Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / اساتذہ کی ہراسانی سے دل برداشتہ طالبہ کی خود سوزی

اساتذہ کی ہراسانی سے دل برداشتہ طالبہ کی خود سوزی

کالج پر حملہ کے الزام میں 300 افراد کے خلاف کیس
گونڈا ( اترپردیش ) ۔ 13 ۔ اکٹوبر : (سیاست ڈاٹ کام ) : انٹرمیڈیٹ کالج پر حملہ اور توڑ پھوڑ کے الزام میں یہاں 300 افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے جب کہ کالج کے 3 اساتذہ کی جانب سے ہراسان کئے جانے پر 3 دن قبل ایک طالبہ نے خود سوزی کی کوشش کی تھی ۔ اس کی موت کے خلاف مقامی لوگوں نے پر تشدد احتجاج کیا تھا ۔ بعد ازاں پولیس نے 3 میں سے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا ہے ۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ مسٹر انیل کمار نے آج بتایا کہ ایک ملزم دیپک فرنانڈو کو کل رات گرفتار کرلیا گیا جب کہ دیگر 2 ملزمین آفتاب احمد اور راشمی کنپور کی تلاش جاری ہے ۔ مقامی لوگوں نے کل کالج کے احاطہ میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کردی اور ملزم اساتذہ پر حملہ کردیا تھا ۔ جس کے بعد پرنسپال 300 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کردیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ایک پرائیوٹ انٹر میڈیٹ کالج کی طالبہ نے جمعہ کے دن اساتذہ کی ہراسانی سے دل برداشتہ ہو کر کوتوالی علاقہ میں اقدام خود سوزی کرلی تھی ۔ ہاسپٹل میں علاج کے دوران اتوار کو اس کی موت واقع ہوگئی تھی ۔ طالبہ کے بیاگ سے برآمد ایک چھٹی میں یہ تحریر تھا کہ اساتذہ کی حرکتوں سے پریشان ہو کر وہ انتہائی اقدام کے لیے مجبور ہوگئی ہے ۔ جس کی بناء پر متوفی طالبہ کے والد نے 3 اساتذہ کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروائی ہے جس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایک ٹیچر دیپک کمار مسلسل ان کی لڑکی کو ہراساں کررہا تھا کالج کے عہدیداروں کو شکایت کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ اس واقعہ کے بعد ملزم اساتذہ کو معطل کردیا گیا ہے ۔ کالج پرنسپال ولیم پنٹو نے یہ اطلاع دی ہے ۔ سماجی تنظیموں اور مقامی لوگوں نے کل ایک تعزیت جلسہ اور ایک موم بتی جلوس نکال کر مذکورہ واقعہ کے خلاف احتجاج کیا تھا ۔۔

TOPPOPULARRECENT