Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / استنجاء کے شرعی مسائل

استنجاء کے شرعی مسائل

مرسل : ابوزہیر نظامی

استنجا ء کی تعریف : مقام نجاست (آگے یا پیچھے) سے نجاست کے دور کرنے کو استنجاء کہتے ہیں ( استنجا ء آبدست یا طہارت لینا ان سب کا ایک ہی مطلب ہے ) ۔
استنجا ء کے احکام : (۱)استنجا ء کرنا سنت موکدہ ہے ۔ جبکہ نجاست اپنے نکلنے کی جگہ سے پھیل نہ گئی ہو ۔ اور اگر پھیل کر درہم برابر ہوگئی ہو تو اس کا دھونا واجب اور درہم سے زائد ہو تو فرض ہے ۔ (۲) خالی پیشاب کے بعد استنجا ء کرنا مستحب ہے (۳) فصد لینے ‘ ہوا نکلنے اور سوکر اٹھنے کے بعد استنجاء کرنا بدعت ہے ۔ (۴) استنجاء ڈھیلے اور پانی دونوں سے کرنا چاہئے ۔ اگرچہ صرف ڈھیلے یا پانی پر اکتفاء کرنے سے بھی سنت ادا ہو جاتی ہے ۔لیکن دونوں کا جمع کرنا افضل ہے ۔(۵) پانی سے استنجا کرنے میں یہ ضروری ہے کہ تنہائی ہو اور اگر بغیر لوگوں  کے سامنے ستر کھولے استنجاء ممکن نہ ہو تو پانی سے استنجاء ترک کر دے۔ (۶) استنجاء میں ڈھیلوں کی کوئی تعداد مسنون نہیں بلکہ پاکی  و صفائی  شرط ہے ۔خواہ ایک سے ہو یا زیادہ سے البتہ مستحب ہے کہ طاق ہوں اور کم سے کم تین ہوں۔ (۷) اگر کسی مرد کے ہاتھ شل ہوگئے ہوں یا لنجا ہو تو اس کی بی بی استنجاء کرا دے ۔ اسی طرح بی بی معذور ہو تو شوہر کرائے اور اگر بی بی یا شوہر نہ ہو تو استنجا ء معاف ہے ۔

جن چیزوں سے استنجاء جائز ہے : استنجا ء مٹی کے ڈھیلے ‘ پتھر ‘ ریت اور پانی سے تو سنت ہے ۔ان کے علاوہ ہر اس چیز سے جو پاک ہو اور نجاست کو دور کرسکے جائز ہے ۔(البتہ جن چیزوں سے آدمی یا جانور نفع اٹھائیں جیسے کھانے کی چیزیں ‘ جانوروں کا چارہ ‘ درختوں کے پتے یا جو چیزیں قیمت دار یا قابل احترام ہوں  جیسے کپڑا یا کاغذ (لکھا ہوا خواہ سادہ ) یا وضو کا بچا ہوا یا زمزم کا پانی ‘ ان چیزوں سے استنجا ء کرنا مکروہ ہے ۔ نیز پختہ اینٹ ‘ ٹھیکری ‘ کوئلہ ‘ لوہا ‘ کانچ  ‘ ہڈی ‘ چونہ غیر کی دیوار ‘ لید اور کل ناپاک چیزیں  اورجس ڈھیلے یا پتھر سے استنجا ء ہو چکا ہو ان تمام چیزوں  سے استنجاء مکروہ ہے ) ۔
(نصاب اہل خدمات شرعیہ، حصہ سوم)

TOPPOPULARRECENT