۔اس موقع پر جناب منصور احمد منصور صدر شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ارشاد آفاقی (پیرزادہ ارشاد احمد)شعبۂ اُردو کشمیر یونیورسٹی کے اُن ہونہار اور باصلاحیت طالبِ علموں میں شمار ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنا علمی و ادبی کام سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ انکساری، کم گوئی اور سادگی کے علاوہ اُن کی خاص خوبی یہ ہے کہ لکھنے سے زیادہ پڑھنے کا ذوق رکھتے ہیں۔ طالبِ علمی کے زمانے میں بھی بیشتر وقت کُتب خانوں میں گزارتے تھے۔ زیرِ نظر کتاب ’’ مجتبیٰ حسین بحیثیت مزاحیہ خاکہ نگار‘‘ اسی ذوقِ مطالعہ کا نتیجہ ہے۔ اُنہوں نے مجتبیٰ حسین کی مزاح نگاری کا بڑی خوش اسلوبی سے تعارف کرایا ہے اور اُن کی سوانح اور فن کا بھرپور جائزہ لیا ہے۔ اُنہوں نے مجتبیٰ حسین کے فن اور فنکار انہ پہلوئوں پر دلنشین انداز میں روشنی ڈالی ہے اور قارئین کو حقیقی طور پر اُن کی فنی و ادبی اہمیت سے آگاہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT