Sunday , June 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اساتذہ زمرے کی کونسل نشست پر کل رائے دہی

اساتذہ زمرے کی کونسل نشست پر کل رائے دہی

8 اضلاع میں 126 مراکز رائے دہی کا قیام ، 12 امیدوار وں کے درمیان مقابلہ
حیدرآباد۔ 7مارچ (سیاست نیوز) اساتذہ کے زمرے کی کونسل نشست کے لئے رائے دہی کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں اور 9مارچ کو صبح8بجے تا 6بجے شام رکن قانون ساز کونسل کی نشست کیلئے رائے دہی منعقد ہوگی۔ ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر و کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بتایا کہ تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں اور مراکز رائے دہی پر عملہ کو 7مارچ کی شام روانہ ہونے کی ہدایت دیدی گئی ہے تاکہ رائے دہی میں کسی قسم کی کوئی تاخیر یا رکاوٹ نہ ہونے پائے۔ ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے بتایا کہ رنگا ریڈی‘ محبوب نگر اور حیدرآباد حلقہ کی اساتذہ زمرہ کی کونسل نشست کیلئے 8اضلاع میں 126مراکز رائے دہی قائم کئے گئے ہیں جن میں جملہ23ہزار 789رائے دہندے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ حیدرآباد میں 22مراکز رائے دہی قائم کئے گئے ہیں اسی طرح ضلع محبوب نگر 18‘ ضلع ونپرتی میں 6‘ ضلع گدوال میں 11‘ ضلع ناگرکرنول میں 14‘ ضلع رنگا ریڈی میں 27‘ ضلع وقارآباد میں18‘ ضلع میڑچل میں 10مراکز رائے دہی قائم کئے گئے ہیں ۔ کمشنر جی ایچ ایم سی نے بتایا کہ حیدرآباد میں 4541اساتذہ اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کریں گے جبکہ رنگا ریڈی میں 6528رائے دہندے موجود ہیں جو9مارچ کو اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام رائے دہندوں کو ووٹر سلپ روانہ کی جا چکی ہیں اور حکومت نے ان اضلاع میں جن تعلیمی ادارہ جات میں مراکز رائے دہی قائم کئے جا رہے ہیں انہیں 8اور 9مارچ کو تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ رائے دہی کے دوران تلبیس شخصی اور بوگس رائے دہی کو روکنے کے لئے شناختی کارڈ کا لزوم عائد کیا گیا ہے اور رائے دہندہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے قابل قبول شناختی کارڈ کے ساتھ اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکتا ہے۔ڈاکٹر بی جناردھن ریڈی نے بتایا کہ 9مارچ کو ہونے والے اساتذہ کی نشست کے انتخابات کے لئے 12 امیدوار میدان میں ہیں اور رائے دہی کے بعد 20مارچ کو رائے شماری ہوگی جس کے وکٹری پلے گراؤنڈ پر انتظامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کسی بھی رائے دہندے کومرکز رائے دہی میں سیل فون یا کیمرہ لیجانے کی اجازت نہیں رہے گی اور کسی بھی پارٹی کے امتیازی نشان یا سیاسی قائد کی تصاویر آویزاں کردہ گاڑیو ںکو مراکز رائے دہی سے 100میٹر کے حدود میں داخلہ کی اجازت حاصل نہیں رہے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT