Friday , June 23 2017
Home / Top Stories / استبول کی مسجد میں پیغمبر اسلامﷺ کے جبہ مبارک( چوغہ) کی زیارات

استبول کی مسجد میں پیغمبر اسلامﷺ کے جبہ مبارک( چوغہ) کی زیارات

استنبول کی ایک مسجد میں پیغمبر اسلام کا صدیوں پرانا جبہ (چوغہ) دیکھنے کے لیے آنے والے خواتین و حضرات کی علیحدہ علیحدہ طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔ شیشے کے ایک کیس میں رکھا گیا یہ مقدس چوغہ کپاس اور ریشم سے بنا ہوا ہے۔ترک زبان میں اسے ہیرکائے شریف (مقدس چوغہ) کہا جاتا ہے اور اسے سترہویں صدی میں استنبول میں لایا گیا تھا۔

اس وقت سعودی عرب سمیت اسلامی دنیا کے زیادہ تر حصوں پر سلطنت عثمانیہ کی حکومت تھی۔ہر سال رمضان کے مہینے میں پیغمبر اسلام کا یہ چوغہ خاص طور پر نمائش کے لیے استنبول کی ہیرکائے شریف مسجد میں رکھ دیا جاتا ہے، جسے دیکھنے کے لیے لاکھوں سیاح آتے ہیں۔

وہاں پر موجود ایک 78 سالہ خاتون نعمت شاہین کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، 146146میں یہاں گزشتہ برس بھی آئی تھی اور اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہی تو آئندہ برس بھی آؤں گی۔145145 وہاں پر موجود 76 سالہ عمر رسیدہ خاتون نازیہ پولات کا آنسو بہاتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے اس مقام پر آ کر جذبات ایسے ہوتے ہیں، جیسے لوگوں کی مکہ جا کر ہو جاتے ہیں، 146146میں یہاں ہر سال آتی ہوں اور میری ایسی ہی کیفیت ہوتی ہے۔ خدا کرے میرے دل کی یہ کیفیت برقرار رہے۔145145

یہ چوغہ ساتویں صدی میں اویس قرنی کے سْپرد کیا گیا تھا، جو پیغمبر اسلام سے ملاقات کرنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن یمن میں اپنی بیمار والدہ کی دیکھ بھال کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکے تھے۔

پیغمبر اسلام نے اویس قرنی کی کہانی سے متاثر ہو کر یہ چوغہ اپنے صحابہ کے ہاتھوں یمن میں بطور تحفہ انہیں بجھوایا تھا۔استنبول کے مفتی حسن کامل یلماز کا مزید کہنا تھا کہ اویس قرنی کے بچے نہیں تھے اور پھر یہ مقدس چوغہ ان کے رشتہ داروں نے محفوظ کیا تھا۔ سن 1611ء میں پہلے عثمانی سلطان احمد اس مقدس چوغے کو کوشاداسی سے استنبول لے آئے تھے۔

کوشاداسی ترکی کے مغرب میں واقع ایک علاقہ ہے، جہاں اویس قرنی کے رشتہ دار آباد تھے۔ مفتی حسن کے مطابق، 146146تب سے یہ ہیرکائے شریف (مقدس چوغہ) استنبول میں ہے۔145145 سن 1851ء میں سلطان عبدالمجید نے استنبول کے فاتح نامی علاقے میں ہیرکائے شریف مسجد تعمیر کی تاکہ اس مقدس چوغے کو محفوظ رکھا جا سکے۔ مفتی حسن کا کہنا تھا کہ اس کی صرف دو چابیاں ہیں، ایک فاؤنڈیشن کے پاس ہے اور دوسری اویس قرنی کے خاندان کے پاس ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT