Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / استغفار میں دونوں جہاں کے فوائد مضمر

استغفار میں دونوں جہاں کے فوائد مضمر

استغفار میں دونوں جہاں کے فوائد مضمر

جس طرح تقلیلات اربعہ میں چار چیزیں کم کرنے کے لئے مجاہدے رکھے گئے ہیں، اسی طرح جزء ثانی تکثیرات اربعہ میں چار چیزوں کو زیادہ کرنے کے لئے مجاہدے ہیں۔ تکثیرات اربعہ کا پہلا مجاہدہ ’’استغفار‘‘ ہے۔ استغفار کرنے اور کرتے رہنے کا حکم اللہ تعالی نے دیا ہے، اس لئے یہ فرض اور واجب ہے۔ استغفار کے معنی ’’مغفرت مانگنا‘‘ ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے کہ ’’یااللہ! میرے گناہوں کو معاف فرما، اپنے عفو و کرم سے سرفراز فرما، مجھے اپنے دامن رحمت میں چھپالے‘‘۔
یہ ایک نہایت آسان مجاہدہ ہے، اس کے ساتھ اللہ تعالی نے کوئی شرط نہیں رکھی۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، ہر وقت استغفار کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس کی عادت ہو جائے تو ان شاء اللہ تعالی رذائل خود بخود ختم ہو جائیں گے اور تقویٰ کا مزاج پیدا ہو جائے گا۔ اللہ تعالی کی صحیح عبدیت نصیب ہوگی اور اس کی برکت سے گناہوں کا ارتکاب دشوار اور نیکیوں کا صدور آسان ہو جائے گا۔ قرآن مجید میں استغفار کے حکم کے ساتھ اس کے جو فوائد بتائے گئے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں: ’’اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ کر آؤ تو وہ ایک خاص مدت تک (دنیاوی زندگی میں) تم کو اچھا سامان حیات دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا‘‘ (سورۂ ھود) مطلب یہ ہے کہ تم کو دنیا میں اچھی طرح رکھا جائے گا، اس کی نعمتیں تم پر برسیں گی، تمھیں برکتوں سے نوازا جائے گا، خوشحالی اور فارغ البالی تم کو حاصل رہے گی، زندگی میں امن و چین نصیب ہوگا، دنیا میں عزت و آبرو کے ساتھ رہو گے اور جو شخص بھی اپنے کردار و عمل سے خود کو کسی فضیلت کا مستحق ثابت کرے گا، وہ فضیلت اس کو ضرور عطا کی جائے گی۔ یہ سارے فوائد استغفار اور رجوع الی اللہ کے ہیں۔

حضرت ھود علیہ السلام نے کہا: ’’اے میری قوم کے لوگو! اپنے رب سے معافی چاہو (استغفار کرو) اس کی طرف پلٹ آؤ، تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا اور تم کو مزید قوت عطا کرے گا‘‘ (سورہ ھود۔۵۲) موسلا دھار بارش، رزق فراواں اور فضل و کرم سے کنایہ ہے۔ بندہ جب استغفار کرتا ہے تو اس پر برکات اور انعام و اکرام کی بارش کردی جاتی ہے، آسمان پر اس کے لئے فضل و کرم کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، رزق حلال اور پاکیزہ رزق سے اس کی کفالت کی جاتی ہے، سکون کی نعمت اور اطمینان قلب کی دولت سے اس کو مالا مال کردیا جاتا ہے۔
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: ’’اے سے (یعنی اللہ تعالی سے) گناہوں کی معافی چاہو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، یقین رکھو کہ میرا رب قریب بھی ہے اور دعائیں قبول کرنے والا بھی‘‘ (سورۂ ھود۔۶۱) حضرت شعیب علیہ السلام نے کہا: ’’اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقین رکھو میرا رب بڑا مہربان اور محبت کرنے والا ہے‘‘ (سورۂ ھود۔۹۰) پھر اسی گروہ انبیاء میں حضرت نوح علیہ السلام کی آواز گونجتی ہے کہ ’’اپنے پروردگار سے استغفار کرو، یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے‘‘ (سورۂ نوح۔۱۰) اور پھر خود اللہ تعالی نے اعلان فرمادیا کہ ’’اللہ سے مغفرت مانگو، اللہ بڑا غفور رحیم ہے‘‘۔ (سورۂ مزمل۔۲۰)
استغفار کا ایک اہم ترین فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے بندوں پر اللہ تعالی کا عام عذاب نہیں آتا، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’اللہ ایسا نہیں ہے کہ (اے رسول) تمہاری موجودگی میں ان کو عذاب دے اور اللہ ایسا بھی نہیں ہے کہ ان کو ایسی حالت میں عذاب دے جب کہ وہ استغفار کر رہے ہوں‘‘ (سورہ انفال۔۳۳) اس آیت کریمہ میں عذاب عام سے تحفظ کے دو اسباب یا عذاب عام کے دو موانع بیان کئے گئے ہیں، ایک رسول کی موجودگی اور دوسرا استغفار۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے اور اللہ تعالی کا اصولی فیصلہ ہے کہ رسول کی موجودگی میں کسی قوم پر عام عذاب نہیں آتا۔ سابق انبیاء کرام کی قوموں پر آنے والا عام عذاب نبی کی موجودگی میں نہیں آیا۔ نوح علیہ السلام، لوط علیہ السلام اور شعیب علیہ السلام کی قوموں پر آنے والے عذاب اس وقت آئے، جب یہ انبیاء کرام ان میں موجود نہیں تھے۔ جب کسی قوم پر رسول کی موجودگی میں عذاب نہیں آتا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمۃ للعالمین ہیں، آپﷺ کی موجودگی عذاب عام سے مانع کس طرح نہ ہوگی۔ عذاب عام سے تحفظ کا دوسرا سبب اس آیت کریمہ میں ’’استغفار‘‘ بتایا گیا ہے۔ اگر لوگ استغفار کر رہے ہیں تو اس کی یہ کتنی بڑی برکت ہے کہ وہ اللہ تعالی کے عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔
قرآن کریم میں متقین کا ایک خاص وصف یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’’وہ سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں‘‘ (سورہ ذاریات۔۱۸) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’اگر تم میں سے کسی کے گناہ زیادہ ہو جائیں تو وہ سحر کے وقت یعنی فجر سے پہلے استغفار کرے۔ یہ گناہوں کا تریاق ہے۔ سحر کے وقت کا استغفار دین و دنیا دونوں کے فوائد کے حصول کے لئے بڑا مؤثر ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالی نے اپنے نیک اور پرہیزگار بندوں کے جو اوصاف بتائے ہیں، ان میں ایک اہم وصف سحر کے وقت استغفار بھی ہے، یعنی ’’وہ سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں‘‘۔ (آل عمران۔۱۷)
کشادگی رزق، خوشحالی اور فارغ البالی کے لئے سحر کے وقت کا استغفار بڑی تاثیر رکھتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’سحر کے وقت (یعنی وقت فجر سے پہلے) ’’سبحان اللّٰہ وبحمدہٖ سبحان اللّٰہ العظیم، استغفراللّٰہ‘‘ سو (۱۰۰) مرتبہ یعنی ایک تسبیح اگر پڑھتے رہو تو تمہارے پاس دنیا ذلیل ہوکر آئے گی‘‘۔ استغفار آخرت کے بے شمار فوائد کے ساتھ ساتھ دنیا کے لئے بھی نسخہ کیمیا ہے، یعنی استغفار دو دھاری تلوار ہے، اس سے صرف آخرت کا عذاب ہی نہیں، بلکہ دنیا کی تکلیفیں اور مصیبتیں بھی کٹ جاتی ہیں، اس سے دنیا کے دلدَّر بھی دور ہو جاتے ہیں۔ استغفار باعث رحمت بھی ہے، چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’تم استغفار کیوں نہیں کرتے؟ (کرو) تاکہ تم پر ہماری رحمتیں نازل ہوں‘‘ (سورۂ نمل۔۴۶) استغفار، رحمتوں کے خزانے کی کنجی ہے، لہذا اس کو نظرانداز کرنا یا اس سے غفلت برتنا بہت بڑی کم نصیبی ہے۔ (اقتباس)

TOPPOPULARRECENT