Saturday , September 23 2017
Home / ادبی ڈائری / استادِ سخن ڈاکٹر فاروق شکیلؔ شخصیت و شاعری کے آئینے میں

استادِ سخن ڈاکٹر فاروق شکیلؔ شخصیت و شاعری کے آئینے میں

پروفیسر محمد علی اثرؔ
ڈاکٹر فاروق شکیل دکن کے نامور استادِ سخن حضرت سید نظیر علی عدیل مرحوم کے فرزند و جانشین ہیں۔ اس اعتبار سے شاعری انہیں ورثے میں ملی ہے ۔ حضرت عدیل کی تربیت و رہنمائی نے بچپن ہی سے ان کے اندر کے فنکار کو بیدار کردیا اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تخلیقی بصیرت جلا پاتی رہی ۔ ڈاکٹر فاروق شکیل کا شعری سفر 47 سال سے رواں دواں ہے ، ان کی پہلی نظم ’’چاند پر انسان‘‘ 1969 ء میں روزنامہ ’’ملاپ‘‘ میں شائع ہوئی تھی ۔ ڈاکٹر فاروق شکیل نے چونکہ ا پنے والد حضرت عدیل کے آگے زانوے تلمذ تہہ کیا تھا یہی سبب ہے کہ وہ عروضی و فنی نکات پرگہری نظر رکھتے ہیں اور شاعری میں مروج تمام قدیم و جدید اصناف میں طبع آزمائی کے جوہر دکھاتے ہیں۔ انہیں فن تاریخ گوئی جو کہ ایک مشکل ترین فن ہے ، پر بھی دسترس حاصل ہے، انہوں نے کئی مشاہیر ادب کے شعری مجموعوں پر خوبصورت تاریخیں نکالی ہیں جو ان کے مجموعوں میں شامل ہیں ۔ ان کا کلام ملک اور بیرون ملک کے متعدد رسائل و جرائد میں شائع ہوچکا ہے ۔ وہ کئی ادبی انجمنوں سے وابستہ ہیں۔ حال ہی میں عثمانیہ یونیورسٹی (UGC) کی جانب سے فن عروض پر منعقدہ کلاس میں بھی لکچر دے چکے ہیں اور اپنے تلامذہ کوبھی عروض کی تعلیم دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق شکیل کا پہلا مجموعی کلام ’’سفر سانسوں کا ‘‘ 1994 ء میں منظر عام پر آیا ۔ دوسرا مجموعہ کلام ’’شاخِ ثمر بار‘‘ 2015 ء میں شائع ہوا ۔ اس کے علاوہ ان کے تنقید و تبصروںکا مجموعہ ’’تنقیدات‘‘ 2005 ء میں شائع ہوا۔ انہوں نے اپنے والد کی دو کتابیں، نشاط الثانیہ ، (حمد و نعت) اور ’’محاوراتِ عدیل‘‘ بھی شائع کئے۔ ڈاکٹر فاروق شکیل پیشے کے اعتبار سے مرکزی حکومت کے پوسٹل ڈپارٹمنٹ میں سب پوسٹ ماسٹر کے عہدہ سے 2012 ء میں وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے۔ اپنی غیر شاعرانہ مصروفیات کے باوجود انہوں نے نہ تو شعر و ادب کے سوتوں کو خشک ہونے دیا اور نہ ہی اپنی تعلیم کے سلسلے کو منقطع کیا ۔ دوران ملازمت ہی انہوں نے ایم اے کر کے راست پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا اور اپنے دادا استاد حضرت صفی اورنگ آبادی کے دبستان پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ ڈاکٹر فاروق شکیل نہ صرف نمائندہ شاعر ہیںبلکہ نثر نگاری میں بھی انہیں ملکہ حاصل ہے۔ ان کی شاعری جتنی خوبصورت ہے نثر بھی اتنی ہی خوبصورت ہے۔ شعری مجموعوں پر ان کے تبصرے ان کی عروضی و فنی صلاحیتوں کے مظہر ہیں۔ تنقید بہت نرم لہجے میں کرتے ہیں اور یہ تنقید برائے اصلاح ہوتی ہے۔ اردو کے بیشتر شعراء کی طرح ڈاکٹر فاروق شکیل کا ابتدائی کلام روایتی حسن کا ترجمان ہے لیکن روایت میں بھی ان کے لہجے میں خوبصورتی نظر آتی ہے ۔ ان کی تخلیقی بصیرت اور مشق و مزادلت نے بہت جلد انہیں تازہ رجحانات اور عصری حسیت سے ہمکنار کر کے انفرادیت پانے والے شعراء کی صف میں شامل کردیا ہے ۔ ملاحظہ ہو۔
پہلے میں خود کو تھکانے کا ہنر سیکھ تو لوں
پھر یہ دیکھوں گا کہ تقدیر میں لکھا کیا ہے
اپنے اندر سے نکل آؤں میں کس کی خاطر
کوئی ملتا ہی نہیں جسم کے باہر اپنا
خطا پر ٹوکتا کوئی نہیں ہے
بدن کے گھر میں کیا کوئی نہیں ہے
لہو سے اُس کی سرخی چھین لی ہے
ہمارے دور کی آب و ہوا نے
صحن میں دیوار اُٹھنے ہی نہ دی
میں نے اُس کے نام ہی گھر کردیا
ڈاکٹر فاروق شکیلؔ نے اپنے احساسات و جذبات کو عام فہم زبان میں پیش کر کے دل نشین بنادیا ہے ۔ ان کا کلام جتنا دل نشین ہے ترنم بھی اتنا ہی دلنشین ہے ۔ بہت کم شعراء ایسے ہوتے ہیں جن کے اشعار زبان زد عام و خاص ہوکر ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق شکیل کے دو شعر ایسے ہیں جو زبان زد عام و خاص ہوکر ان کی پہچان بن گئے ہیں ۔ ملاحظہ ہو۔
زندگی سے کوئی دلچسپی نہ تھی ہم کو مگر
حادثے میں بچ گئے تو زندگی اچھی لگی
صحن میں دیوار ا ٹھنے ہی نہ دی
میں نے اس کے نام ہی گھر کردیا
ڈاکٹر فاروق شکیل نہ صرف غزل کے نمائندہ شاعر ہیں بلکہ نعت گوئی میں بھی انہوں نے اپنی الگ شناخت بنائی ہے ۔ ان کی نعتوں میں بھی عصری حسیت اور جدیدیت ہے۔
جس ارض مقدس پر ہیں نقش قدم اُنؐ کے
کرنے کیلئے سجدے گرتے ہیں وہاں آنسو
یاد اُنؐ کی عبادت ہے کرتا ہے عبادت دل
سناٹے میں جب شب کے دیتے ہیں اذاں آنسو
نعت سوچوں تو ذہن میں میرے
فکر احرام باندھتی ہے میاں
چٹائی کی فضیلت دیکھ کر مغموم ہے اتنا
کہ خود کو کوستا رہتا ہے مخمل یا رسولؐ اللہ
ڈاکٹر فاروق شکیل کو 2009 ء میں انڈین ایمبسی جدہ سعودی عرب کے مشاعروں میں بھی مدعوکیا گیا تھا ۔ اردو اکیڈیمی تلنگانہ کے 2013 ء میں ’’کارنامۂ حیات ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا اور خاک طیبہ ٹرسٹ جدہ نے بھی انہیں 2013 ء میں ایوارڈ سے نوازا ہے ۔ ان کے تلامذہ کا حلقہ بھی وسیع ہے ، اپنے تلامذہ سے ان کا برتاؤ انتہائی مشفقانہ ہے ۔ اتنی خوبیوں کے باوجود تکبر نام کی کوئی چیز ان میں نظر نہیں آتی۔ پیکر اخلاق وپیکر اخلاص ہیں۔ انتہائی مخلص اور نرم خو ہیں یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق شکیل ہردل عزیز ہیں۔ آخر میں ڈاکٹر فاروق شکیل کے چند خوبصورت اشعار پیش ہیں جو راست  ذہن و دل پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔
ہو انا حد میں تو پہچان بنادیتی ہے
حد سے بڑھ جائے تو نظروں سے گرادیتی ہے
اندر کے آدمی کو بھی زندہ رکھیں گے ہم
جب تک رہے گی جسم میں سانسوں کی جائیداد
شاخ سے ٹوٹے ہوئے برگ سے پو چھو یہ شکیل
اپنے مرکز سے بچھڑ جانے سے ہوتا کیا ہے
بے ضمیری نے دولت بہت دی مگر
کاٹتا ہے اسے نرم بستر بہت
اب کوئی بھی برا نظر آتا نہیں شکیل
شاید مرے وجود میں اچھائی بڑھ گئی

TOPPOPULARRECENT