Tuesday , August 22 2017
Home / اداریہ / اروناچل پردیش حکومت کی بحالی

اروناچل پردیش حکومت کی بحالی

گرنے کے بعد کر نہ مقدر سے تو گلہ
گر عقل ہے تو گرنے سے پہلے ہی تو سنبھل
اروناچل پردیش حکومت کی بحالی
مرکزی حکومت کو چند مہینوں میں دوسری مرتبہ سپریم کورٹ کے کسی فیصلے سے دھکا لگا ہے ۔ اگر یہ کہاجائے تو بھی بیجا نہیں ہوگا کہ سپریم کورٹ کے یہ دو فیصلے عملا مرکزی حکومت کی سرزنش کے مترادف ہیں۔ گذشتہ مہینوں اترکھنڈ میں ہریش راوت حکومت کو بحال کردیا گیا تھا اور اب اروناچل پردیش حکومت میں کو بھی بحال کردیا گیا ہے ۔ ان دونوں حکومتوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے بیدخل کردیا گیا تھا ۔ ان حکومتوں پر ایوان میں اکثریت نہ رکھنے اور دوسرے الزامات عائد کئے گئے تھے اور انہیں ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا بھی موقع نہیں دیا گیا تھا ۔ ان دونوں ریاستوں میں کانگریس کی حکومتیں تھیں اور مرکز میں نریندرمودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے انہیں نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا تھا ۔ بی جے پی اور مرکزی حکومت بارہا یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ اس ملک کو کانگریس سے پاک کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں عملی اقدامات کا آغاز کردیا گیا تھا اور کانگریس کو جہاں تنظیمی سطح پر اور انتخابی میدان میں صاف کرنے کی کوششیں کی گئیں وہیں اس کی عوامی منتخبہ حکومتوں کو بھی بیدخل کردیا گیا تھا ۔ کانگریس کے خلاف اقدامات کے جنون میں مرکزی حکومت قوانین و اصولوں کی پاسداری بھی نہیں کی بلکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ارونا چل پردیش کی ناہم ٹکی حکومت کے خلاف گورنر نے جو کچھ بھی فیصلے کئے تھے وہ سب دستور کے مغائر تھے اور ان تمام فیصلوں کو کالعدم قرار دیدیا گیا ۔ کسی بھی گورنر کی جانب سے غیر دستوری حرکات و سکنات کا سپریم کورٹ کے فیصلے میں ذکر کیا جانا معمولی بات نہیں ہوتی کیونکہ گورنر کا عہدہ خود دستوری عہدہ ہے اور وہ ریاست کے سربراہ ہوتے ہیں۔ اگر گورنر ہی دستوری عہدہ کا پاس و لحاظ نہ رکھیں اور غیر دستوری فیصلے کرنے لگیں تو ملک میں جمہوریت کو خطرہ ہونے کے اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے ۔ یہ در اصل جمہوری عمل کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے کیونکہ عوام اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے حکومتوں کا انتخاب کرتے ہیں اور اگر انہیں بیک جنبش قلم برطرف کردیا جائے تو یہ عوامی فیصلوں کی نفی ہوگی ۔ عملی طور پر ایسا کرنا عوام کے فیصلوں اور ان کی رائے کی ہتک کرنے اور توہین کرنے کے برابر ہے ۔
ہندوستان کے عوام اپنی جمہوریت اور جمہوری قوانین پر کامل یقین رکھتے ہیں لیکن جمہوری عمل سے عہدے حاصل کرنے والے اگر اسی عمل کی دھجیاں اڑانے لگیں تو پھر صورتحال ابتر ہوجاتی ہے ۔ اروناچل پردیش ہو یا اترکھنڈ ہو دونوں ہی ریاستوں میں مرکزی حکومت کے اقدامات کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا ہے ۔ یہ مودی حکومت کی اخلاقی شکست ہے اور حکومت کو سر عام اس کا اعتراف کرنے کی ضرورت ہے ۔ رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے کی بجائے حکومتیں خود بھی اپوزیشن جماعتوں کے قانون سازوں کو انحراف کیلئے اکسا رہی ہیں اور انہیں اپنی صفوں میںشامل کرتے ہوئے منتخبہ حکومتوں کا تختہ الٹا جا رہا ہے یا پھر اپنے اقتدار کو مستحکم بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے ۔ یہ سب کچھ جمہوری عمل کے مغائر ہے اور اس سے جمہوریت پر عوام کا ایقان متزلزل ہوسکتا ہے ۔ جس طرح سے اترکھنڈ اور اروناچل پردیش میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلوں کے ذریعہ عوامی منتخبہ حکومتوں کو بحال کیا ہے وہ قابل ستائش ہے اس عمل سے اور جمہوری و دستوری عمل کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ مرکز میں قائم ہونے والی حکومتوں کو بھی ان فیصلوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی پالیسیوں اور حکمت عملی کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے قانون اور دستور کی دھجیاں اڑانے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ اس سے ہر حکومت اور ہر جماعت کو گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔
اروناچل پردیش ہو یا اتر کھنڈ ہو بی جے پی نے اقتدار حاصل کرنے عقبی راستہ کو اختیار کرنے کی کوشش کی تھی ۔ یہ اقتدار کی ہوس ہی تھی کہ وہاں رائے عامہ کا احترام کئے بغیر حکومتوں کو بیدخل کردیا گیا ۔ دونوں ہی معاملات میں مرکزی حکومت کو منہ کی کھانی پڑی ہے اور وہاں غیر دستوری و غیر قانونی طریقوں سے بیدخل کردہ کانگریس حکومتوں کو عدالتوں کے احکام پر بحال کردیا گیا ہے ۔ یہ فیصلے مودی حکومت کیلئے ایک جھٹکا ہیں اور اس سے حکومت کو ہزیمت بھی ہوئی ہے ۔ ان فیصلوں کے بعد کم از کم مرکز کو ریاستوں کے امور میں بیجا مداخلت اور دستوری عہدوں کے بیجا استعمال کے سلسلہ کو روکنا چاہئے ۔ جہاں کہیں جس کسی جماعت کو عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعہ حکمرانی کا موقع فراہم کیا ہے انہیں عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے اپنی معیاد مکمل کرنے اور دوبارہ عوام سے رجوع ہونے کا موقع دیا جانا چاہئے یہی جمہوریت کی بنیاد ہے ۔

TOPPOPULARRECENT