Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ لیکن اردو اکیڈیمی ملازمین تنخواہوں سے محروم

ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ لیکن اردو اکیڈیمی ملازمین تنخواہوں سے محروم

تین ماہ سے رقم کی اجرائی عمل میں نہیں آئی ۔ رواں مالیاتی سال کے اختتام کیلئے صرف دو دن باقی
حیدرآباد۔/29مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں بھاری اضافہ تو کردیا لیکن تلنگانہ اردو اکیڈیمی کے ملازمین 3ماہ کی تنخواہ سے محروم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے مالیاتی سال 2015-16 کے بجٹ کی تیسرے اور چوتھے سہ ماہی کی رقم ابھی تک جاری نہیں کی اور آئندہ دو دن بعد نئے مالیاتی سال کا آغاز ہوگا اور مذکورہ مابقی بجٹ کی اجرائی کے امکانات ازخود ختم ہوجائیں گے۔ اردو اکیڈیمی کے تحت چلنے والے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے 178ملازمین گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ اگرچہ انہیں اردو اکیڈیمی سے اقلیتی فینانس کارپوریشن منتقل کردیاگیا لیکن تین ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی اردو اکیڈیمی کی ذمہ داری ہے۔ یہ ملازمین تنخواہوں کے سلسلہ میں حکومت اور اعلیٰ عہدیداروں سے مسلسل نمائندگی کرتے ہوئے تھک چکے ہیں لیکن ان کی کہیں بھی سنوائی نہیں ہوئی۔ شہر اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے یہ ملازمین تنخواہوں کیلئے بھٹک رہے ہیں لیکن حکومت اُن پر نئی زائد ذمہ داریوں کا بوجھ عائد کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ ان کے علاوہ اردو اکیڈیمی کے ہیڈ آفس کے ملازمین بھی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 2015-16میں حکومت نے 22کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا تھا جن میں 10کروڑ روپئے شادی خانوں اور اردو گھر کی تعمیر سے متعلق تھے۔ 12کروڑ کے بجٹ میں صرف 6کروڑ روپئے ہی دو مرحلوں میں جاری کئے گئے۔ اردو گھر شادی خانوں کے 5 کروڑ جاری ہوئے جو ضلع کلکٹرس کو روانہ کردیئے گئے لیکن حکومت نے بجٹ کے بغیر مزید 5 کروڑ روپئے کی منظوری اردو گھر شادی خانوں کیلئے دی ہے۔ اردو اکیڈیمی کیلئے جاری بجٹ میں تنخواہوں اور عمارتوں کے کرایہ پر 3کروڑ روپئے خرچ کئے گئے جس میں جشن تلنگانہ کے 50لاکھ شامل ہیں۔ حکومت نے2.5کروڑ روپئے شادی مبارک اسکیم کیلئے حاصل کرلئے اس طرح اردو اکیڈیمی کا حقیقی بجٹ صرف 9.5کروڑ روپئے رہ جاتا ہے۔ کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کی تنخواہوں کیلئے 25لاکھ روپئے درکار ہیں۔ بجٹ کی عدم اجرائی اور تنخواہوں کے مسائل کے سلسلہ میں حکومت سے بارہا نمائندگی کی گئی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ مالیاتی سال ہی بجٹ جاری ہوگا۔ جاریہ سال بجٹ کے دو سہ ماہی جاری نہیں کئے گئے۔ آندھرا پردیش میں ایک کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا گیا تھا اور مکمل بجٹ کی اجرائی کے باوجود وہاں کے اردو اکیڈیمی ملازمین تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔ اسی دوران حکومت نے اردو میڈیم کی سرکاری اور امدادی اسکولوں میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کیلئے فی کس 50ہزار روپئے کی امداد سے متعلق اسکیم کا اعلان کیا۔ اردو اکیڈیمی نے اس سلسلہ میں 500 اسکولوں کا انتخاب کرلیا ہے تاہم حکومت کی جانب سے 2.5کروڑ روپئے کی اجرائی کا انتظار ہے۔ اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں کس حد تک سنجیدہ ہے جبکہ تمام پریشان حال ملازمین کا تعلق غریب خاندانوں سے ہے۔ ارکان اسمبلی جنہوں نے اپنی تنخواہوں میں بھاری اضافہ کی تائید کی کاش اسمبلی میں تین ماہ سے تنخواہ سے محروم ملازمین کا مسئلہ بھی پیش کرتے۔

TOPPOPULARRECENT