Thursday , August 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / استسقاء کے مسائل

استسقاء کے مسائل

مرسل : ابوزہیر

۱۔استسقاء کی تعریف  :
(۱) استسقاء کہتے ہیں طلب باراں کو اور اصطلاح شرع میں خشک سالی کے وقت اللہ تعالیٰ سے بطریق مخصوص مینہ طلب کرنا استسقاء کہلاتا ہے گویا استسقاء دعاء اور استغفار ( گناہوں سے معافی چاہنا یا درخواست مغفرت ) ہے ۔ (۲) استغفار از روئے نص قرآنی مینہ برسنے کا سبب ہے ۔ چنانچہ ارشاد ہے : اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا o یُّرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَاراًo ( مغفرت چاہو اپنے رب سے کہ وہ بڑا بخشنے والا ہے تم پر کثرت سے مینہ برسائیگا)۔(سورہ نوح‘ آیت ۱۰ ‘ ۱۱ ) ۔
۲۔محل استسقاء  :
(۱) جہاں تالاب ‘ کنٹے ‘ نہر ‘ باؤلی وغیرہ آدمیوں کے پانی پینے ‘جانوروں کے پلانے اورکھیتوں کے سینچنے کو نہ ہوں یاہوں مگر ان میں پانی بقدر کافی نہ ہو اور اس کی شدید ضرورت ہو وہاں استسقاء مشروع ہے ۔ (یعنی ایسے مقام کے لوگ بارگاہ ایزدی میں بارش کے لئے دعاء مانگیں ) ۔ (۲) جہاں تالاب وغیرہ موجود ہوں اور پانی کافی ہو تو پھر استسقاء کیلئے نہ نکلیں کیونکہ استسقاء شدت ضرورت ہی کے وقت مشروع ہے ۔

۳۔طریق استسقاء :
(۱) استسقاء کیلئے مستحب یہ ہے کہ بادشاہ وقت لوگوں کو حکم دے کہ تین روز تک روزہ رکھیں ‘ گناہوں سے توبہ کریں ‘ مظالم سے باز آئیں ‘ حقداروں کے حقوق اداکریں ۔پھر چوتھے روز ضعیفوں اور بچوں کو لے کر صحراء کی طرف نکلیں ‘ اس طرح کہ سب پھٹے پرانے پیوند لگے مگر پاک کپڑے پہنے پاپیادہ سروں کو جھکائے ہوئے چلیں تاکہ ان کی صورتوں سے بھی عاجزی ‘ مسکنت ‘ خشوع و خضوع ظاہر ہو (برہنہ سر اور برہنہ پا ہوں تو بہتر ہے ) ۔ اور گھروں سے نکلنے کے بعد پہلے مقدور موافق خیر خیرات کریں ۔ ازسر نو توبہ و استغفار کرلیں ۔  مسلمانوں کیلئے دعائے مغفرت کریں اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں ۔ اسی طرح برابر تین روز تک صحراء کی طرف نکلیں اور ہر روز کمزوروں ‘ ضعیفوں اور بچوں کو ضرور ہمراہ لیں ۔ یہ بھی حکم ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کو ان کے ماؤں سے دور رکھیں تاکہ بچوں کے رونے چلانے اور فریاد و زاری کرنے سے لوگوں کو رقت ہو اور اس کی وجہ سے دریائے رحمت باری جوش میں آجائے ‘نیز جانوروں کو بھی ساتھ لے جانا مستحب ہے ۔ اور ان کے بچوں کوبھی ان کی ماوں سے جدا رکھنا چاہئے۔

۴۔ استسقاء اور نمازو خطبہ :
(۲) استسقاء میں جماعت کے ساتھ نماز مسنون نہیں ہے (علحدہ علحدہ پڑھ لیں تو مضائقہ نہیں ) اوراس میں خطبہ بھی نہیں ( صرف دعاء و استغفار ہے ) اور چادر لوٹانا بھی نہیں ۔ یہ مذہب حضرت امام اعظمؒ  کاہے لیکن صاحبینؒ کے پاس مسنون ہے کہ امام جماعت سے (بلااذان و اقامت) دو رکعت نماز پڑھائے اور دونوں رکعتوں میں قرائت جہر سے کرے اور افضل یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سَبِّحِ اسْمَ  رَبِکَ اْلاَعْلٰی اور دوسری رکعت میں ھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ پڑھے اور نماز کے بعد (تلوار یاعصاء پر سہارا دے کر زمین پر کھڑا ہو اور لوگوں کی طرف منہ کر کے دو خطبے پڑھے اور دونوں خطبوں کے درمیان جلسہ کرے اور اگرچاہے ایک ہی خطبہ پڑھے ۔ (خطبہ میں دعاء ‘ تسبیح ‘ استغفار اور مسلمانوں کے لئے دعائے مغفرت ہو ) جب تھوڑا سا خطبہ پڑھ چکے تو اپنی چادر لوٹائے ‘ اس طرح کہ (چادر مربع ہوتو اوپر کا رخ نیچے اور نیچے کا رخ اوپر کرے‘ یا مدور ہو تو داہنی طرف کا  کنارہ بائیں طرف اور بائیں کا کنارہ داہنی طرف کرلے)‘چادر صرف امام لوٹائے ۔ مقتدی نہ لوٹائیں) ‘ فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے ۔ (۳) جب امام خطبہ سے فارغ ہو تو قبلہ کی طرف منہ کر کے پھر اپنی چادر کو لوٹائے اورکھڑے ہوئے استسقاء کی دعاء میں مشغول ہو ۔ (۴) مقتدی خطبہ اور دعاء دونوں وقت قبلہ کی طرف منہ کئے بیٹھے رہیں ۔ خطبہ کے وقت خاموش رہیں اور دعاء کے وقت آمین کہتے جائیں ۔ (۵) امام کو چاہئے کہ کمزوروں ‘ ضعیفوں اور بچوں کا واسطہ دے کر دعاء مانگے اور دعاء کے وقت اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے ہاتھوں کو خوب بلند کرے  اسی طرح اور لوگ بھی ہاتھ اٹھائیں ۔ (۶) دعاء کیلئے ہاتھ اس طرح اٹھائے جائیں کہ ہتھیلیاں زمین کی طرف ہوں اور ان کی پشت آسمان کی طرف ( برخلاف اور دعاوں کے ) ۔ (۷) استسقاء کی دعاء ماثورہ ہو یعنی ان دعاؤں سے کوئی دعاء کی جائے جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں مثلاً ’’ اَللّٰـھُمَّ اَسْقِنَا غَیْثاً مُّغِیْثاً مَّرِیْعاً نَّافِعاً غَیْرَ ضَارٍّ عَاجِلاً غَیْرَ اٰجِلٍ‘‘ ۔ (۸) اگر استسقاء کو نکلنے سے پہلے بارش شروع ہو تو بھی مستحب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے شکریہ کے طورپر صحراء کی طرف بھیگتے ہوئے چلے جائیں تاکہ باران ِرحمت میں زیادتی ہو اور خاطر خواہ مینہ برسے ۔ (۹) اگر بارش کثرت سے ہو اور لگاتار سلسلہ جاری رہے جس سے نقصان کا خوف ہو تو اس کے بند ہونے کی دعاء کرناجائز ہے ۔ اس کی ماثورہ دعاء یہ ہے ’’ اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَ لَا عَلَیْنَا اَللّٰھُمَّ عَلَی الْاٰکَامِ وَ اْلاٰجَامِ وَ الظِّرَابِ وَ الْاَوْدِیَۃِ وَ مَنَابِتِ الشَّجَرِ ‘‘۔
(نصاب اہل خدمات شرعیہ حصہ پنجم)

TOPPOPULARRECENT