Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / اروناچل اسمبلی متوازی اجلاس کے فیصلوں پر ہائی کورٹ کا التواء

اروناچل اسمبلی متوازی اجلاس کے فیصلوں پر ہائی کورٹ کا التواء

اسمبلی سے باہر اپوزیشن بی جے پی اور باغی کانگریسی ارکان اسمبلی کی تحریک عدم اعتماد منظور، عدالت کی گورنر پر برہمی
ایٹا نگر 17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) حالات کے ایک گھناؤنے موڑ میں اپوزیشن بی جے پی اور باغی کانگریس ارکان اسمبلی آج ایک مقامی ہوٹل میں ایک اجلاس منعقد کرتے ہوئے اروناچل پردیش کے چیف منسٹر نابن توپی کو اُن کے عہدہ سے رائے دہی کے ذریعہ برطرف کردیا اور اُن کی جگہ ایک باغی کانگریس رکن اسمبلی کو منتخب کیا لیکن گوہاٹی ہائی کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے اِس فیصلہ کو زیرالتواء رکھ دیا جو باغیوں کے ’’اجلاس‘‘ میں کیا گیا تھا۔ گورنر جے پی راج کھوا پر زبردست تنقید کرتے ہوئے ہائیکورٹ نے کل ریاستی اسمبلی کے تمام فیصلوں پر حکم التواء جاری کردیا جس میں اسپیکر نابن ریبیا کو اُن کے عہدہ سے برطرف کردیا گیا تھا۔ عدالتی حکمنامہ ایک درخواست رٹ پر سامنے آیا جو اسپیکر نے داخل کرتے ہوئے 9 ڈسمبر کے گورنر کے جاری کردہ اعلامیہ کو چیلنج کیا تھا۔ جس کے مطابق اسمبلی کا اجلاس جو 16 ڈسمبر کو منعقد تھا، 24 جنوری 2016 ء کو مقرر کردیا گیا۔ ڈرامائی سیاسی تبدیلیوں کے ایک دن میں باغی ارکان اسمبلی کے عارضی ’’اسمبلی‘‘ کے احاطہ میں جو ایک کمیونٹی ہال میں قائم کیا گیا تھا، اسپیکر نابن ریبیا کی ’’سرزنش‘‘ کی۔ 11 بی جے پی ارکان اسمبلی اور دو آزاد ارکان اسمبلی نے 20 کانگریس باغی ارکان کے ساتھ اتحاد کرکے ایک ہوٹل کے کانفرنس ہال میں عارضی اسمبلی احاطہ قائم کیا کیوں کہ اسمبلی کے احاطہ کو کل سے مہربند کردیا گیا تھا۔

آج ایک تحریک عدم اعتماد بی جے پی ارکان اسمبلی اور آزاد ارکان اسمبلی کی جانب سے پیش کی گئی، جسے منظور کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر ٹی ناربو ٹھونگ ڈوک کو جو ایک باغی کانگریسی رکن اسمبلی بھی ہیں، صدرنشین کی کرسی پر بٹھادیا گیا۔ 60 رکنی اسمبلی کے 33 ارکان بشمول 20 کانگریس کے باغی ارکان کا ایک اجلاس ایک ہوٹل کے کانفرنس ہال میں منعقد کیا گیا کیوں کہ اسمبلی کے احاطہ کو کل سے مہربند کردیا گیا تھا۔ جملہ 33 ارکان بشمول 20 ناراض کانگریسی ارکان اسمبلی نے بعدازاں ایک اور ناراض کانگریسی رکن اسمبلی کلک بوکل کو ریاست کا نیا چیف منسٹر منتخب کیا۔ چیف منسٹر نابم ٹوکی اور اُن کے 26 حامی ارکان اسمبلی نے اِس اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے اِسے ’’غیر قانونی اور غیر دستوری‘‘ قرار دیا۔ چیف منسٹر نے بعدازاں صدرجمہوریہ پرنب مکرجی اور وزیراعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے دستور کی سربلندی کے لئے مداخلت کرنے کی خواہش کی۔ کیوں کہ جمہوریت کا ’’قتل ہورہا تھا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی‘‘ اور ایک جمہوری منتخبہ حکومت کو گورنر جیوتی پرشاد راج کھوا نے نظرانداز کردیا تھا۔ گورنر کی کارروائی پر برہم ارکان نے جنھوں نے حکومت کو نظرانداز کرتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا، آج راجیہ سبھا میں کانگریس نے احتجاج کرتے ہوئے کارروائی مفلوج کردی جو گزشتہ دو دن سے مفلوج ہے۔ ہائیکورٹ میں جسٹس رشی کیش رائے نے کہاکہ بادی النظر میں یہ کارروائی گورنر کی جانب سے اسمبلی کے اجلاس کو موخر کرتے ہوئے 16 ڈسمبر 2015 ء کے بجائے 24 جنوری 2016 ء کو مقرر کرنا دستور کی دفعات 174 اور 175 ء کی خلاف ورزی ہے۔ یہ دونوں دفعات ریاستی اسمبلیوں کے اجلاسوں سے متعلق ہیں اور گورنر کے اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے حق کے بارے میں ہیں تاکہ وہ ایوان تک اپنے پیغامات پہنچا سکیں۔ نوٹس جاری کرتے ہوئے جسٹس رشی کیش رائے نے تمام فیصلوں کو زیرالتواء رکھ دیا جن میں ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے 14 معطل ارکان اسمبلی کی بحالی اور اجلاس کا ایک نئے مقام پر انعقاد اور کل اسمبلی اجلاس کی جانب سے کئے ہوئے فیصلے جن میں اسپیکر کو برطرف کردیا گیا تھا، شامل ہیں۔ جج نے درخواست گذار کپل سبل کو حکومت اروناچل پردیش کی بطور مدعی فریق پیروی کرنے کی اجازت دی۔ جج نے مقدمہ کی آئندہ سماعت یکم فروری 2016 ء کو مقرر کردی۔

 

اروناچل کی ایک ہوٹل میں تحریک عدم اعتماد
کانگریس کا سخت اعتراض ، موجودہ چیف منسٹر کے خلاف تحریک غیرقانونی
نئی دہلی ۔ /17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج اروناچل پردیش کے چیف منسٹر نابم ٹوکی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر سخت اعتراض کیا جو ایک ہوٹل میں پیش کی گئی اور اس کو بھی منظور بھی کرلیا گیا ۔ کانگریس نے اس طرح اپوزیشن زیراقتدار ریاستوں میں بھی اقتدار سے بے دخل کرنے کے کھیل کھیلنے کی دھمکی دی ۔ کانگریس کے قائد غلام نبی آزاد نے کہا کہ موجودہ چیف منسٹر کے خلاف یہ تحریک عدم اعتماد اور بی جے پی کی مدد سے ایک ناراض قائد کو چیف منسٹر منتخب کرنا وہ بھی ایک ہوٹل میں کیسے قانونی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ کیا گورنر اس کو قبول کریں گے اور کیا یہ دستور کے مطابق کارروائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس مرکزی حکومت اور گورنر کو مساوی طور پر اس معاملے کو پیچیدہ بنانے کا ذمہ دار سمجھتی ہے ۔ ان دونوں نے شمال مشرقی ہند کی ایک مستحکم ریاست میں حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے ۔ کیا یہاں کی تمام غیر بی جے پی حکومتوں کو اسے طرح اقتدار سے بے دخل کیا جائے گا ۔ کیا وزیراعظم نریندر مودی کا یہی تعاون پر مبنی وفاقی نظام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اور گورنر کو احساس ہونا چاہئیے کہ وہ چین کی سرحد سے متصل ایک حساس ریاست کو مخدوش بنارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمیونٹی ہال میں متوازی اسمبلی اجلاس منعقد کیا گیا اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے ۔ سکریٹریٹ کا کوئی رکن بھی موجود نہیں تھا ۔ گورنر آخر ایسی کارروائیوں کی کیسے اجازت دے رہے ہیں ۔ کل ہند کانگریس کے جنرل سکریٹری وی نارائن سوامی کے ساتھ غلام نبی آزاد  ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے  ۔

TOPPOPULARRECENT