Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / اروناچل پردیش کی طرح آسام میں بھی حکومت کو معزول کرنے کی کوشش

اروناچل پردیش کی طرح آسام میں بھی حکومت کو معزول کرنے کی کوشش

اقتدار پر قبضہ کیلئے گورنروں کو مہرہ بنانے کا الزام : ترون گوگوئی
گوہاٹی 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر آسان مسٹر ترون گوگوئی نے آج یہ الزام عائد کیاکہ اروناچل پردیش کے گورنر جیوتی پرساد راجکھوا نے پہاڑی ریاست میں سیاسی بحران کے دوران بی جے پی ایجنٹ اور آر ایس ایس پرچارک کا رول ادا کیا ہے۔ انھوں نے پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ مسٹر جے پی راجکھوا مرکزی حکومت کے تابعدار بن گئے اور بی جے پی اور آر ایس ایس ایجنٹ کی طرح کام کررہے ہیں اور راج بھون کو آر ایس ایس کے دفتر میں تبدیل کردیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ راجکھوا کو قاعدہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے پڑوسی ریاست کے دستوری سربراہ کی حیثیت سے فرائض انجام دینا چاہئے چونکہ وہ ایک بیوروکریٹ (چیف سکریٹری) رہ چکے ہیں اور وہ قانون اور دستوری تقاضوں کو بخوبی جانتے ہیں اور انھیں دستوری اصولوں کی تعمیل کرنی چاہئے۔ مسٹر ترون گوگوئی نے الزام عائد کیاکہ بی جے پی، دولت کے زور پر ایک منتخبہ حکومت کو معزول کرنے کی کوشش میں ہے اور بتایا کہ بی جے پی آسام میں بھی یہ کھیل کھیلنا چاہتی ہے جس کیلئے ہیمنت بسوا شرما کو مہرہ بنانے کے لئے انتخاب بھی کرلیا تھا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکی۔

گوکہ بی جے پی دیگر ریاستوں میں بھی حکومت کو گرادینے کی سازش کررہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی الزام عائد کیاکہ گورنر آسام پدمنابھا بالا کرشنا آچاریہ ریاستی حکومت کے خلاف منظم طریقہ سے رضاکارانہ تنظیموں (این جی اوز) کو اُکسا رہے ہیں۔ جیوتی پرساد راجکھوا آسام کے سابق چیف سکریٹری ہیں اور اروناچل پردیش اسمبلی کا اجلاس 14 جنوری کی بجائے 16 ڈسمبر کو ہی طلب کرلیا اور ایک کمیونٹی ہال میں بی جے پی کے حامیوں اور کانگریس کے باغیوں سے ساز باز کرکے چیف منسٹر اور اسپیکر اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو منظور کروالیا تھا۔ تاہم گوہاٹی ہائیکورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے ریاستی گورنر کی سرزنش کی اور انھیں مجلس وزارت کے مشورے سے فرائض انجام دینے کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر اور اسپیکر کی برطرفی پر حکم التواء جاری کردیا جس کے خلاف گورنر نے اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا اور اس فیصلہ سے ریاست میں سیاسی بحران پیدا ہوگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT