Monday , September 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / ازدواجی اختلافات اور طلاق کی بڑھتی شرح؟

ازدواجی اختلافات اور طلاق کی بڑھتی شرح؟

محمد مظہر حسین ورنگلی

اخبارات میں شائع ہونے والے طلاق کے اعلانات اور ’’ضرورت رشتہ‘‘ کے کالموں میں لڑکے و لڑکیوں کے ’’عقد ثانی‘‘ کے اشتہارات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مسلم معاشرہ میں طلاق کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ عدالتوں میں زیر التواء جہیز ہراسانی (ڈوری کیس) کے مقدمات اور پولیس اسٹیشنوں میں مسلم جوڑوں کے ازدواجی نزاعات کی کونسلنگ کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسلم معاشرہ میں آج کل ازدواجی کشیدگیاں عروج پر ہیں۔ مسلم معاشرہ کی اس تشویشناک صورتِ حال کی وجوہات اور اس کے سدباب کی فکر کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
ماضی کے مسلمان اپنے بچوں کو پہلے قرآن پاک اور دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کو فوقیت دیتے تھے۔ اسلامی تعلیمات کی تکمیل کے بعد ہی بچوں کی دنیوی تعلیم پر توجہ دی جاتی تھی، لیکن آج یا تو قرآن اور دینی تعلیم کو ثانوی درجہ دیا جا رہا ہے یا پھر سرے سے اس کی اہمیت کو ہی نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج بڑی بڑی ڈگریاں رکھنے والے مسلم لڑکے اور لڑکیاں نہ تو دین کی بنیادی تعلیم سے واقف ہیں اور نہ ہی سیرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہم واقعات کا انھیں علم ہے، حتی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے ناموں تک سے واقف نہیں ہیں۔ اس افسوسناک صورت حال کے ذمہ دار والدین ہیں، جو اپنے بچوں کو دنیوی تعلیم دلانے میں تو غیر معمولی دلچسپی اور جوش و خروش کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن دینی تعلیم اور مادری زبان ’’اُردو‘‘ کے سلسلے میں مجرمانہ غفلت و لاپرواہی سے کام لیتے ہیں۔
موجودہ دور تعلیمی مسابقت کا ہے، اس مسابقت میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی شامل ہیں۔ حالانکہ پچاس سال قبل تک لڑکیاں تعلیمی میدان میں کافی پیچھے تھیں، لیکن آج لڑکیاں تعلیمی مسابقت میں لڑکوں سے آگے نکل چکی ہیں، جو قابل تعریف تو ہے، لیکن اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ تعلیمی مصروفیات کی وجہ سے نہ تو لڑکیاں گھریلو کاموں میں دلچسپی لیتی ہیں اور نہ ہی والدین لڑکیوں کی تربیت پر خاطر خواہ توجہ دیتے ہیں۔ چنانچہ امور خانہ داری سے ناواقف لڑکیاں شادیوں کے بعد مسائل سے دو چار ہوتی ہیں اور یہی مسائل ازدواجی زندگی میں اختلافات کا باعث بنتے ہیں، جو گزرتے وقت کے ساتھ مزید شدت اختیار کرلیتے ہیں، بالآخر نوبت طلاق تک پہنچتی ہے۔
آج کل لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے پیچھے والدین کا واحد مقصد یہ ہے کہ خدا نخواستہ کسی وجہ سے ازدواجی زندگی ناکام ہو جائے تو لڑکی کوئی ملازمت حاصل کرکے خود مکتفی ہوسکے۔ والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی اس مفروضہ سوچ کو بدلیں، ورنہ وہ اپنی لڑکیوں کی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ لڑکیوں کو تعلیم دلانے کا مقصد ’’ملازمت‘‘ ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ والدین کی یہ مذہبی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کو عصری تعلیم کے ساتھ ان کی دینی تعلیم اور تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ ساتھ ہی امور خانہ داری سے بھی انھیں آراستہ کریں، تاکہ وہ خوشحال اور کامیاب ازدواجی زندگی گزار سکیں۔ والدین اس بات کو فراموش نہ کریں کہ آج کی یہ لڑکیاں مستقبل کی نسلوں کی امین ہیں۔
اولاد اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین تعلیم و تربیت کا انتظام کریں۔ اولاد کی تعلیم و تربیت میں کسی بھی قسم کی کوتاہی اور لاپرواہی پر قیامت کے دن والدین سے باز پُرس ہوگی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین اعمال ایسے ہیں جن کا اجر و ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔ ایک صدقۂ جاریہ، دوسرا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرا صالح اولاد، جو والدین کے لئے مغفرت کی دعا کرتی ہے‘‘۔ یہ بھی فرمایا کہ ’’جسے اللہ تعالیٰ نے بیٹیوں سے نوازا اور اس نے انھیں دینی تعلیم دی، اچھی تربیت کی اور پھر ایک اچھے (دیندار) شخص سے اس کی شادی کردی، تو وہ بچیاں والدین کے لئے جہنم کی آڑ بن جائیں گی‘‘۔ یہ احادیث اولاد کی دینی تعلیم و تربیت کو واضح کرتی ہیں، لیکن افسوس کہ آج مسلمانوں کی اکثریت اس اہمیت کو فراموش کرچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT