Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / استنبول میں امریکی قونصل خانہ پر فائرنگ ‘ پر تشدد واقعات میں 9 ہلاک

استنبول میں امریکی قونصل خانہ پر فائرنگ ‘ پر تشدد واقعات میں 9 ہلاک

قونصل خانہ پر دو خواتین نے حملہ کیا ۔ 51 سالہ خاتون کا خود سپردگی سے انکار ۔ ترک سکیوریٹی فورسیس کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا
استنبول / دیار باقر 10 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) استنبول آج خطرناک تشدد کی لپیٹ میںآگیا جبکہ امریکی قونصل خانہ پر دو خواتین کو گولی ماردی گئی جبکہ کم از کم آٹھ افراد ترک سکیوریٹی فورسیس پر کئے گئے حملوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ مہلوکین کی ترک سکیوریٹی اہلکاروں کی حیثیت سے شناخت ہوئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ترک حکومت کی جانب سے داعش اور بائیں بازو کے تخریب کاروں کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کے چند ہفتوں کے اندر یہ حملے ہوئے ہیں۔ گذشتہ مہینے داعش کے خلاف شروع کی گئی فوجی کارروائی کے بعد سے ترکی میں سخت ترین چوکسی برتی جا رہی تھی ۔ ترک افواج نے ملک میں سینکڑوں مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار بھی کیا ہے ۔ خود کار رائفلوں سے لیس پولیس دستوں نے امریکی قونصل خانہ کے اطراف کے علاقہ کی ناکہ بندی کردی ہے ۔ یہ ناکہ بندی فائرنگ حملے کے بعد کی گئی ہے ۔ حملہ کا عینی شاہد ہونے کا دعوی کرنے والے ایک مقامی شہری احمد اکے نے بتایا کہ ایک خاتون نے سکیوریٹی عہدیداروں اور قونصل خانہ کے عہدیداروں کو نشانہ بناتے ہوئے چار تا پانچ راونڈ فائرنگ کی ہے ۔ پولیس اس خاتون کو ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دے رہی تھی لیکن اس خاتون نے خودسپردگی اختیار نہ کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ یہ حملہ در اصل دو خواتین نے کیا تھا ۔ پولیس نے انہیں کئی بار ہتھیار ڈالنے کی ترغیب دی اور بعد میں گولی مارنے کا انتباہ بھی دیا ۔ خاتون نے پولیس کو فائرنگ کرنے کا چیلنج کیا ۔ استنبول گورنر کے دفتر سے بتایا گیا کہ بعد میں ایک خاتون کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ ڈوگن خبر رساں ادارے نے کہا کہ زخمی خاتون کی عمر تقریبا 51 سال ہے اور وہ بائیں بازو کے نظریات والی انقلابی پیپلز لبریشن آرمی کی رکن ہونے کے علاوہ جیل کی سزا بھی کاٹ چکی ہے ۔ اس تنظیم کو امریکہ اور ترکی میں دہشت گرد تنظیم قرار دیدیا گیا ہے ۔ امرکی قونصل خانہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ہم ترک حکام کے ساتھ اس واقعہ کی تحقیقات میں مل کر کام کر رہے ہیں۔ قونصل جنرل کو آئندہ اطلاع تک عوام کیلئے بند کردیا گیا ہے ۔ استنبول شہر کے دوسری جانب دھماکو مادوں سے لدی ایک گاڑی کو ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیلئے استعمال کیا گیا ۔ اس واقعہ میں تین پولیس عہدیدار اور سات عام شہری زخمی ہوگئے ہیں۔ ایک حملہ آور اس دوران ہلاک ہوگیا جبکہ دو دوسرے اور ایک پولیس عہدیدار بعد میں ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے ۔ استنبول گورنر کے دفتر نے یہ بات بتائی ۔ براڈکاسٹر سی این این ترک نے کہا کہ یہ عہدیدار بم دستہ کا سینئر رکن تھا جسے حملہ کی تحقیقات کیلئے روانہ کیا گیا تھا ۔ فائرنگ کا تبادلہ آج صبح سلطان بیلی ضلع میں بھی عمل میں آیا جو بحر باسفورس کی ایشیائی جانب ہے ۔ حملہ کی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن امریکی سفارتی مشن اور پولیس اسٹیشنوں کو اکثر بائیں بازو کی انقلابی تنظیم نشانہ بناتی رہی ہے ۔ کہا گیا ہیکہ سرنک ضلع میںترک پولیس کے چار عہدیدار لب سڑک بم حملہ میں ہلاک ہوگئے ۔ اس دوران ایک اور واقعہ میں ایک ترک سپاہی اس وقت ہلاک ہوگیا جب کرد عسکریت پسندوں نے ایک فوجی ہیلی کاپٹر پر راکٹ لانچروں سے حملہ کیا جبکہ وہ فوجی جوانوں کو منتقل کر رہا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT