Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / ارونا چل پردیش کے بسوں کے رجسٹریشن کی منسوخی، تما م بسوں کی ضبطی کا فیصلہ

ارونا چل پردیش کے بسوں کے رجسٹریشن کی منسوخی، تما م بسوں کی ضبطی کا فیصلہ

تلنگانہ و اے پی میں 300 بسوں کی آمدورفت، تلنگانہ اسٹیٹ کی بسوں کو منافع بخش بنانے کی مساعی
حیدرآباد۔/11جون، ( سیاست نیوز) ریاست ارونا چل پردیش میں رجسٹریشن کرواکر ملک کی مختلف ریاستوں بشمول ریاست تلنگانہ و آندھرا پردیش میں چلائی جانے والی 2+1 برتھس کی گنجائش رکھنے والی خانگی سلیپر بسوں کے رجسٹریشن کو منسوخ کردینے کا حکومت ارونا چل پردیش نے ہی فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ ارونا چل پردیش میں رجسٹریشن کروائی ہوئی زائد از 900 خانگی بسیں دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ و آندھرا پردیش میں چلائی جارہی ہیں۔ بالخصوص ریاست تلنگانہ میں ہی زائد از 300 ارونا چل پردیش کی رجسٹریشن کردہ سلیپر بسیں چلائی جارہی ہیں۔ اگر ان سلیپر بسوں کے رجسٹریشن خود ارونا چل پردیش حکومت منسوخ کردیتی ہے اور روز مرہ کی طرح مذکورہ بسیں ریاست تلنگانہ میں چلائی جانے کی صورت میں ان بسوں کو فی الفور ضبط کیا جاسکتا ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ اگر زائد از 300 ارونا چل پردیش کی رجسٹرڈ شدہ بسوں کے رجسٹریشن کی منسوخی پر چلانے کی کوشش پر ان تمام بسوں کی بہر صورت ضبطی عمل میں لائی جائے گی اور ان بسوں کی ضبطی کے بعد اس کا مکمل طور پر فائدہ تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو حاصل ہونے کا قوی امکان پایا جاتا ہے کیونکہ ٹی ایس آر ٹی سی خود اب ان تمام روٹس پر اپنے لکثرری بسیں چلاکر تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو زبردست نفع بخش بنایا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بتایا جاتاہے کہ نہ صرف ارونا چل پردیش بلکہ پڈوچیری، ناگالینڈ و دیگر ریاستوں میں اپنی بسوں کو رجسٹریشن کرواکر ان بسوں کو ریاست تلنگانہ بلکہ ریاست آندھرا پردیش میں چلانے سے دونوں ہی تلگو ریاستوں کی آمدنی متاثر ہورہی ہے جس کے نتیجہ میں تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن و اے پی ایس آر ٹی سی کو بھی زبردست نقصانات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ارونا چل پردیش میں رجسٹریشن کردہ سلیپر بسیں بالخصوص حیدرآباد تا وشاکھاپٹنم، حیدرآباد تا وجئے واڑہ، حیدرآباد تا بنگلور اور حیدرآباد تا شیرڈی چلائی جارہی ہیں۔ دیگر ریاستوں میں رجسٹریشن کرواکر دونوں تلگو ریاستوں میں بسوں کو چلانے کی ایک اہم وجہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش ریاستوں میں خانگی سلیپر بسوں کو صرف 1+1 برتھس کی گنجائش رکھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں دونوں تلگو ریاستوں کے خانگی آپریٹرس دیگر ریاستوں میں اپنی گاڑیوں کے رجسٹریشن کرواکر اپنی ہی ریاستوں میں ان بسوں کو چلاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ ارونا چل پردیش رجسٹریشن کی منسوخی کی اطلاع کے ساتھ ان تمام بسوں کو ضبط کرنے کی محکمہ ٹرانسپورٹ عہدیدار حکمت عملی مرتب کرنے میں مصروف ہیں اور منسوخ کرنے سے متعلق قاعدہ احکامات کی وصولی کے ساتھ ہی حکومت نے صلاح و مشورے حاصل کرکے چیف منسٹر سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے بعد ہی اقدامات کا آغاز کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر بسوں کی ضبطی سے قبل اپنی ان بسوں کیلئے 2+1 برتھس کی اجازت دینے کی صورت میں خانگی بس آپریٹرس کی جانب سے ریاست تلنگانہ کے رجسٹریشن کیلئے غور کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اگر ان تمام بسوں کے ریاست تلنگانہ میں رجسٹریشن ہونے پر ریاست تلنگانہ کی آمدنی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT