Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ارونا چل پردیش میں کانگریس حکومت کا احیاء ، عدالتی فیصلہ کا خیر مقدم

ارونا چل پردیش میں کانگریس حکومت کا احیاء ، عدالتی فیصلہ کا خیر مقدم

وزیر اعظم نریندر مودی مستعفی ہوجائیں ، محمد علی شبیر کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 13 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے اروناچل پردیش میں کانگریس حکومت کے احیاء کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا اور ٹی آر ایس و تلگو دیشم حکومتوں کے لیے بھی یہ فیصلہ خطرے کی گھنٹی قرار دیا ۔ آج یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ ملک میں قانون کا بیجا استعمال ہونے کی کوئی گنجائش نہ ہونے کا تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح کردیا ہے ۔ ماضی میں بھی اترکھنڈ میں صدر راج کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے کانگریس حکومت کے احیاء کی راہ ہموار کی تھی ۔ دونوں ریاستوں میں عوامی منتخب کانگریس حکومتوں کو برخاست کرتے ہوئے صدر راج نافذ کرنے کی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے مستعفی ہوجانے کا قائد اپوزیشن کونسل نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مشورہ دیا ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے کانگریس پارٹی کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں ۔ تلنگانہ میں سیاسی انحراف کرنے والے عوامی منتخب نمائندوں کے خلاف فیصلہ ہونے کی امیدوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گورنر نرسمہن تلنگانہ میں حکمران ٹی آر ایس کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے 47 ارکان اسمبلی ارکان پارلیمنٹ اور ارکان قانون ساز کونسل کے سیاسی انحراف کرنے کی ترغیب دینا کے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔ صرف 2 سال کے دوران 47 عوامی منتخب نمائندوں کو سیاسی انحراف کے لیے مجبور کیا گیا ہے ۔ کانگریس کی جانب سے سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے خلاف کارروائی کرنے کی شکایت کرنے کے باوجود اسپیکر اسمبلی مدھو سدن چاری اور صدر نشین قانون ساز کونسل نے ان کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے ۔ تاہم کانگریس پارٹی کو قوی امید ہے وہ سیاسی انحراف کرنے والوں کے خلاف اور کارروائی نہ کرنے والے گورنر ۔ اسپیکر اور صدر نشین کونسل کے خلاف سخت نوٹ لے گا ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے اترکھنڈ اور اروناچل پردیش سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بغور جائزہ لیتے ہوئے سیاسی انحراف کرنے والے عوامی منتخب نمائندوں کے خلاف کارروائی کرنے کی اسپیکر اور صدر نشین کونسل سے سفارش کرنے کا گورنر سے مطالبہ کیا اور چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو بھی زور دیا کہ اقتدار مستقل نہیں ہوتا اس بات کو یاد رکھیں ۔ سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے ملک کو یہ پیغام دیا ہے کہ قانون سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے ۔ قائد اپوزیشن نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ اسپیکر اسمبلی اور صدر نشین کونسل کی خدمات میں کوئی مداخلت نہ کریں ۔ سیاسی انحراف کے لیے اسپیکر اسمبلی مدھو سدن چاری اور صدر نشین کونسل سوامی گوڑ برابر کے ذمہ دار ہے اگر ان کی جانب سے بروقت کارروائی کی جاتی تو سیاسی انحراف کا رجحان نہیں بڑھتا تھا ۔ سپریم کورٹ نے دونوں ریاستوں میں سیاسی انحراف کرنے والے عوامی منتخب نمائندوں کے خلاف تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے ایک مثال قائم کی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT