Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / اساتذہ کی آمدنی اور جائیدادوں کا جائزہ

اساتذہ کی آمدنی اور جائیدادوں کا جائزہ

محکمہ تعلیمات تلنگانہ سے احکامات کی اجرائی، اساتذہ میں تشویش کی لہر
حیدرآباد۔18ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاست میں اساتذہ کی آمدنی اور ان کی جائیداد کے متعلق جانکاری حاصل کرنے کا حکومت تلنگانہ نے فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں محکمہ تعلیم کی جانب سے احکام جاری کرتے ہوئے تمام اساتذہ اور محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 10جنوری 2017سے قبل APRسالانہ جائیداد کے حسابات داخل کریں۔ حکومت آندھرا پردیش نے 1998میں فیصلہ کیا تھا کہ سرکاری اساتذہ کے سالانہ APRحاصل کئے جائیں لیکن اس فیصلہ کے بعد اس پر مؤثر عمل آوری نہیں کی گئی تھی جس کے سبب اب تک سرکاری اساتذہ کو APRکا ادخال لازمی نہیں تھا لیکن کمشنر محکمہ تعلیم تلنگانہ مسٹر جی کشن نے احکام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام اساتذہ اپنی جائیدادوں ‘ بینک میں جمع پونجی‘ اور اثاثہ جات کی تفصیلات محکمہ میں داخل کریں ۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ ان احکامات کے بعد اساتذہ برادری میں ناراضگی پائی جاتی ہے جبکہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کاکہنا ہے کہ اس عمل کے ذریعہ اساتذہ اور ان کے خاندان کی مجموعی آمدنی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ملک میں فی الحال آئی اے ایس ‘ آئی پی ایس‘ آئی ایف ایس ‘ اور سیکریٹری و ایڈیشنل سیکریٹری کے علاوہ بعض اہم محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازمین سے سالانہ جائیداد کی تفصیلات حاصل کی جاتی تھی لیکن موجودہ ریاستی حکومت کی جانب سے 1998میں کئے گئے فیصلہ پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لئے جو جواز پیش کئے جار ہے ہیں ان کے مطابق سرکاری اساتذہ کی آمدنی کا جائز ہ لیا جانا اس لئے ضروری ہو گیا ہے کیونکہ سرکاری اساتذہ اپنی خدمات کے ساتھ رئیل اسٹیٹ تجارت کے علاوہ دیگر ملازمتوں میں سرگرم ہوتے جا رہے ہیں جو قوانین کے مطابق درست نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کو اس بات کی بھی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ بیشتر سرکاری اساتذہ خانگی اور کارپوریٹ اسکولوں کے ذمہ داروں کے مشیروں کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اساتذہ برادری کو بدعنوانیوں سے پاک بنانے کیلئے کئے گئے اس اقدام کی کچھ تنظیموں کی جانب سے تائید بھی جا رہی ہے اور چند تنظیمیں اس فیصلہ کی مخالفت کر رہی ہیں اور اسے پیشہ تدریس کی توہین قرار دیا جا رہا ہے جبکہ محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انہیں موصولہ شکایات کے مطابق اساتذہ کی جانب سے جائیدادوں کی خریدی اور فروخت کے علاوہ اپنے سرکاری موقف کا غلط استعمال کرتے ہوئے دولت کے حصول کی روک تھام کیلئے یہ فیصلہ ضروری تھا اور اس فیصلہ کے مطابق تمام سرکاری اساتذہ کو 10جنوری سے قبل APRداخل کرنا لازمی ہوگا اور اے پی آر کے ادخال کے بعد ان کے اثاثوں ‘ اخراجات اور تنخواہ کا جائزہ لیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT