Saturday , June 24 2017
Home / دنیا / ارون جیٹلی کا پاکستانی ہم منصب سے گرمجوشانہ مصافحہ سے گریز

ارون جیٹلی کا پاکستانی ہم منصب سے گرمجوشانہ مصافحہ سے گریز

ہند۔ پاک وزرائے فینانس کے درمیان سرد مہری،کشیدگی کا کھلا اظہار
یوکوہاما( جاپان )۔/6مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستانی فوج کے ہاتھوں دو ہندوستانی سپاہیوں کے سر قلم کئے جانے کے بعد ان کی نعشوں کی بے حرمتی کے بعد ہند۔ پاک تعلقات میں پیدا شدہ تلخیوں کا آج اس وقت صاف مظاہر ہ ہوگیا جب وزیر فینانس ارون جیٹلی نے یہاں منعقدہ ایک اجلاس میں شہ نشین پر موجود اپنے پاکستانی ہم منصب سے اکثر اوقات خیرسگالی میں سرد مہری لیکن چین کے ایک بیلٹ روڈ پراجکٹ کو پاکستان کی تائید کی جارحانہ انداز میں مخالفت کی۔ 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملے کے بعد جموں و کشمیر کے پونچھ میں پیش آئے پاکستانی فوج کے واقعہ کو جنوبی ایشیاء کا پہلا سنگین بحران قرار دیا جارہا ہے اور اس سے پیدا شدہ کشیدگی کے دوران دونوں ملکوں کے اہم قائدین کا پہلی مرتبہ کسی شہ نشین پر آمنا سامنا ہوا ہے۔ ارون جیٹلی اور پاکستانی وزیر فینانس محمد اسحاق ڈار سی این بی سی چینل بزنس نیوز کے زیر اہتمام ’’ ایشیائی اقتصادی تناظر: تجارت پر بات چیت ‘‘ کے زیر عنوان مباحثہ میں حصہ لینے والے چارمقررین میں شامل تھے۔یہ مذاکرہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے 50ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر منعقد کیا گیا تھا۔ ایک گھنٹہ کے مباحثہ کے دوران ارون جیٹلی اس نشست پر بیٹھے رہے کہ پاکستانی ہم منصب کے روبرو نہیں ہوسکے اور اختتام پر روایتی گروپ فوٹو لینے کے فوری بعد شہ نشین سے واپس لوٹ گئے۔ دونوں وزراء نے گرمجوشی سے مصافحہ بھی نہیں کیا۔ جیٹلی کو صرف ایک مرتبہ اُس وقت مسکراتا دیکھا گیا جب ان سے سوال کیا گیا تھا کہ سرکردہ امریکی ٹیکسی ادارہ اوبر کو ہندوستان میں دشواروقت سے گذرنا پڑ رہا ہے۔ جیٹلی نے جواب دیا کہ ’’ میرے خیال میں ان ( اوبر ) کیلئے ہندوستان میں بہت اچھا وقت چل رہا ہے۔‘‘ دونوں وزراء نے ہند۔ پاک کشیدگی یا دونوں ملکوں کے مابین تجارت کے بارے میں صحیفہ نگاروں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ اسحاق ڈار نے جب چین کو ماباقی یوروپ و ایشیاء سے مربوط کرنے چین کی ’’ ایک خطہ۔ ایک سڑک ‘‘ مساعی کی تائید کی ۔ جیٹلی نے یہ برہمی کے ساتھ کہا کہ اقتدار اعلیٰ کے مسائل کے ساتھ ہندوستان کی اس تجویز پر سنگین تحفظات  ہیں۔ جیٹلی نے کہا کہ ’’ میرے خیال میں اصولی طور پر رابطہ ایک اچھا نظریہ ہوتا ہے لیکن یہ تجویز چونکہ آپ ( پاکستان ) نے خصوصیت کے ساتھ پیش کی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اس سے دیگر کئی متعلقہ مسائل بھی مربوط ہیں اور اس فورم میں ان تمام پر بحث کرنا میں موزوں و مناسب نہیں سمجھتا۔‘‘

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT