Friday , September 22 2017
Home / سیاسیات / اروناچل پردیش میں صدرراج کی تنسیخ کی سفارش

اروناچل پردیش میں صدرراج کی تنسیخ کی سفارش

مرکزی کابینہ کا فیصلہ ، کانگریس کی درخواست پر سپریم کورٹ کا حکم التواء سے انکار

نئی دہلی ۔ 17  فبروری۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی کابینہ نے آج اروناچل پردیش میں صدر راج منسوخ کردینے کی سفارش کی ۔ ایک دن قبل سپریم کورٹ نے گورنر کو ریاست میں نئی حکومت کی حلف برداری پر حکم التواء جاری کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ وزیراعظم نریندر مودی کی زیرصدارت منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں صدرجمہوریہ کو سفارش پیش کی کہ 26 جنوری سے نافذ صدر راج اروناچل پردیش میں برخواست کردیا جائے ۔ کانگریس کے ناراض رکن کلیکھو پُل کی زیرقیادت 31 ارکان اسمبلی نے گورنر سے ملاقات کرکے سیاسی اعتبار سے کمزور ریاست میں نئی حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کیا تھا ۔ ان کے ہمراہ 19 باغی کانگریسی ارکان اسمبلی اور 11 بی جے پی ارکان اسمبلی کے علاوہ دو آزاد ارکان بھی تھے ۔ اس کے نتیجہ میں کانگریس سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر حکم التواء جاری کرنے کی گذارش کی تھی تاکہ نئی حکومت تشکیل نہ دی جائے اور جوں کاتوں حالت برقرار رکھی جائے تاہم سپریم کورٹ نے عبوری حکم التواء جاری کرنے سے انکار کردیا ۔ کانگریس کے ناراض ارکان پُل کی زیرقیادت گورنر سے ملاقات کرکے ریاست میں نئی حکومت تشکیل دینے کی خواہش کرچکے ہیں۔ سابق چیف منسٹر نابم ٹوکی کو مبینہ طورپر 60 رکنی اسمبلی میں 26 ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہے ۔ کانگریس کے 47 ارکان اسمبلی ہیں، اُسے اُس وقت زبردست دھکہ لگا جبکہ 21 ارکان نے بغاوت کردی ۔ 11 بی جے پی ارکان اور دو آزاد ارکان نے باغیوں کی تائید کی تاکہ حکومت تشکیل دی جاسکے ۔ بعد ازاں 14 باغی کانگریسی ارکان اسمبلی کو اسپیکر نے نااہل قرار دیا تھا ۔ سپریم کورٹ جو اروناچل پردیش میں صدر راج کے نفاذ کے خلاف درخواستوں پر غور کررہی تھی کہا کہ وہ گورنرس کے اختیارات تمیزی کی دستوری حیثیت کا جائزہ لینے کے بعد اُن درخواستوں کی سماعت کرے گی ۔

 

تاملناڈو اسمبلی سے اپوزیشن کا واک آوٹ

چینائی ۔ 17 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : تاملناڈو اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں بشمول ڈی ایم کے اور ڈی ایم ڈی کے نے بعض مسائل اٹھانے کی اجازت سے اسپیکر پی دھنپال کے انکار پر آج ایوان سے واک آوٹ کردیا ۔ وقفہ صفر ختم ہوتے ہی ڈی ایم کے رکن دورائی مرگن نے بعض مسائل اٹھانے کی کوشش کی ۔ لیکن اسپیکر نے اجازت سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ معاملہ ان کے زیر غور ہے اور جس پر بعد ازاں فیصلہ کیا جائے گا ۔ تاہم ڈی ایم ڈی کے اور لیفٹ پارٹی کے ارکان اسمبلی ڈی ایم کے کے ساتھ شامل ہوگئے اور اس مسئلہ پر فی الفور مباحث کے لیے اسپیکر سے اصرار کیا اور یہ ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور دھنپال سے بحث و تکرار کرنے لگے ۔ اس کے باوجود اسپیکر اپنے موقف پر اٹل رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے کسی بھی ریمارک کو ریکارڈ میں درج نہیں کیا جائے گا ۔ بالاخر اپوزیشن ارکان ایوان سے واک آوٹ کے لیے مجبور ہوگئے ۔

 

TOPPOPULARRECENT