Wednesday , September 27 2017
Home / ادبی ڈائری / ارقامی : عہد قدیم کے ایک نامور شاعر

ارقامی : عہد قدیم کے ایک نامور شاعر

ظفر عالم قاسمی
عہد قدیم میں حیدرآباد میں بے شمار شعراء تھے ۔ ان میں بعض طالب شہرت نہ تھے اسی وجہ سے کتابوں میں ان کا تذکرہ نہیں ملتا ۔ بعض شعراء شہرت کے طالب تھے لیکن وہ اپنا کوئی دیوان مرتب نہ کرسکے اور بعض شعراء اپنے شیدائیوں کے مسلسل اصرار سے اپنا کلام مرتب کئے اور خود شائع کئے ۔ اسی سبب آج اردو دنیا میں ان کا نام زندہ ہے اور لوگ ان کے کلام سے مستفید ہورہے ہیں ۔ ان ہی میں سے ایک ارقامی حیدرآبادی ہیں ۔ وہ شیخ دارے صاحب کہلاتے تھے اور تخلص ارقامی تھا ۔ ارقام منقش دھاری دار چادر کی ایک قسم کو کہتے ہیں غالباً وہ اس طرح کی چادر زیب تن کرتے تھے اور اسی لئے ارقامی اپنا تحلص رکھا ۔ وہ فہمی سکندرآبادی کے شاگرد تھے ۔ فہمی ارقامی کو بیحد چاہتے تھے اور اپنے دیگر تلامذہ پر ان کو فوقیت دیتے تھے ۔

ارقامی اپنے عہد کے ایک نامور شاعر تھے ۔ ان کا چالیس صفحات پر مشتمل ایک مختصر دیوان ہے ، جسے اپنے احباب کی فرمائش پر مرتب کرکے خود طبع کرائے تھے ، اس کے علاوہ 8 صفحات مخمسات پر مشتمل ایک ضمیمہ ہے جس میں خماسی اشعار درج ہیں ۔ جس میں کسی میاں بیوی کے واقعہ کی عکاسی کی گئی ہے ۔ دیوان کے آخری چار صفحات دیوان کی طباعت اور اس کی تعریف پر مشتمل ہیں ،جن سے اس دیوان کی اشاعت کی تاریخ معلوم ہوتی ہے ۔ ان کا دیوان ’’دیوان ارقامی‘‘ کے نام سے مطبع نور دکن سکندرآباد سے 1899 میں شائع ہوا ۔ اور اس کے سرورق پر ان من الشعراء سحر البیان مرقوم ہے ۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری سحر انگیز اور وہ اپنے عہد کے نامی گرامی شاعر تھے ۔ ارقامی نے اپنے دیوان کے تعلق سے لکھا ہے کہ انہوں نے نہایت عرق ریزی سے اسے مرتب کیا اور کتابت و طباعت کے بعد شائقین ادب نے اس دیوان کی بیحد تعریف کی اور قابل قدر مجموعہ قرار دیا ۔ ارقامی کو خود اس کی اشاعت سے دلی مسرت حاصل ہوئی ۔ ان کا خیال تھا کہ شعری مجموعہ کی اشاعت سے زندگی میں ان کو شہرت حاصل ہوگی اور بعد وفات یہ ان کے لئے یادگار زمانہ بن جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔ آج وہ اسی دیوان سے زندہ ہیں اور زندگی میں اسی دیوان سے ان کو شہرت حاصل ہوئی ۔ ارقامی نے اپنے مجموعہ کلام کو یادگار قرار دیتے ہوئے یہ شعر کہا   ؎

دنیا میں زندگی کا کسے اعتبار ہے
ارقامی یہ کلام ترا یادگار ہے
ارقامی نے اپنے دیوان کی ابتداء اپنے استاذ فہمی سکندرآبادی کے حمدیہ اشعار سے کی ، جس کے چند اشعار یہ ہیں    ؎
جو ہے آقائے حقیقی رزق دیتا ہے مدام
روز و شب لازم ہے ہم کو اپنے آقا کی ثنا
اس کے بعد فہمی کے یہ اشعار نقل کئے ہیں جو انہوں نے مدحت رسول میں کہے ہیں   ؎
مدح خواں کیونکر نہ ہوں دل سے رسول اللہ کا
شان میں جن کی کہ مصحف ہے گواہ اللہ کا
بعد حمد حق مقرر نعت احمد ہے ضرور
جو خلیفے چار ہیں ، کرنا ہے ان سب کی ثنا
عشرہ جو ہیں مُبشّر وہ صحابائے رسولؐ
جان و دل سے کیجئے ہر وقت ان سب کی ثنا
فیض حیدرآباد کے استاذ الشعراء تھے اور فہمی ارقامی کے استاذ تھے ،چنانچہ درج ذیل شعر میں وہ ان دونوں کا یوں تذکرہ کرتے ہیں   ؎
فیضؔ فہمیؔ سے میں کیونکر نہ کہوں ارقامیؔ
بزم شعراء میں تو اب شرم ہماری رکھنا
ارقامی شعری دنیا میں اپنے حریفوں سے کبھی خوف زدہ نہ ہوئے چنانچہ ایک موقع پر وہ اپنے حریفوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں  ؎
مجھے ذبح کرکے وہ فرمارہے ہیں
یہ بسمل کا دیکھو تماشہ ہے کیا کیا
ارقامی کو پہلی بایر 1894ء میں ایک مشاعرہ میں شرکت کا موقع ملا تھا ۔ یہ مشاعرہ غالباً قاضی چھاؤنی سکندرآباد میں  منعقد ہوا تھا ۔ ارقامی نے اس مشاعرہ میں جو غزل پڑھی تھی ، اس کا یہ شعر بہت مشہور ہوا
کہے وہ گلے سے لپٹ کر شب وصل
کہو اور دل میں تمنا ہے کیا کیا
اور بقول شخصے ارقامی نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی ، قطعات ، رباعیات اور حمد و نعت کے علاوہ انہوں نے مرثیہ اور قصیدے بھی کہے ۔لیکن ان کے فن کا جوہر ان کی غزلوں کے ذریعے نکھر کر سامنے آیا اور ایک کامیاب غزل گو شاعر کی حیثیت سے وہ اردو حلقے میں مقبول ہوئے ۔

منشی سید امین الدین سکندرآبادی سابق مدرس مدرسہ تعلیم المعلمین حیدرآباد نے لکھا ہے کہ ارقامی کو استعارات و تشبیہات کے استعمال میں لیاقت غیر معمولی حاصل تھی ۔ ان کے استعارات و تشبیہات اور کنایات و محاورات اسی طرح ہیں ، جس طرح سرزمین دکن کے دیگر شعراء نے استعمال کئے ہیں ، تاہم شعر گوئی میں بلاغت ان کا ایک خاص وصف تھا ۔ ارقامی نے اپنی شاعری میں صداقت بیانی اور طبع روانی کا خاص خیال رکھا ہے کیونکہ یہ چیزیں فن شاعری کے لئے ضروری ہیں ، اسی سبب ان کے دوست و احباب ان کی شاعری کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان تھے اور اخیر میں دیوان ارقامی کی تعریف کرتے ہوئے منشی امین الدین نے یہ شعر پیش کیا ہے   ؎
چھپ گیا دیوان ارقامی خدا کے فضل سے
ہم نے پایا ہی نہیں اب تک نظیر اس کا کہیں
اور فہمیؔ کے ایک شاگرد سلیمان سکندرآبادی نے دیوان ارقامی کی تعریف میں یہ شعر کہا ہے    ؎
شاگرد ہے فہمی کا ارقامی نام اظہر
دیواں کیا مرتب بیشک بفضل خاور
ارقامی فہمی کے جانشین تھے چنانچہ استاد کی شاعری کا عکس ان کے کلام میں نظر آتا ہے اور اس بات کا اعتراف ارقامی نے خود کیا ہے ۔ مثلاً
دعا ہے کہ فزوں ہوجائے عمر حضرت فہمی
تو پایا فیض ارقامی تری استاد رہبر سے
مختصر یہ کہ ارقامی کی شاعری میں محبت اور وفا کے حسین تصورات و احساسات کے علاوہ مشرقی تہذیب کی جھلک بھی ہے ۔ وہ حیدرآباد میں پیدا ہوئے اور یہیں وفات ہوئی اور اسی کے ایک قبرستان میں سپرد کئے گئے اور اس کی خاک سے آج بھی ان کے وجود کی خوشبو محسوس ہوتی ہے ۔ یہ چند سطور ارقامی کی شاعری کے حوالے سے لکھے گئے ہیں ۔ اور مزید لکھنا باقی ہے   ؎
ارقامی تم سے ہوں نہ کبھی طے یہ منزلیں
دشوار راستہ ہے بیابانِ عشق کا

TOPPOPULARRECENT