Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / ارون جیٹلی سارک وزرائے فینانس اجلاس کیلئے پاکستان نہیں جائیں گے

ارون جیٹلی سارک وزرائے فینانس اجلاس کیلئے پاکستان نہیں جائیں گے

وزیر اعظم مودی کو قطعی فیصلے کا اختیار۔ پاکستان جانا ‘ دوزخ میں جانے کے برابر ہے ۔ وزیر دفاع منوہر پریکر کا ریمارک
نئی دہلی 16 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر فینانس ارون جیٹلی امکان ہے کہ آئندہ ہفتے پاکستان میں منعقد ہونے والے سارک وزرائے فینانس کے اجلاس میں شرکت نہیں کرینگے ۔ اس فیصلے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں انتہائی ابتری کا پتہ چلتا ہے ۔ وزیر فینانس کے قریبی ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ مسٹر جیٹلی 25 و 26 اگسٹ کو پاکستان میں ہونے والے سارک وزرائے فینانس کے اجلاس میں شرکت نہیں کرینگے ۔ اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کیا جاسکتا ہے ۔ وزیر اعظم کے فیصلے کے بعد ہی اس کا باضابطہ اعلان کیا جائیگا ۔ اطلاعات میں یہ ادعا کیا گیا ہے کہ معاشی امور کے سکریٹری شکتی کانتا داس سارک اجلاس میں شرکت کرینگے ۔ جیسے ہی مسٹر جیٹلی کے سارک اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے امکانات کی اطلاع عام ہوئی وزیر دفاع مسٹر منوہر پریکر کا یہ کہتے ہوئے حوالہ دیا گیا کہ پاکستان جانا دوزخ جانے کے مترادف ہے ۔ پریکر نے ہریانہ میں ریواڑی کے مقام پر بی جے پی ورکرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی افواج نے پانچ دہشت گردوں کو پیر کے دن واپس بھیج دیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ پاکستان میں جانا ‘ نرک ( دوزخ ) میں جانا ایک ہی ہے ‘‘ ۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کرنے کی اپنی پالیسیوں کے عواقب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وزیر فینانس ارون جیٹلی کی جانب سے سارک وزرائے فینانس کے اجلاس میں عدم شرکت کا فیصلہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ پیش آئے واقعہ سے تجربہ کی بنیاد پر کیا گیا ہے ۔ راج ناتھ سنگھ نے 4 اگسٹ کو سارک وزرائے داخلہ کے اجلاس میں شرکت کی تھی ۔ اس کانفرنس میں راج ناتھ سنگھ اور پاکستانی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے جموں و کشمیر کی صورتحال پر ریمارکس کئے تھے ۔ دونوں وزراء بمشکل تمام ایک دوسرے سے مصافحہ کیا تھا اور وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کی جانب سے منعقدہ ظہرانہ میں راج ناتھ سنگھ نے شرکت نہیں کی تھی ۔ سارک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نے اپنی تقریر کے ذریعہ بھی ہندوستان کو اشتعال دلایا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر میں آزادی کی جدوجہد جاری ہے ۔

گذشتہ چند دنوں سے دونوں پڑوسی ملکوں کے مابین کشمیر کے مسئلہ پر لفظی تکرار بھی چل رہی ہے جبکہ وزیر اعظم مودی نے اپنی یوم آزادی تقریر میں کہا تھا کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ بلوچستان اور گلگت ۔ بلتستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جواب دے ۔ پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے مودی کے بیان پر کہا تھا کہ وزیر اعظم ہند کا بیان در اصل مسئلہ کشمیر اور کشمیر میں جاری حالات سے بین الاقوامی برادری کی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی کے بیان سے پاکستان کے اس الزام کی بھی توثیق ہوگئی کہ ہندوستان اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ بلوچستان میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے ۔ کشمیر میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔ برہان وانی کو پاکستان نے کشمیری لیڈر قرار دیا تھا اور بعد میںاسے شہید قرار دیا تھا ۔ کشمیر پر بات چیت کیلئے پاکستان کی پیشکش کو بھی ہندوستان نے مسترد کردیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT