Thursday , October 19 2017
Home / اداریہ / اروند کجریوال اور مودی حکومت

اروند کجریوال اور مودی حکومت

رکھ زباں پر لگام صبر و سکوں
زیست کے خستہ حال پر نہ بگڑ
اروند کجریوال اور مودی حکومت
بی جے پی کے قائدین نے اپوزیشن اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے خلاف محاذ کھول کر انتقامی کارروائی کی بدترین مثال قائم کرنی شروع کی ہے۔ آر بی آئی گورنر رگھورام راجن کی دوسری میعاد کو ختم کرانے میں اہم رول ادا کرنے والے رکن پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے اب چیف منسٹر اروند کجریوال کے خلاف مہم شروع کی ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ اب میں رگھورام راجن کے بعد اروند کجریوال کا تعاقب کروں گا ، اروند کجریوال کے تعلق سے بی جے پی نے یہ مہم شروع کی ہے کہ کجریوال دراصل کانگریس کی پیداوار ہیں۔ کانگریس کے خفیہ یا شائیڈو چیف منسٹر ہیں۔ دہلی کے بی جے پی ایم پی مہیش گری نے چیف منسٹر دہلی کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی دھرنا اور بھوک ہڑتال شروع کی ہے۔ بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ اروند کجریوال کی ساری زندگی دھوکہ دہی میں گذری ہے۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق بی جے پی لیڈر مہیش گری پر جب قتل کا الزام عائد کیا گیا تو انہوں نے کجریوال کے خلاف ہی محاذ کھول دیا۔ مرکز کی سرپرستی میں جب کوئی لیڈر آواز اٹھاتا ہے تو اس کی حمایت کرنے والے گوشے آگے آتے ہیں۔ یہ موضوعات عوامی مباحث کا باعث بن جائیں تو پھر بی جے پی اپنے اصل مقاصد اور وعدوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ یہ بات بھی زیربحث ہے کہ آیا قتل کیس میں ملوث ایک شخص کو کجریوال کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاج کرنے کی اجازت کس طرح دی جاتی ہے ۔ کیا بی جے پی کا مجرمانہ نظام عدلیہ یہی ہے۔ مودی حکومت اپنے ارکان پارلیمنٹ کو مخالفین کے خلاف گمراہ کن مہم چلانے کی سرپرستی کررہی ہے تو ملک کو یہ پیام ملتا ہے کہ مودی حکومت ایک شخص کے قتل میں ملوث اور جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو چیف منسٹر اروند کجریوال کے گھر کے سامنے پہونچ کر احتجاج کرنے کی اجازت دیتی ہے اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت بھی قاتل کی حمایت کررہی ہے۔ این ڈی اے حکومت میں اگر مجرموں کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے تو اس طرح کا مسئلہ سنگین ہے۔ چیف منسٹر دہلی کی حیثیت سے اروند کجریوال نے مودی حکومت کے خلاف بھی محاذ کھول رکھا ہے۔ عوام کے سامنے مودی حکومت کی خرابیوں کو پیش کرنے سے ناراض مودی وزارت نے بھی جوابی محاذ کھولا ہے۔ اب سبرامنیم سوامی بھی کجریوال کی رہائش گاہ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیں گے۔ بی جے پی ایم پی پر کجریوال نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے قتل کیا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ اس الزام کے جواب میں بی جے پی ایم پی کا دھرنا اور احتجاج زور پکڑ رہا ہے۔ مودی کی ڈگری کو جعلی قرار دینے کے واقعہ کے بعد بی جے پی قائدین نے جواب میں اروند کجریوال کی آئی آئی ٹی ڈگری کو جعلی قرار دیا ہے اور چیلنج کیا گیا کہ آخر انہوں نے اس اہم انجینئرنگ انسٹیٹیوٹ میں کس طرح داخلہ لیا تھا۔ آر بی آئی گورنر رگھورام راجن کا تعاقب کرکے انہیں دوسری میعاد کیلئے برقرار رکھنے سے روکنے میں کامیاب ہونے کا فخر کرتے ہوئے سبرامنیم سوامی اب اروند کجریوال کا پیچھا کررہے ہیں تو حکومت اپنے اصل مقصد سے دور ہورہی ہے۔ عوام کی خدمت اور فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کی پالیسی ندارد ہوچکی ہے۔ ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے۔ ذخیرہ اندوزوں اور کالا بازاریوں کو ہر دور حکومت میں کھلی چھوٹ دی جاتی ہے۔ مودی نے عوام سے رشوت کے خاتمہ اور مہنگائی پر قابو پانے کے وعدہ پر ووٹ حاصل کیا تھا۔ اب دو سال گذرنے کے بعد عوام کو پتہ چل رہا ہے کہ مودی حکومت بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح عوام کو قیمتوں کے بوجھ سے چھٹکارہ دلانے میں ناکام ہے اور اس ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے وہ طرح طرح کے مختلف واقعات کو منظر عام پر لاکر میڈیا کے ذریعہ اپوزیشن کو بدنام کررہی ہے۔ عوام کو ان تمام خبروں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا مگر میڈیا خاص کر الیکٹرانک میڈیا کسی چیز کو پوشیدہ رکھتے ہوئے دوسرے غیرضروری مسائل کو اچھالتا ہے تو اس میں حکمراں پارٹی کی کارستانی عیاں دکھائی دیتی ہے۔ مرکز میں اس وقت جو کچھ سرگرمیاں ہیں، وہ عوام کو مہنگائی اور مسائل سے چھٹکارہ نہیں دلاسکتے۔ مودی حکومت اور ان کے وزراء کے علاوہ بی جے پی قائدین کو مخالفین کے خلاف اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے اپنے حلقوں کے عوامی مسائل کی یکسوئی پر توجہ دینا چاہئے۔ عوامی مسائل کو نظرانداز کرنے کی غلطیاں بی جے پی کو بھی کانگریس کی صف میں لاکھڑا کردیں گی تو عوام کے سامنے پھر تیسرے متبادل کے طور پر کوئی تیسری سیاسی طاقت کھڑی ہوگی اور اروند کجریوال یا ان کی طرح علاقائی قائدین کا محاذ بنتا ہے تو آنے والے دو سال کے اندر تیسری متبادل سیاسی قوت کو عوام پسند کرنا شروع کریں گے جب کسی بڑی طاقت کو عوام کا ساتھ ملتا ہے تو تبدیلی یقینی سمجھی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT