Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر عنقریب تقررات

اساتذہ کی مخلوعہ جائیدادوں پر عنقریب تقررات

ریاست کے طلبہ کا ریکارڈ آدھار سے مربوط ، اسمبلی میں کڈیم سری ہری کا بیان ،مطالباتِ زر منظور
حیدرآباد۔ 23 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ کے سرکاری مدارس میں اساتذہ کی مخلوعہ 8,792 جائیدادوں اور تمام اقامتی اسکولس میں 7,600 اساتذہ کی جائیدادوں پر تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ آئندہ 6 ماہ کے دوران تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔ اس طرح ساری ریاست میں 16 تا 17 ہزار اساتذہ کے تقررات ہوں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے آج اسمبلی میں یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ 8,792 جائیدادوں میں اُردو میڈیم اساتذہ کی 900 مخلوعہ جائیدادیں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کی ہدایت کے مطابق ریاست تلنگانہ میں طلبہ کا ریکارڈ آدھار سے مربوط کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارے ملک میں تلنگانہ کو طلبہ کا ریکارڈ آدھار سے مربوط کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ آج تلنگانہ اسمبلی میں مختلف محکمہ جات بشمول اسکول ، اعلیٰ و فنی تعلیم ، صحت و طبابت، جنگلات و ماحولیات ، لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ ، ہندو انڈومنٹ ، سیاحت ، معدنیات ، انڈسٹریز و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اسپورٹس کے مطالباتِ زر پر مباحث ہوئے اور انہیں رات دیر گئے منظور کرلیا گیا۔ کڈیم سری ہری نے مباحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت 28 لاکھ طلبہ سرکاری مدارس اور تقریباً 30 لاکھ طلبہ خانگی اسکولس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس میں بنیادی سہولت فراہم کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ہر اسکول میں 15 جون سے قبل طلباء و طالبات کیلئے کم از کم ایک علیحدہ ٹائلٹ کی تعمیر یقینی بنائی جائے گی اور حکومت نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے۔ تعلیمی شعبہ کیلئے بجٹ میں 12,705 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ ریاست کے سرکاری مدارس میں انگلش میتھوڈولوجی کلاسیس کی سہولتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئے تعلیمی سال سے مزید 5 ہزار سرکاری اسکولس میں اس طریقہ کار کا آغاز کیا جائے گا۔ 15 جون سے قبل تمام طلبہ کو یونیفارمس فراہم کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ جونیر کالجس میں دوپہر کے کھانے کے انتظامات کئے جائیں گے۔ جونیر کالجس میں داخلے آن لائن ہوں گے۔ ریاست میں 55 نئے ڈگری کالجس کے قیام کیلئے 206 کروڑ روپئے کے مصارف سے مستقل عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹیز میں انفراسٹرکچر سہولتوں کی فراہمی کیلئے 420 کروڑ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ ریاست میں جنرل ریسیڈنشیل اسکولس کے قیام کی تجویز بھی حکومت کے زیرغور ہے۔

TOPPOPULARRECENT