Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / استاد اور طالب علم تعلیمی قوت کے دوسرچشمے :پروفیسر مظفر علی شہ میری

استاد اور طالب علم تعلیمی قوت کے دوسرچشمے :پروفیسر مظفر علی شہ میری

جامعہ رشیدیہ بمہور میں ’’قوت تعلیم ‘‘پر سمینار: وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالحق یونیورسٹی کا خطاب
اعظم گڑھ ۔ 18 ۔ مئی : ( پریس نوٹ ) : استاد اور طالب علم کے درمیان ایک گہرا رشتہ ہونا چاہیے کیونکہ بہتر رشتہ ہونے کی وجہ سے ہی طلبہ کی بہت سی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انھیں پروان چڑھانے میں مدد ملتی ہے اور یہ دراصل تعلیمی قوت کے دوسرچشمے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر عبدالحق یونی ورسٹی کرنول (آندھرا پردیش )کے وائس چانسلر اور اردو کے ادیب اور استاد پروفیسر مظفر علی شہ میری نے شبلی انٹرنیشنل ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ کے زیر اہتمام جامعہ رشیدیہ موضع بمہور میں 14 مئی کی شب تعلیم کی قوت کے عنوان سے ایک بین الاقوامی سمینار میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے کیا ۔سمینار کی صدارت مولانا محمد رضوان قاسمی نے فرمائی اور نظامت کا فریضہ ڈاکٹر محامد ہلال اعظمی نے انجام دیا اور حافظ محمد ابراہیم نے کلام پاک کی تلاوت کی۔جناب محمد حفیظ مبارک پوری نے اقبال سہیل کا نعتیہ کلام پڑھا ۔اس موقع پر پروفیسر مظفر علی شہ میری نے مزید کہا کہ استاد اور طالب علم دونوں کے الگ الگ دائرے ضرور ہیں مگر علمی قوت کو پروان چڑھانے کے لیے خلوص اور عمل پیہم کی ضرورت ہے ۔ابتدا میں ڈاکٹر محامد ہلال کانفرنس کے کنوینر نے مہمانوں کاخیر مقدم کیا اور بتایا کہ یہ تعلیمی کانفرنس دراصل اپنی بازیافت ہے اوراس ٹرسٹ کے ذریعے لوگوں میں تعلیم کے تئیں بیداری پیداکرنا ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ علمی کارواں کو مہمیز کرنے کے لیے ہی ممتاز علمی اور ادبی شخصیات کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔پروگرام کے دوران پروفیسر اشتیاق احمد ظلی (سید سلیمان ندوی ایوارڈ )پروفیسر مظفر علی شہ میری (افتخار اردو ایوارڈ )ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی(افتخار شبلی ایوارڈ)مولانا قمر الزماں مبارک پوری (افتخار اعظم گڑھ ایوارڈ )اور مولانا محمد ابصار الحق قاسمی (افتخار علما ایوارڈ )پیش کیا گیا ۔پروفیسر اشتیاق احمد ظلی تقریب سے غیر حاضر تھے ۔ ان کا ایوارڈ مولانا محمد عمیر الصدیق ندوی نے قبول کیا ۔ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے مطالعہ پر زور دیا اور کہا کہ علم کی قوت کا راز قوت مطالعہ ہے اس سے نہ صرف یہ کہ دماغی قوت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ایک نئی بصیرت ملتی ہے ۔مولانا محمد عمیر الصدیق ندوی نے جہاں منتظمین کو مبارک باد دی وہیں یہ بھی کہاکہ علم طاقت اور قوت کا ایک سرچشمہ ہے ہمیں اس سرچشمے سے سیراب ہونا بھول گئے ہیں ۔اس موقع پر انھوں نے علامہ شبلی کی تعلیمی عبقریت پر بھی روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر تعلیم سے متعلق مختلف موضوعات پر مقالے پڑھے گئے اور بتایاگیا کہ تعلیم کے گونا گوں پہلے ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا سکتا اور ترقی و برتری علمی طاقت کے سبب ہی ہے ۔اس موقع پر مدارس اور جدید دانش گاہوں کے نصابات اور معیار تعلیم پر بھی گفتگو ہوئی اور یہ بات بھی سامنے آئی کہ شبلی نے صدی پہلے جس تعلیمی نظام کا آغازکیا تھا اور جس طرح مدارس میں انگریزی اور سنسکرت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید سائنس کو نصاب کا حصہ بنایا تھا ضرورت ہے کہ اس کی روشنی میں موجودہ منظرنامہ کو سامنے رکھ کر نصاب ترتیب دیاجائے ۔تعلیم کے بارے میں مغربی و مشرقی مفکرین کی آرا اور موجودہ تعلیمی صورت پر بھی روشنی ڈالی گئی ۔ اس انٹرنیشنل کانفرنس میں متعد د مقا لہ نگا روں نے اپنے پر مغز مقا لے پیش کئے ۔جن میں قابل ذکر ڈاکٹر محمود مرزا ،ڈاکٹر عبدالقدوس ، مولانا عبدالمنان مظہر ،ڈاکٹر عبدالقیوم شمسی ،ڈاکٹر سراج احمد انصاری ، ڈاکٹر سمیہ تمکین ‘ڈاکٹر عمیر منظر ،مولانا مفتی محمد صادق،مفتی محمد یاسر قاسمی ،مولانا نسیم ظہیر اصلاحی ،مولانا ابو ہریرہ یوسفی ،مفتی جمیل احمد نذیری ڈاکٹر ایم نسیم اعظمی ،ڈاکٹر حمران المعروفی ،مولانا ارشاد الحق وغیرہ شامل ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT