Sunday , October 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / ازدواجی زندگی کی کامیابی کا راز

ازدواجی زندگی کی کامیابی کا راز

اس سماج میںعورت و مرد ایک دوسرے کی ضرورت ہیں، ہر دو کو ایک دوسرے کا محتاج رکھا گیا ہے، اس کائنات میں اللہ نے کئی ایک چیزیں جوڑ جوڑ بنائی ہیں، انسانوں میں دو صنف ہیںایک مرد، دوسری عورت اور یہ دونوں ایک دوسرے کا جوڑا ہیں، نظام فطرت میں ان کا بڑا رول ہے، دونوں مل کر ایک خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اسلام اور دیگر مذاہب میں عورت و مرد کو ایک رشتہ کی لڑی میں پرونے کیلئے نکاح و شادی کا نظم رکھا ہے جسکی وجہ دو نئے افراد ایک بنتے ہیں جن کو ’’دو جسم اور ایک جان‘‘ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، نکاح کے بندھن میں جوڑنے کیلئے پہلے بھی تقاریب نکاح و شادی منعقد ہواکرتے تھے لیکن وہ بڑی سادگی کیساتھ انجام پاتے تھے، اور ایک مرتبہ نکاح کا رشتہ قائم ہوجانے کے بعد عاقدین محبت کی ڈور میں بندھے ایسی مثالی زندگی گذارتے تھے جو قابل رشک ہوا کرتی تھی، شاذ و نادر ہی رشتے ٹوٹنے کی نوبت آتی تھی، وجہ یہ تھی کہ اس معاشرہ میں نفس و شیطان کا غلبہ بہت کم تھا، کبھی کوئی بات وجہ نزاع بن جاتی تو خاندان کے بڑے بزرگ اس کو حل کردیا کرتے تھے، ٹوٹنے کے قریب پہنچنے والا رشتہ پھر جڑ جاتا تھا، پچھلی کوتاہیوں کو بھول بھال کر وہ جوڑا پھر سے عملی زندگی میں مصروف ہوجایا کرتا تھا، اُس معاشرہ کی خاص بات یہ تھی کہ وہ پہاڑ جیسے مسائل بھی اگر پیدا ہوجاتے تو اس کو اپنی حکمت عملی سے رائی بنالیا کرتے تھے۔ اور اب بھی نکاح و شادی کی وجہ رشتے قائم ہورہے ہیں، شادیاں بڑے طمطراق کیساتھ انجام پارہی ہیں، سادگی تو بالکل رخصت ہوگئی ہے، ناروا رسومات کی پابندی، بیجا اسراف و فضول خرچی نے امت مسلمہ کو کھوکھلا کردیاہے، نکاح سنت ضرور ہے لیکن اِس سنت کی مجلس کو غیرشرعی اعمال و اشغال سے داغدار کرلیاگیا ہے، اِن سب خرابیوں کے باوجود آپس میں ہونے والا رشتہ تو اسلامی نقطہ نظر سے جائز ہوجاتا ہے

لیکن سابقہ ادوار میں رشتے جو تادم زیست نبھائے جاتے تھے اب تو نکاح کیساتھ ہی طلاق و خلع کی صدائیں گونجنے لگتی ہیں اور بکثرت شادیاں اپنے انجام کو پہنچنے سے پہلے پہلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیںجو ایک بری مثال قائم کررہی ہیں، رشتہ ٹوٹنے کی وجہ کوئی اہم اور گمبھیر نہیں رہتی بلکہ گھریلو چھوٹے موٹے مسائل اس کی وجہ بن جاتے ہیں، بعض انسانوں کی مزاجی شرپسندی رائی جیسے مسائل کو پہاڑ جیسے مسائل بنانے کا گر جانتی ہیں اور یہی مزاج اکثرازدواجی رشتوں میں دراڑ قائم کرنے کا ذریعہ بنتاہے، ان رشتوں کے ٹوٹنے میں کہیں شوہر کا کردار ہے تو کہیں بیوی کا، کہیں لڑکی کے ماںباپ اور بھائیوں کاتو کہیں لڑکے کے والدین اور لڑکے کی بہنوں کا۔ اکثر حالات میں شوہر نکاح کے بعد چند دن اپنی نئی نویلی دلہن کیساتھ رہتے ہیں پھر وہ بیرونِ ملک ملازمت کی وجہ اپنے ملک سے رخت سفر باندھ لیتے ہیں، ایک دوسرے کو ابھی سمجھنے پرکھنے کا مرحلہ باقی ہی رہتا ہے

اور ادھر ساس اور نندیں گھر آئی ہوئی نئی نویلی دلہن کو وہ مقام نہیں دے پاتے جو انسانی اور اسلامی نقطہ نظر سے اسکو ملنا چاہئے، بیچارا شوہر معاشی تگ ودو میں اپنوں سے دور قربانی دیتے ہوئے مصروف عمل رہتا ہے اور اِدھر سے شکوہ و شکایات کا سلسلہ لڑکے کی ماں اور بہنوں کی طرف سے شروع ہوجاتا ہے جسکی وجہ سے شوہر کا سکون درہم برہم ہوجاتا ہے اور وہ نہ تو وہاں چین و سکون سے رہ سکتا ہے نہ اپنے فریضہ کو عمدگی سے انجام دے سکتا ہے، پھر بیوی سے دوری اورصرف چنددن کی اس سے ملاقات کی وجہ اس کو سمجھ نہیں پاتابالآخر یہ قضیہ طلاق و خلع پر منتج ہوتا ہے اور کہیں تو رشتہ ٹوٹنے میں خود لڑکی کی نادانی اپنا رول ادا کرتی ہے، بعض مرتبہ لڑکیاں اِس حقیقت کو فراموش کردیتی ہیں کہ شوہر کے والدین بھی اپنا کوئی مقام رکھتے ہیں، ظاہر ہے والدین کے بغیر اس کے شوہر کے وجود کا کیا کوئی تصور ہوسکتا ہے؟جب ایسا نہیں ہے توپھر بیوی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ میرا شوہر، میری ساس و سسر کا بیٹا ہے، اس نسبت سے وہ بھی میرے ماںباپ ہیں، پھر ان دونوں کی نسبت سے میرے شوہر کے بھائی بہن بھی ہیں جو میرے لئے اپنے بھائی بہن ہی کی طرح قابل احترام ہیں، نکاح کی وجہ سے میرا حق ضرور قائم ہوا ہے لیکن جو رشتے اللہ نے پہلے ہی سے خاندانی اعتبار سے شوہر کے بنائے ہیں انکے حقوق بھی اسلام میں تسلیم شدہ ہیں، انکی پاسداری میں شوہر کا تعاون کرنے کیساتھ خود اِن رشتوں کو نبھانے کی جدوجہد ہی ازدواجی زندگی کو کامیابی کی شاہراہ پر پہنچاتی ہے، اسی طرح لڑکی کے سسرال والوں کو بھی یہ سبق یاد رکھنا چاہئے کہ انہوں نے کسی اور خاندان کی لڑکی کو اپنی بہو بنا کر اپنے گھر لایا ہے وہ کوئی خادمہ یا نوکرانی نہیں ہے، بہو ہونے کے ناطے اس نئے گھر کی وہ ملکہ ہے، اسکے بھی حقوق شوہر پر واجب ہوچکے ہیں، ان حقوق کی ادائیگی میں سسرالی رشتہ داروں کا فرض ہے کہ خوشدلی سے اس کے حقوق اس تک پہنچانے کی سعی کریں۔ اور کہیں لڑکی کے ماںباپ بھی جذبات کی رو میں بہہ کر غلط قدم اٹھاتے ہیں اور کہیں شوہر اپنی قوامیت کا ناروا استعمال کرتے ہیں، بیوی سے انکو کیا حق ملنا ہے اس کو تو خوب یاد رکھتے ہیں لیکن بیوی کا خود ان پر کیا حق ہے اس کو بھلا دیتے ہیں اور کبھی ساس، نند، بیوی کے اس تکون میں جناب شوہر صحیح فیصلہ نہیں لے سکتے، جذبات کی رو میں بہہ کر غلط قدم اٹھالیتے ہیں، اپنی ماں اور بہن کے موقف کو درست سمجھتے ہوئے بیوی پر ظلم ڈھانے لگتے ہیں۔ المختصر اُن کوظالم کے کٹہرے میں کھڑا کردیا جاتا ہے، اس موقع پر اپنی بہو کے ساتھ کیا جانے والا اپنا ظلم یاد نہیں آتا اور یہاں وہ اپنے آپ کو ظالم کے نہیں بلکہ مظلوم کے کٹھہرے میں کھڑی کرلیتی ہیں، یہ وہ دو رخی اور عملی نفاق کی صورت ہے جو بہت بڑا گناہ ہے۔ازدواجی تنازعات میں دونوں خاندانوں کی جانب سے اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی، بگاڑوفساد پیدا کرتی ہے، جب اختلاف آجاتا ہے تو ہمارے ہاں ایک دوسرے کی تحقیر، بدگمانی، بہتان تراشی وغیرہ جیسے غیراخلاقی طرز اختیار کرلیے جاتے ہیں جو آپس میں بجائے محبت کے، نفرت کے بیج بوتے ہیں۔ خدافراموشی و اُخروی بے خوفی کی وجہ انانیت و ہٹ دھرمی میاںبیوی کو جدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں، اخلاقی اقدار ہی سب کچھ ہیں، ان سے رشتہ توڑ کر معاشرہ پراگندگی کا شکار ہے اور جہاں اخلاقی و انسانی سلوک کی اہمیت ہوتی ہے وہیں خوش و خرم زندگی گزار سکتے ہیں اور حق سبحانہ و تعالیٰ کے ہاں بھی وہ مقام و مرتبہ پاسکتے ہیں، حدیث پاک میں ارشاد ہے ’’ایک بندہ اپنے حسن اخلاق سے وہ درجہ پالیتا ہے جو رات بھر نماز پڑھنے والوں اور دن بھر روزہ رکھنے والوںکو نصیب ہوتا ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT