Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / اروناچل پر سپریم کورٹ کا فیصلہ دستور کے مخالفین کی شکست: صدر کانگریس

اروناچل پر سپریم کورٹ کا فیصلہ دستور کے مخالفین کی شکست: صدر کانگریس

مودی حکومت پر راہول گاندھی کی تنقید، بی جے پی کا محتاط ردعمل، تاریخی فیصلہ: سابق چیف منسٹر نابم ٹوکی
نئی دہلی۔13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس سونیاگاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی نے آج وزیراعظم نریندر مودی اور مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ سپریم کورٹ نے کانگریس پارٹی کی حکومت اروناچل پردیش میں بحال کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ دستور اور جمہوری معیاروں کی خلاف ورزی کرنے والوں کی یہ شکست ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ جو لوگ دستور کی گنجائشوں کو اور جمہوری معیاروں کو کچلتے ہیں، آج ان کی شکست ہوگئی ہے۔ نابم ٹوکی زیر قیادت کانگریس حکومت جنوری میں اقتدار سے بے دخل ہوگئی تھی۔ صدر کانگریس نے اس بے دخلی کو دستور ہند کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے جمہوریت کے مختلف اقدار کی جو دستور ہند میں موجود ہیں، مستحکم انداز میں ثابت ہوجائیں گے۔ مرکزی حکومت طاقت کا مزید ’’بے جا ا ستعمال‘‘ نہیں کرے گی۔ سونیا گاندھی نے کانگریس کے اس عہد کو دہرایا کہ وہ جمہوریت کے استحکام اور وفاقی ڈھانچے کے تحفظ کے لئے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جمہوری اقدار کو جو دستور ہند کا اٹوٹ حصہ ہے دوبارہ مسلمہ قرار دیتا ہے۔ اس سے مرکزی حکومت کی اقتدار کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

انہوں نے تاریخی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے جمہوری طریقہ سے منتخبہ حکومت جس کو غیر دستوری طور پر اقتدار سے بے دخل کردیا گیا تھا، دوبارہ قائم ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش کے عوام قابل مبارکباد ہیں۔ نائب صدر راہول گاندھی نے مودی پر تنقید کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ اب وزیراعظم کو سمجھ میں آگیا ہوگا کہ جمہوری اقدار کیا ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ایک تاریخی فیصلہ اور جمہوریت کی فتح قرار دیا اور کہا کہ یہ بی جے پی اور اس کی مرکزی حکومت پر ایک کاری ضرب ہے۔ سپریم کورٹ نے گورنر کے غیر دستوری فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے ریاست کی کانگریسی حکومت کو بحال کردیا ہے۔ اتراکھنڈ کے چیف منسٹر ہریش راوت جنہیں قبل ازیں سپریم کورٹ نے راحت رسانی کی تھی اور اس کے فیصلے کے بعد وہ دوبارہ اقتدار سنبھال چکے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں اپنا پیغام شائع کرتے ہوئے انہوں نے سپریم کورٹ سے اروناچل پردیش میں کانگریس حکومت کی بحالی پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ جمہوریت میں عوام کے یقین کو سپریم کورٹ نے بحال کردیا ہے۔

سابق چیف منسٹر اروناچل پردیش نابم ٹوکی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے جمہوریت کا تحفظ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ تاریخی ہے اس سے ملک میں صحتمند جمہوریت کی راہ ہموار ہوتی اور اس کا تحفظ ہوتا ہے۔ بی جے پی قائدین نے منتخبہ ریاستی حکومتوں کو غیر قانونی طور پر اقتدار سے بے دخل کرنا شروع کردیا تھا۔ سپریم کورٹ کا حکم نامہ اروناچل پردیش میں کانگریس کی منتخبہ حکومت کو بحال کرنا اور گورنر کے غیر دستوری حکم نامہ کو منسوخ کردینا قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کی راہ ہموار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کو فیصلہ عدالتی احکام اور پارٹی کے نظریہ کے مطابق کرنا ہوگا۔ بی جے پی کے قومی ترجمان نلن کوہلی نے گوہاٹی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ بی جے پی اروناچل پردیش کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا تفصیل سے مطالعہ کرنے کے بعد اپنے ردعمل کا اظہار کرے گی۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مودی کی عامرانہ حکومت پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ سپریم کورٹ نے مودی کی ڈکٹیٹرشپ پر قبل ازیں ہلکا سا طمانچہ لگایا تھا لیکن اس بار اس کے طمانچے میں شدت آگئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT