Monday , August 21 2017
Home / سیاسیات / اروناچل میں صدر راج کی سفارش کو سپریم کورٹ میں چیلنج

اروناچل میں صدر راج کی سفارش کو سپریم کورٹ میں چیلنج

کانگریس کا اقدام ۔ صدر جمہوریہ سے بھی نمائندگی ۔ مرکز پر جمہوریت کو کچلنے کا الزام
نئی دہلی 25 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) پارٹی کے اقتدار والی ریاست اروناچل پردیش میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کے خلاف برہم کانگریس نے آج صدر جمہوریہ اور سپریم کورٹ کے دروازے کھٹکھٹائے ۔ پارٹی نے تمام غیر بی جے پی چیف منسٹروں کی تائید حاصل کرنے کی بھی کوشش کی اور اس نے دستور کو کچلنے مودی حکومت کی کوششوں کے خلاف باضابطہ جنگف کا اعلان کردیا ہے ۔ راجیہ سبا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دستور کو کچلا جا رہا ہے ۔ یوم جمہوریہ سے ایک دن قبل ہی مرکزی کابینہ نے ایسا فیصلہ کیا ہے ۔ ہم اس کے خلاف جنگ لڑینگے ۔ ہم پارلیمنٹ میں اس کا مقابلہ کرینگے ۔ عدالت میں لڑیں گے اور عوام کے ساتھ جائیں گے ۔ ہم عوام سے کہیں گے کہ کس طرح سے جمہوریت کو خطرہ میں ڈالا جا رہا ہے ۔ پارٹی وفد کے ساتھ صدر جمہوریہ سے ملاقات کے بعد غلام نبی آماد نے یہ استدلال پیش کیا کہ چین سے ملنے والی حساس سرحدی ریاست کیلئے کی جانے والی کارروائی نے تمام غیر بی جے پی ریاستوں کیلئے سنگین عواقب کو یقینی بنادیا ہے ۔ ان ریاستوں کو گورنرس کے ذریعہ عدم استحکام کا شکار کیا جائیگا ۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ان کی پارٹی تمام غیر بی جے پی جماعتوں کے ساتھ اس مسئلہ پر پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں مقابلہ کریگی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام غیر بی جے پی چیف منسٹروں نے کانگیرس کی تائید کی تھی جب گذشتہ سشن میں بھی اروناچل پردیش پر خطرات منڈلا رہے تھے ۔ پارٹی لیڈر کپل سبل نے جو ایک معروف وکیل ہیں کہا کہ یہ حیرت انگیز ہے کہ اروناچل گورنر نے ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کردی ہے جبکہ سپریم کورٹ میں ان کے وکیل نے یہ تیقن دیا تھا کہ جلد بازی میں کوئی کارروائی نہیں کی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کی کارروائی ہے ۔ ہم اس پر انصاف طلب کرینگے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس نے مرکزی کابینہ کے اس فیصلے کے خلاف پہلے ہی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے ۔ ایک یادداشت میں پارٹی نے صدر جمہوریہ سے کہا کہ یہ آزادی کے بعد پہلا موقع ہے کہ اس طرح سے ریاست میں صدر راج کی سفارش کی گئی ہے جبکہ اس تعلق سے سپریم کورٹ میں سماعت چل رہی ہے ۔ یادداشت میں تمام واقعات کا خلاصہ بھی پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کس طرح سے گورنر نے یہ غیر قانونی اقدام کیا ہے ۔ پارٹی نے صدر جمہوریہ سے اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ اس تعلق سے انصاف کرینگے ۔ صدر جمہوریہ کو پیش کردہ یادداشت پر چیف منسٹر اروناچل پردیش نابم ٹوکی اور صدر پردیش کانگریس پاڈی ریچو کے علاوہ غلام نبی آزاد ‘ ملکارجن کھرگے ‘ کپل سبل اور این نارائن سامی نے دستخط کئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT